زندگی تجھ سے ناراض نہیں ہوں

میں  زندگی سے ناراض تھا کہ اس نے مجھے کچھ نہیں دیا ہے ۔اسی ناراضگی کے عالم میں پروفیسر صاحب مجھ سے ملے وہ بہت نرم دل اور شفیق انسان ہیں ۔سلام و دعا کے بعد میں نے  فورا زندگی کی محرومیوں کی داستان شروع کر دی۔انہوں نے میری تمام شکایات سننے کے بعد اپنے ساتھ آنے کے لئے کہا، میں نا چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ چل دیا ۔میں  نے ان سے پوچھنا  چاہا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں مگر انہوں نے کچھ نہیں بتایا اور گاڑی سندس فاونڈیشن کے سامنے روک دی  ۔وہاں سے ایک  عمر رسیدہ بزرگ اپنے بچے کو لیے نکل رہے تھے اور زبان سے کلمہ تشکر ادا کر رہے تھے ۔میں نے پروفیسر صاحب سے پوچھا کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں تو کہتے ہیں کہ تمھیں ان سے ملانے لایا ہوں زندگی جن سے ناراض ہے مگر وہ پھر بھی اسے راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔میں نا سمجھی کے عالم میں ان کے ساتھ اندر چل دیا ۔وہاں کچھ لوگ خون  کے بیگ لیے ادھر ادھر جارہے تھے ،تو  کہیں بچوں کے رونے  اور چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں تو کہیں ماں باپ کے دلاسے سنائی دے رہے تھے ۔ اتنے میں پروفیسر صاحب ایک وارڈ میں داخل ہوتے ہیں، جہاں قطار در قطار بیڈ تھے اور ان پر  ہر عمر کے مریض   جن کو خون لگایا جا رہا تھا، میں پریشان سا کمرے کے درمیان میں  کھڑا تھا اور میرے چاروں طرف مریض ہی مریض ۔پروفیسر صاحب مجھے یونہی چھوڑ کر ان کے پاس جاتے ہیں اور ہر ایک کا حال احوال پوچھتے ہیں جس کا وہ سب بڑی خوشدلی سے جواب دیتے ہیں پھر کچھ دیر ان کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ مختلف ڈیپارٹمنٹ میں جاتے ہیں اور وہاں سب سے بات چیت کرتے ہیں ۔مجھے ان کے کسی فعل کی سمجھ نہیں آتی پھر ہم باہر آ جاتے ہیں اور ایک بنچ پر بیٹھ جاتے ہیں ۔بیٹھتے ہی میں ان سے سوال شروع کر دیتا ہوں ہم یہاں کیوں آئے ہیں کہ اور وہ لوگ کون تھے اور کیا کررہے تھے  تو وہ  پیچھے لگے سندس فاونڈیشن کے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں یہاں زندگی دی جاتی ہے انہیں جو زندگی میں ترستے ہیں زندگی کے لیے ۔جانتے ہو
سندس فاونڈیشن کا آغاز  1998ء کو تھیلیسیمیا کی ایک مریضہ سندس کے نام سے گوجرانوالہ میں ہوا،یہ ادارہ بیس سال سے تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور بلڈ کینسر میں مبتلا مریض بچوں کی امداد  کررہا ہے۔تھیلیسیمیا خون کی  بیماری ہے  جو خون میں موجودہ ہیموگلوبن میں نقص کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے خون میں  موجود  سرخ خلیے جسم کے مختلف حصوں کو آکسیجن  نہیں پہنچا پاتے اور مریض کمزوری کی وجہ سے دوسرے صحت مند افراد کی طرح زندگی  نہیں گزار سکتے ، ہیموفیلیا بھی  تھیلیسیمیا کی طرح  موروثی بیماری ہے ، اس میں  مریض کا زخم لگنے کے بعد خون نہیں رکتااور خون زیادہ بہنے کی وجہ سے  موت بھی  واقع ہوجاتی ہے۔
سندس فاونڈیشن میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون کے سرخ خلیے  ( Red blood cells )  فراہم کیے جاتے ہیں   اور ہیموفیلیا کے افراد کو خون کا سفید حصہ  جو  زخم  میں خون کو روکنے میں معاون  کردار ادا کرتے ہیں اور یہ سب  بلامعاوضہ فراہم کیا جاتا ہے  اور یہ ادارہ ہر سال سیکڑوں صحت مند خواتین و حضرات  سے  ہزاروں خون کی بوتلیں بھی جمع کرتا ہے اور یہ خون مریضوں کو  فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ  اپنے تمام مریضوں کو مفت  ادوایات  کی  فراہمی بھی کرتا ہے  تاکہ  ٹرانسفیوژن کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا  حل ممکن  ہو سکے  جس پر ہزاروں  لاکھوں   خرچ کیے  جاتے ہیں  اور اس    کے علاوہ مختلف وائرسز  سے متاثرہ بچوں کی نہ صرف پی سی آرکے ذریعے تشخیص کی جاتی ہے بلکہ  علاج میں بھی معاونت دی جاتی ہے۔ یہ ادارہ  پنجاب کے شہروں   جیسا کہ لاہور، گوجرانوالہ ، گجرات ، سیالکوٹ اور فیصل آباد  سے  خون کے عطیات اکٹھا کرنے والا پنجاب کا سب سے بڑا نیٹ ورک بن گیا ہے اور اب تک  تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور بلڈ کینسر کے 6,000مریضوں کا مفت علاج کر چکا ہے۔
جیسا کہ تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا موروثی بیماریاں ہیں جو  صرف شادی سے پہلے میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے رک سکتی ہیں۔ 2000 میں منوبھائی نے  بطور چیئرمین  سندس فاؤنڈیشن میں اپنا ایک منصوبہ  SUNMAC شروع کیا جسے  وزیر اعلی پنجاب نے بھی خوب سراہا ، جو  نوجوان نسل کو شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی مفت سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں تھیلیسیمیا کا شکار نہ ہو پائیں ۔  اور آج سندس فاؤنڈیشن پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو تھیلیسیمیا کیرئیر ٹیسٹ کے لیے اپنے  خدمات فراہم کررہا ہے  اور ابھی تو وہ ہسپتال بنانے کا  خواب  دے کر گئے جس کی تعبیر کے لیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کر نا ہو گا  تاکہ کوئی علاج سے محروم نہ رہ سکے ۔

