حضرت مہدی ؑ موعود

’’حضرت مہدی ؑ ہمارے نبی پاک ﷺ کا وہ ’وعدہ ‘ہیں جوقیامت کے نزدیک پورا ہوگا ۔اُن کے بارے میں کثرت سے احادیث موجود ہیں ۔۔حضرت مہدی کی آمد بالکل سر پر آن پہنچی ہے ،جس قدر غلیظ اخلاقی اقدار اور جنسی روایات فروغ پا رہی ہیں ،جس قدر ظلم اور بے انصافی کا ماحول ہے اور اللہ کے چاہنے والوں کو جس بے دردی سے کنارے لگا کر شیطانی دجالی نظام قائم کیا جارہا ہے یہ سب اس بات کی (علامت ) ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مداخلت  اب ناگزیر(ہو چکی ) ہے (کیونکہ ) بات (اب ) انسان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے ۔مسلم امہ نے بھی بنی اسرائل کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالی ٰ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اللہ کی آخری کتاب عملی طور پر کسی خطے میں رائج نہیں ہے ،ذاتی یا معاشرتی  زندگی میں اس کا  عملی نفاذ ممکن نہیں رہا ۔انسان چاہے جتنا بھی اس کتاب پر عمل پیرا ہونا چاہے کہیں نہ کہیں سود سے واسطہ پڑ ہی جاتا ہے ۔کسی نہ کسی بے حیا عورت پر نظر پڑ ہی جاتی ہے اور ۔۔جائز کام کے لیے (بھی) رشوت دینی (ہی ) پڑتی ہے ۔۔لہٰذا قیامت کی کئی نشانیوں  کے پورا ہونے کے بعد ۔۔اب وہ وقت (بہت قریب )آتا ہوا محسوس ہو رہا ہے جب (ظلم کی جگہ عدل و قسط کے نظام کے قیام کا نبوی وعدہ )حضرت مہدی موعود (کی آمد کے ساتھ پورا ہو جائے )جب قرآن کو زندہ کیا جائے گا اور اسے دوبارہ (پوری طرح ) نافذ العمل کیا جائے گا ۔۔کچھ راز قرآن کریم کے (سائنس کی ترقی کے نتیجے میں )آج کھل رہے اور کچھ حضرت مہدی آکر کھولیں گے کہ پھر پوری دنیا پر اللہ (کے دین کی ) حکمرانی ہوگی ۔شیطان جو آج (ہر طرف ) دندناتا (پھر رہا ہے ) منھ چھپاتا پھر رہا ہوگا ۔ یہ میرے پاک نبی ﷺ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا ۔(اس وقت ) حضرت مہدی ؑ کو جھٹلانے والوں کی مثال ابو جہل اور ابو لہب کی سی ہوگی ۔(وقت کے تمام دجالوں سے آخری اور فیصلہ کن جنگ میں فتح حضرت مہدیؑ ہی کی ہوگی )۔وہ مسلمانوں کو’ ایک فرقہ اور ایک امت ‘میں تبدیل کر دیں گے اور اس وقت کے صرف وہی مسلمان جنت میں جائیں گے جو حضرت مہدی ؑ کے ساتھ ہوں

گے ۔گزشتہ تیس برسوں میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہ اس بات کی علامت ہے کہ قیامت اب دور نہیں ۔

یہودیوں میں ایک بہت بڑی جنگ کا دنیا کے خاتمے سے پہلے ہونا درج کیا جاتا ہے جسے وہ ’آرما گیڈان ‘(ہر مجدون ) کہتے ہیں ۔(ہمارے یہاں ۔الملحمۃ ا لکبریٰ یا الملحمۃ ا لعظمیٰ  کے نام سے اسی جنگ  کا تذکرہ ملتا ہے )یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہوگی جو (ابلیس کے نمائندے ) دجال اور(اللہ کے نمائندے ) حضرت مہدی ؑ اور ان  کے (اعوان و انصار  کے)درمیان لڑی جائے گی ۔ حضرت عیسیٰ ؑ اسی جنگ کے دوران (یا آغاز میں اللہ کے اذن سے )دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے (اور حضرت مہدی ؑ کے ساتھ مل کر دجال اور دجالی فتنوں کا خاتمہ کریں گے ) یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہوگی جس میں ابلیس شکست کھا جائے گا اور دنیا میں (صرف ) اللہ سبحانہ کا نظام نافذ ہو گا مکمل امن و امان اور انصاف کا نظام ۔۔اس کے بعد چالیس سال تک حضرت مہدی ؑ کی حکومت قائم رہے گی ۔۔حضرت عیسیٰ ؑ حضرت محمد ﷺ کی شریعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی طبعی موت کے تحت انتقال کریں گے ۔۔حضرت مہدی ؑدنیا کو ایک بار پھر  اللہ کے نبیوں والی  خالص فطری اور بے ریا زندگی کی طرف  لے جائیں گے اور زمین  پھر ہر طرح کے فساد سے پاک ہو کر سانس لینے لگے گی ۔۔۔

خدا کے واسطے قرآن سے اپنا رشتہ جوڑئیے تا کہ ہم (اور آپ سب حضرت ) مہدی ؑ کی فوج میں شامل ہونے کے لائق بن سکیں اور دجالی فتنوں سے محفوظ رہ  سکیں ۔قرآن سے بڑھ کر کوئی جائے پناہ نہیں ‘‘

حصہ
mm
لکھنو کے رہنے والے عالم نقوی ہندوستان کے ایک کہنہ مشق صحافی،اور قلم کار ہیں وہ ہندوستان کے مختلف اخبارات و جرائد ور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں