ابنِ خلدون عمرانیات کا بانی

امریکی صدر ریگن نے ایک بار اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ”میں آج امریکہ کا صدر صرف اس لئے ہوں کہ میںنے ابنِ خلدون کے فلسفہ سے بھرپور استفادہ کیا اور اس فلسفے سے متاثر ہو کر اس کو اپنی زندگی پہ لاگو کیا اس لئے کہ ابن خلدون میری پسندیدہ شخصیت ہیں“اس بیان سے آپ ابن خلدون کی علمی بصیرت،تحقیق،نظریات اور ان کے علم کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ یورپ جو کبھی ایام گذشتہ میں مسلمان سائنسدانوں کی علمی تحقیقات و اختراعات اور دریافتوں میں نہ صرف تحریف و تبدیل کی سازشیں کرتا تھا بلکہ ان تخلیقات کو اپنے نام سے شائع کرنے کی بھی ناکام کوششیں کرتا رہا،آج ان کی کاوشوں کو نہ صرف سراہتے ہیں بلکہ ان سے بھرپور استفادہ بھی کر رہے ہیں ۔
ان مسلمان مفکرین میں ایک نام عبدالرحمٰن ابنِ خلدون کا بھی ہے۔ابنِ خلدون کے جد امجد کا تعلق یمن کے ایک قبیلہ حجر کی ایک شاخ کندہ سے ہے۔ایک معروف روایت کے مطابق قبیلہ حجر کے ایک شخص وائل بن حجر حضرت محمدﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے اور آپﷺ نے وائل بن حجر اور اس کی اولاد کے لئے دعا بھی فرمائی تھی۔ابنِ خلدون کی علمی بصیرت کا معتبر حوالہ اس صحابی رسول سے نسبت کا بھی ہے۔عبدالرحمن ابنِ خلدون نے اپنی خودنوشت کتاب العبر میں اپنی تاریخ پیدائش جو درج کی ہے اس کے مطابق وہ 732 ھ بمطابق 27مئی1332 ءمیں تیونس میں پیدا ہوئے۔پروفیسر فشل نے ان کے بچپن کا ٰایک واقعہ بیان کیا ہے جو ان کی لیاقت اور بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔واقعہ یوں ہے کہ ایک دن قروان(شہر کا نام جہاں ابنِ خلدون پیدا ہوا تھا)کی جامع مسجد میں بہت سے علما اور قاضی سمیت لوگوں کا ایک جم غفیر تھا کہ ابنِ خلدون کا وہاں سے گزر ہوا۔اس وقت ان کی عمر دس بارہ سال سے زائد نہ ہو گی۔ابن خلدون نے اجتماع کو تجسس اور حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ یہ سب لوگ کیوں جمع ہیں۔تو اسے بتایا گیا کہ سسلی نے تیونس پر حملہ کر دیا ہے اور کئی شہروں پہ غلبہ پا لیا ہے۔اس لئے سب علما اور قاضی جمع ہوئے ہیں کہ سب مل کر دعا کریں کہ دشمن ملک سے بھاگ جائے۔یہ سن کر ابنِ خلدون نے کہا کہ آخر علما اور قاضی ایسا کیوں کر رہے ہیں جبکہ تمام لوگوں کو مل کر ہتھیاروں سے لیس ہو کر دشمن کو ملک سے نکال باہر کرنا چاہئیے۔
ابن خلدون نے اپنی تمام زندگی مختلف ممالک کی سیاحت اور محلاتی سازشوں میں گزاری۔کبھی حباحب کے عہدہ پہ فائز رہے تو کبھی قاضی القضا کے عہدہ پر اپنے فرائض سر انجام دئیے۔تاہم کہیں بھی ان کی ذاتی غرض،لالچ،دشمنوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔
ابنِ خلدون پہلا شخص ہے جس نے تاریخ کو آزاد سائنس کی حیثیت سے دریافت کیا۔اور تاریخ کو عمرانی علوم کے حوالے سے معاشرے کو درپیش مسائل تک وسعت دی۔ابنِ خلدون انسانی معاشرے کے افعال،مسائل اور الجھنوں کے سلجھاﺅ کے لئے بھی تجاویز و مشاورت مہیا کرتا ہے۔اس طرح تاریخ ایک سائنس بن گئی۔جو کسی واضح ثبوت کے بغیر کسی دلیل و تصریح کو قبول نہیں کرتی۔ابن خلدون اس سلسلہ میں خانہ بدوشوں سے لیکر مہذب و متمدن اقوام،شہروں ،ملکوںاور قوموں کے عروج و زوال کا مطالعہ کرتا ہے۔وہ نہ صرف مطالعہ کرتا ہے بلکہ معاشرتی مسائل کی وجوہات اور اس کاممکنہ حل بھی بیان کرنے کی سعی مکمل کرتا ہے۔ان کی تحقیقات کا کمالِ فن یہ ہے کہ قوموں کی تاریخ کو تدریجی اندازِ ستدلال میں پرکھتا ہے کہ ایک غیر مہذب معاشرہ کیسے تمدنی شاہراہ پہ قدم رکھتا ہے۔پھر اس معاشرہ پر عہدِ شباب،بڑھاپا اور زوال ان تمام کو عمیق اور تصریحی انداز میں بیان بھی کرتا ہے،وہ ریاست و حکومت،معاشرہ کی خصوصیات،تشکیل عناصر ریاست،اجتماعی رہن سہن،حکمران و رعایا،معاشرتی مسائل و معاشر ہ کا تحفظ اور بالآخر اس کی تباہی تک کے موضوعات کو اپنے تبصروں اور تنقید کی زد میں لاتے ہوئے وجوہات اور مسائل کا حل بھی پیش کرتا ہے۔اسی بنا پر ابنِ خلدون کو عمرانیات کا بانی کہا جاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان سے قبل ان موضوعات پر کسی نے بھی اتنے مبسوط انداز سے بحث و تمحیض نہیں کی اور نہ ہی کوئی تصنیف اس سلسلہ میں سامنے آئی۔اگرچہ قبل ازیں یونانی فلسفیوںنے اس موضوع کو جزوی طور پر موضوع تحریر بنایا،تاہم ان کے ہاں اس مضمون کی کوئی مستقل حیثیت نہیں تھی۔قوموں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ ابنِ خلدون نے جن موضوعات پہ قلم اٹھا کر شہرتِ دوام حاصل کی ان میں نظریہ عصبیت ،قوموں کے عروج و زوال اور ان کے اسباب ،انسانی اخلاق،اخلاق کا تجارت پہ اثر،تجارت کی اقسام،معاشرہ و ثقافت،نظریہ ریاست،ریاست کی اقسام سے لیکر امامت،قانون،فکرِ معاش اور فلسفہ تعلیم تک الغرض ہر وہ موضوع جس کا تعلق کہیں نہ کہیں بھی معاشرہ سے متصل و منسلک ہو نوکِ قلم کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔جس کے باعث بلاشبہ و مبالغہ عبدالرحمٰن ابن خلدون کو ہم عمرانیات کا بانی خیال کر سکتے ہیں اور وہ اپنے رشحاتِ علم و فکر اور تحقیق سے عمرانیات کا بانی کہلانے کا مستحق بھی ہے۔

حصہ
mm
مراد علی شاہد کا بنیادی تعلق کمالیہ پنجاب سے ہے ،تاہم بسلسلہ روزگار عرصہ بیس سال سے دوحہ قطر میں مقیم ہیں ،اور ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں بطور ہیڈ آف سوشل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں ۔سنجیدہ موضوعات کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح پر لکھنا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کی طنزومزاح پر مشتمل مضامین کی کتاب "کھٹے میٹھے کالم"منصہ شہود پر آ چکی ہے۔دوسری کتاب"میری مراد"زیرطبع ہے۔قطر کی معروف ادبی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن قطر میں بحیثیت جنرل سیکرٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔

1 تبصرہ

  1. محترم برادر عزیز ، آپ نے ابن خلدون کے بچپن میں جو مسجد والا واقع تحریر کیا ہے اس کا ریفرنس عنایت فرما دیجیئے ۔۔ شکریہ

جواب چھوڑ دیں