  جانتے ہو  وہ جو لوگ  اندر بیڈوں پر لیتے وہ کتنی مشکلوں اور تکلیفوں کے بعد یہاں زندگی کی آس لیے آتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتےہیں کہ انہیں یہ سہولت مل رہی ہے، یہاں گجرات میں سندس فاونڈیشن وہ واحد ادارہ ہے جو تھیلیسیمیا کے سیکڑوں  لوگوں کا علاج کرتا ہے اور لوگ یہاں کئی میلوں کے فاصلے  طے کر نے کے بعد آتے ہیں ۔وہاں وارڈ میں  جو پہلا بیڈ تھا وہ لوگ آزاد کشمیر سے کئی سالوں سے اپنے بچے کے لئے آ رہے ہیں  اور وہ خاتون جو اپنی بچی کو چپ کرا رہی تھی اس کی بچی کو چار ماہ کی عمر سے  خون لگایا جا رہا ہے اور ابھی وہ صرف دو سال کی ہے، اس کی ماں کی بھی خواہش ہے کہ اس کی بیٹی پڑ لکھ بڑی افسر یا ڈاکٹر بنے۔یہ سب لوگ  زندگی کی امید لیے یہاں آتے ہیں  تاکہ وہ بھی  اچھی زندگی گزار سکیں ۔
پروفیسر صاحب کی گفتگو نے مجھے اندر سے ہلا دیا اور میں اپنی ناشکری پر بڑا نادم تھا کہ مجھے اللہ نے صحت مند بنایا  ہے اور میں اس کا شکرادا کرنے کی بجائےاس کی ناشکری کرتا ہوں اور یہ لوگ ہر حال میں اپنے رب کے شکر گزار ہیں ۔  پروفیسر صاحب مزید گویا ہوئے  ؛بیٹا اللہ نے یہ جو تمھیں صحت اور دیگر نعمتیں عطا کی ہیں یہ  اس لیے ہیں تاکہ تم ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ان بہن بھائیوں مدد کرو جو اس سے محروم ہیں  مگر ہم لوگ تو اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے  مسئلوں میں الجھ جاتے ہیں اور ارد گرد سے بےخبر ہو جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں ان لوگوں کو جن کی مشکلیں اور آزمائشیں ہم سے کئی گنا بڑی ہیں  ان کی  ضرورت ہے  ۔
پروفیسر صاحب ہم کیسے ان کی مدد کر سکتے ہیں ؟ دیکھو بیٹا جیسے سندس فاونڈیشن تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے کام کرتی ہے، ہم ان کی مدد کر کہ ایسے لوگوں کی  مدد کر سکتے ہیں  کیونکہ اتنے  بڑے ادارے کو  چلانا آسان نہیں ہوتا اس میں ہم سب کی مدد درکارہے  تاکہ کسی کو بھی  علاج نہ ملنے کی وجہ سے زندگی سے ناراض نہ ہونا پڑے ۔ نوجوان طبقہ فنڈز اکٹھے کر کے اور اپنے  خون کے عطیات کے ذریعے مدد کر سکتے ہیں اور  صاحب حیثیت لوگ اپنے صدقات و عطیات کے ذریعے تاکہ کسی کو بھی زندگی میں زندگی کے لیے ترسنا نا پڑے ۔

خدا کے  بندے تو ہیں ہزاروں ،بنوں میں  پڑتے ہیں مارے مارے

میں اس کا  بندہ بنو گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے ۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں