دوڑ پیچھے کی جانب اے گردشِ ایام تو

قوم کے رجحانات،اس کی ذہنیت اورترجیحات کے عکاسی ہوتے ہیں…کراچی میں PSL کی روشنیاں دیکھ کر کچھ خوشی کا احساس ہواکہ کچھ مسکراہٹیں اور خوشیاں اس شہر کو بھی لوٹا دی گئی ہیں جہاں برسوں کا سوگ منایا گیا ہے…ساتھ ہی مگر کئی اور مناظر نظروں کے سامنے گھوم گئے۔
بغداد اور مدینہ کی گلیاں، جہاں دنیا جہاں سے علم کے حریص جمع ہوتے تھے. کیا عظیم الشان مجمع ہوتا تھا! اف کیسی رونقیں! مجمع اتنا بڑا ہوتا تھا کہ خطیب کچھ بولتا تو پورے مجمع تک اس کی آواز کی رسائی نہ ہوتی تھی…بیچ میں ایک شخص کھڑا ہوتا جو پیچھے والوں کے لیے بات کو دہراتا…اور وہ وقت بھی تو دیکھا تھا بغداد کی گلیوں نے جب خطیب کو چھینک آئی تھی اور پورا مجمع یرحمک اللہ اور یہدیکم اللہ سے گونج اٹھا تھا! گونج ایسی کی بغداد کی پولیس چوکنی ہو کر حرکت میں آ گئی تھی کہ یہ کیا شور ہے جو شہر میں بپا ہے..!
کھیل اور تفریح کی رونقیں دیکھتی ہوں تو دل سے ایک ہُوک یہ بھی اٹھتی ہے کہ آج بھی کہیں شہر میں ویسی ہی کوئی علم کی مجلس سجے…آج بھی حصول علم کی خاطر وہ مجمعے جمع ہوں کہ شہر جگمگا اٹھے! آج بھی شہر شہر،ملک ملک سے حصول علم کی خاطر کوئی میرے شہر کی طرف کھنچاچلا آئے…!
رونقوں اور اجالوں کی کتنی قسمیں ہیں…سبحان اللہ!
اللہم اجعلنی نورک!

1 تبصرہ

Leave a Reply to ڈاکٹر اورنگ زیب جواب منسوخ کریں