ایک بوتل۔۔۔۔۔ایک زندگی

 زندگی اور موت کے درمیان موجود پگڈنڈی پہ سفر طے کرنیوالے وہ معصوم چہرے میرے دل میں گھر کر گئے۔اُن کی آنکھوں میں حسرت و یاس کے ساتھ اُمید کے دیے جگمگا رہے تھے۔وقت کی بے رحم آندھی سے لڑنے والی اُن نوخیز کلیوں کا حوصلہ چٹان تھا۔میری مراد تھیلے سیمیا جیسی موذی بیماری سے جنگ لڑنے والے معصوم بچے ہیں۔گذشتہ دنوں مختلف رپورٹس دیکھنے کا انکشاف ہوا ۔تمام تر تحقیق اور مختلف ویڈیوز دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ہماری رگوں میں دوڑتا خون کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔

دنیا بھر میں عالمی دن برائے انتقال خون 14جون کو منایا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس دن کو منانے کا مقصد رضاکارانہ طور پہ خون عطیہ کرنیوالوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے.2014 کی تحقیق کے مطابق 60 ممالک میں خون کی ضروریات 100فیصد عطیات سے پوری کی جاتی ہے جبکہ 73 ممالک میں ابھی بھی خون کی ضروریات پیسوں سے خون خرید کر پوری کی جاتی ہیں۔

معروف اخبار دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خون عطیہ کرنے کی شرح 1فیصد سے بھی کم ہے جو کہ خون کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہے۔خون کے دیے گئی عطیات نہ صرف حادثات اور قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے کام آتے ہیں بلکہ اسی کے ساتھ ساتھ مہلک امراض جیسے تھیلے سیمیا،کینسر ،ہیموفیلیا اور زچگی میں بھی کسی کی زندگی کا پروانہ ثابت ہوتے ہیں۔خون عطیہ کرنے والوں میں HIV،ہیپٹائٹس  اور خون کے انفیکشن یا امراض کے واقع ہونے کی شرح بہت کم ہوجاتی ہے۔بےشک یہ کام نہ صرف صحت کے لئے مفید ہے بلکہ یہ انسانیت کی لازوال خدمت ہے۔

طبی حقائق کی بات کی جائے تو تقریبا ڈیڑھ پائو خون سے چار انسانی جانیں محفوظ کی جاسکتی ہیں۔بعض اوقات خطرناک حادثات کے نتیجہ میں ایک ہی فرد کو دس سے زائد خون کی بوتلوں کی فوری ضرورت پیش آجاتی ہے جس کا انتظام کرنے کے لئے اکثر اوقات لواحقین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بسا اوقات بروقت خون کی فراہمی نہ ہونے کے باعث مریض کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔

تھیلے سیمیا فائونڈیشن پاکستان کے مطابق پاکستان کی آبادی کا چھ فیصد حصہ تھیلے سیمیا کا شکار ہے اور آگاہی نہ ہونے کے باعث اب تک لوگ اس مرض سے مکمل طور پہ آشنا نہیں ہیں۔اس مرض کے شکار مریض کو مستقل ماہانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پہ خون کی تبدیلی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔یہ تکلیف دہ عمل تقریبا 8 گھنٹے پہ محیط ہوتا ہے۔لہذا  خون کی مستقل فراہمی ان مریضوں کی بنیادی ضرورت ہے۔

طبی  تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں موجود RBC’s یعنی خون کے سرخ خلیے ہر 120 دن کے بعد تبدیل ہوتے ہیں لہذا انسان کو ہر تین ماہ کے وقفہ کے بعد اپنا خون ضرور عطیہ کرنا چاہیے۔ہمارے معاشرے میں اردگرد بہت سارے لوگ خون کے عطیات کے مستحق ہیں۔خلق خدا کے جذبہ سے سرشار کئی ادارے اس اہم معاملے پہ خدمات فراہم کر رہے ہیں۔خون کی عدم دستیابی کے باعث کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا اُنکا کیس پیچیدہ ہوجاتا ہے۔تھیلے سیمیاکے مرض میں مبتلا معصوم بچے اس کی عملی مثال ہیں۔ان معصوموں کو مستقل بنیادوں پہ خون کی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ذرا سوچیے کہ ہمارا کوئی عزیز اس موذی مرض میں مبتلا ہوجائے یا کسی حادثے کا شکار ہوجائے تب ہمیں بھی ضرورت پیش آئے گی اور شاید اُسی وقت ہمیں خون عطیہ کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔میری آپ تمام افراد سے التماس ہے کہ وقتا فوقتا خون عطیہ کرنے کا اہتمام ضرور کیجئے۔آپکا دیا ہوا خون کسی بھی معصوم کی جان بچا سکتا ہے۔آپ کا دیا گیا خون کسی کی زندگی میں اُمید کی رمق بن سکتا ہے۔آئیے اس کارخیر میں اپنا پھرپور حصہ ڈالیں۔

حصہ

1 تبصرہ

Leave a Reply to Ehsan ul haq جواب منسوخ کریں