عوام اور سیاسی رہنما ملائیشیا سے کچھ سیکھیں۔

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعتوں نے ملائیشیا کے قومی انتخابات میں 60 سال سے بلاتعطل برسراقتدار جماعت باریسان نیشنل پارٹی کو شکست دے دی۔
دلچسپ پہلو یہ کہ ملائیشین وزیر اعظم نجیب رزاق پر بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات کے باعث ان کی جماعت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی۔
نجیب رزاق نے انتخابات کے نتائج قبول کرتے ہوئے شکست تسلیم کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں عوام کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہوں اور میری جماعت جمہوریت کے اصولوں پر کاربند ہے۔
دوسری جانب اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں ان کے رہنماؤں اور عوام کا حال دیکھیں تو سب سیاسی نابالغ و نا خواندہ نظر آتے ہیں۔ اکثر جماعتوں کے کسی نہ کسی رہنما پر بدعنوانی کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کرنا اور جواباً مخالفین پر الزام تراشیاں کرنا وتیرہ بن چکا ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نا اہل تک قرار دیئے جا چکے ہیں لیکن عوام کے دلوں پر کسی بھی اظہار ندامت و شرمندگی کے بغیر راج کرنے کا عزم مصمم کئے ہوئے ہیں ۔ وطن لوٹنے ،جلسوں جلوسوں میں والہانہ استقبال حتی کہ عدالت میں پیشیاں بھگتا کر باہر آنے پر پھول نچھاور کرنا ضمنی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنا نا سمجھ عوام کا یہ اظہار عقیدت ظاہر کرتا ہے کہ وڈیرہ شاہی لوٹوں نوٹوں اور ووٹوں کی سیاست اس نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ شکست کھا کر شکست تسلیم نہ کرنا بھی ایک بڑی خرابی کا پتہ دیتی ہے۔
کاش کہ ہماری عوام کی سیاست کی سمجھ بوجھ ملائشیا کے عوام کی طرح ہوتی تو آئندہ انتخابات میں بد عنوان اور اقربا پرور افراد شکست سے دوچار ہوجائیں اور سیاست دانوں میں بھی اگر عوام اور ملک کی خدمت کے جذبے کی ذرا سی بھی رمق پائی جاتی تو یوں ڈھٹائی نہ دکھاتے پھریں عوام کی مجبوریوں کو سبز باغ دکھا کر دھوکہ نہ دیں اور جمہوریت کے اصولوں پر کاربند رہیں ۔
اے کاش
عوام اور سیاسی رہنما ملائیشیا سے کچھ سیکھیں۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں