’’دیہات کے پکے لوگ‘‘

شہروں میں بسنے والے لوگوں کے حقوق کے لیے ہر کوئی بات کرتا ہے لیکن دیہات کے بچارے لوگ تو ہیں ہی بچارے اگر کوئی ان کے حوالے سے بات کرتا بھی ہے تو فقط رسمی طور پر بس۔ووٹ لینے کے لیے ان کے پاس ہر پارٹی پہنچ جاتی ہے لیکن وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ تعلیم،صاف پانی،روڈ،پکی گلیاں وغیرہ کا یہ لوگ بھی کچھ حق رکھتے ہیں لیکن ہر کوئی یہ سمجھتا ہے یہ ایسے ہی ٹھیک ہیں۔نہیں نہیں اگر کسی دن دیہات میں رہنے والے لوگوں کا طوفان اپنے حقوق لینے کے لیے اٹھ کھڑا ھوا تو اس طوفان کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔
دیہات کے بچوں اور بچیوں میں بہت بڑاٹیلینٹ موجود ہے صرف یہ کہ ان کے لیے اچھی تعلیم کا بندوبست کیا جائے آج کل ہر کسی کی نظر صرف شہر کی جانب ہے چاہے وہ کاروباری لوگ ھوں یا مولوی حضرات ھوں بزنس مین چاھتے ہیں کہ اپنی فیکٹریاں شہروں میں لگائیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے لیے بجلی پانی صاف روڈ چاھیے لیکن اگر کسی کاروباری شخص نے اپنی فیکٹری کسی دیہات میں لگا دی تو اس کا فائدہ یہ ھوگا اس کی فیکٹری کی وجہ سے دیہات کے راستے پکے ان کو بجلی صاف پانی ملے گا تعلیم بھی ملے گی اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملے گااور مولوی حضرات شہروں کی بڑی بڑی مسجدیں تلاش کرتے ہیں تاکہ صاف ماحول اور اچھی تنخواہ ملے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہر کسی کی ضرورت ہے لیکن یہ بھی سوچنا چاھیے کہ دیہات کی مساجد میں اچھے امام اور معلمین کے نہ ھونے کی وجہ سے دیہات
کے لوگوں پر اب وہ لوگ کام کر رہے ہیں جن کا دین سے دور تک کوئی تعلق نہیں وہ دیہات کے سادہ لوگوں کے عقا ید خراب کر رہے ہیں ان کے ایمان کو آزمایش میں ڈال رہے ہیں ۔
اگر ھم نے دیہات کے لوگوں اور ان کے بچوں کی فکر نہ کی تو یہ لوگ ھمارے ھاتھ سے نکل جائیں گے جن لوگوں کو پاکستان میں کافر قرار دیا گیا ہے وہ تو اپنے منصوبہ کے تحت دیہاتوں کو ٹارگیٹ بنا کر کام کر رہے ہیں یہاں تک کہ وہ اب دیہات کے لوگوں اور بچوں میں پیسے بھی تقسیم کر رہے ہیں۔تو خدارا ذراہوش کے ناخن لیں ان بچاروں کی بھی فکر کریں۔ان جھونپڑیوں اور کچے گھروں   میں رہنے والے بھی آپ کی طرح کے انسان ہیں جو آپ کی ضروریات ہیں ان کی بھی وہی ضروریات ہیں۔
بس ذرا سا احساس پیدا کر لیں۔

جواب چھوڑ دیں