اہم یادیں 

کوئی بھی یاد ہمارے دماغ میں صرف اس لئے نہیں ہوتی کہ اس سے” ہم” بذات خود گزر چکے ہوتے ہیں، بلکہ یادیں ہمارے جینز میں شامل ہوتی ہیں اور صرف کوئی یاد، کوئی خاص واقعہ ہی نہیں بلکہ خوشی، رنج، خوف، عادت، صلاحیت، بیماری بھی ہمارے جینز کا حصہ ہوتی ہیں جو ہمیں اپنے آباؤاجداد سے ملے ہوتے ہیں۔
اس کو یوں سمجھ لیجیے کوئی شخص کسی واقعے کو سوچتا ہے،حالانکہ وہ اس کے ساتھ پیش نہیں آیا ہوتا، اس کو جزئیات تو یاد نہیں مگر ذہن میں اس بات کا خاکہ موجود ہے تو وہ اسی سبب ہے کہ وہ اس کے ڈی این اے میں شامل ہوتا ہے. یعنی کوئی بھی فرد اپنے آباؤاجداد سے صرف آنکھوں، بالوں کا رنگ، قد اور دیگر ظاہری علامات نہیں لیتا بلکہ بہت کچھ لیتا ہے جو نہ صرف اس کے معاشرتی رویوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، ساتھ ہی اس کے سیکھنے کی صلاحیت کو مزید بہتر کرتے ہیں.
یہاں ایک عام انسان کی بات ہو رہی ہے، اب ایک مسلم کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مدد ملے گی کہ جو کچھ اس کے ماضی میں ہوا وہ یقیناً اس سے آگاہ ہوگا. کوئی نہ کوئی ضرور اس کے آباؤاجداد میں ایسا ہوگا جس نے ان واقعات کو سنا ہوگا، کوئی ان سے خود گزرا ہوگا. یعنی کسی نہ کسی طرح وہ واقعات، ہر مسلمان کے ڈی این اے میں شامل ہونگے.
اس مسلم فرد(مرد/ عورت) کو بس یاد کروانے کیلئے تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے کہ اس عہد کا مسلم دن، رات بہت سے فتنوں، آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ “آخری دور میں دین پر ثابت قدم رہنا، ہاتھ پر انگارہ لینے کے مطابق ہوگا .”
اسے یہ یاد دلانا پڑے گا کہ معرکہ خیر و شر میں قلیل تعداد اور بے سروسامانی کی حالت میں ہونے کے باوجود فتح “حق” کی ہوئی تھی.جب اللہ کی جانب سے بارش، غنودگی اور فرشتوں کی مدد پہنچی تھی. اسے غزوہ بدر یاد دلانا ہوگا .
اس کو ایسی فوج کے بارے میں بتانا ہوگا، جس کی عظمت و رعب کے آگے، اپنے وقت کے بڑے بڑے سردار و قبائل نہیں ٹھہر سکے.جو اس قدر پرامن جیت تھی جس میں نہ خوشی و جذبات سے بھنگڑے ڈالے گئے، نہ قتل و غارت گری ہوئی، نہ املاک کو نقصان پہنچایا گیا، بلکہ عام معافی کا اعلان کیا گیا. جس میں لیڈر (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سر سواری کو چھو رہا تھا، نہ تکبر نہ غرور، عاجزی و شکر کا پیکر تھے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم. انہیں فتح مکہ یاد کروانا ہوگا کہ جب کہا گیا “جاء الحق وزھق الباطلان الباطل کان زھوقا ”
اس انسان کو بھولا ہوا سبق یاد دلانا ہوگا، کہ انسان بہت جلد بھول جاتا ہے مگر یہ وہ اسباق ہیں کہ اب اگر انہیں یاد کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو شاید یہ اس کے ڈی این اے سے بھی نکل جائیں کیونکہ وہاں بھی دھرائی گئی یادیں /یادداشتیں باقی رہتی ہیں.
17 رمضان المبارک یوم بدر ہے اور 20 رمضان المبارک فتح مکہ ہے اسے، ہمیں، ہمارے آئندہ آنے والی نسلوں کو یہ یاد رکھنا ہوگا، نہ صرف ان دنوں، تاریخوں کو بلکہ ان تمام واقعات کو تمام جزئیات و اثرات کے ساتھ کہ اسی میں ہماری بھلائی ہے.

حصہ
mm
مریم وزیرنے جامعہ کراچی سے شعبہ ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کیا ہے اور تیسری پوزیشن حاصل کی ہے،جب کہ جامعہ المحصنات سے خاصہ کیا ہے/ پڑھا ہے. گزشتہ کئی سال سے شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔تحریر کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی خواہاں ہیں۔مختلف بلاگز میں بطور بلاگرز فرائض انجام دے رہی ہیں۔

1 تبصرہ

  1. ماشاءاللہ بہت خوب اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ہمارے معاشرے کو ایسے بہت سے لوگ درکار ہیں جو نیک نیتی اور دل کی گہرائیوں سے اپنے حال کو ماضی کی عظمت رفتہ یاد دلاتے ہوئے بدلنے کے خواہاں ہیں اور جواب دہی کے احساسِ سے فکر مند بھی سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے ھم بہت کچھہ کر سکتے ہیں جو کہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ آپکے اس جہاد کو قبول فرمائے اور زور قلم میں اضافہ فرمائے آمین جزاک اللّہ

Leave a Reply to Lubna Ehsan جواب منسوخ کریں