پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور ان کا کردار

پاکستان کی تاریخ میں اب تک 19وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوچکے ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے 5سال کی مدت پوری کی ہو۔پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے وزیر اعظم کا تاج جناب لیاقت علی خان کے سر سجا لیکن 4سال بعد ملک دشمن عناصر نے ان کو گولی مار کر شہید کردیا ۔اس کے بعد خواجہ نظام الدین کووزیر اعظم بنایا گیا اور پھر تواتر سے مختلف وزیر اعظم کم و بیش ایک سال کے لیے وزارت عظمی کا چارج سنبھالتے اور کسی نہ کسی وجہ سے اپنی مدت پوری نہ کرپاتے ۔پاکستان میں جمہوریت کا چلنا بہت مشکل کام نہیں ہے لیکن یہاں کی کچھ سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے ملک ناصرف دو لخت ہوا بلکہ انتشار ،افراتفری اور غربت کی طرف گیا ۔پاکستان کی ہر سیاسی جماعت نے اپنے ادوار میں ترقی کا دعوٰ ی تو کیا لیکن یہ دعوی صرف دعوی ہی رہا اگر ہوئی بھی تو اس کی شرح نہایت کم رہی لیکن حکمرانوں کی ذاتی زندگی اور کاروبار میں ترقی دن دگنی ہوئی اس کی مثال ملک کے لگ بھگ ہر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں میں ملیں گی ۔
پاکستان کی سیاست میں اس وقت 3بڑی سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں جو ملک میں اپنے بڑے ووٹ بینک کا دعوٰی کرتی ہیں اگر ان کی تاریخ دیکھی جائے تو ان کے موجودہ بڑے اور نامور لیڈروں کا پس منظر عام آدمی جیسا تھا اس وقت پاکستان کی معتبرقومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ایک میٹر ریڈر تھے جو گھر گھر میں جاکر میٹر ریڈ کرتے تھے اور یقیناًاس دور میں ان کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا یہاں تک کہ پانی کے گلاس کا بھی نہیں پوچھتا ہو گا لیکن آج وہ کئی شوگر ملوں اور کئی سو ایکٹر زمینوں کے مالک بن چکے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہماری اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر بھی بن چکے ہیں اب پتہ نہیں وہ اسمبلی میں کسی کی ریڈنگ کرتے ہیں ۔اسی طرح اگر ہم پاکستان تحریک انصاف کی بات کریں تو ان کے بھی کئی ایسے لیڈر ہیں جو یا تو گدی نشینی کے نام پر اپنا ووٹ بینک سیاست میں استعمال کر رہے ہیں جس میں صف اول کے شاہ محمود قریشی ہیں جو اپنے آباواجداد کے نام کو سیاست میں استعمال کر رہے ہیں اس کا تازہ اور چشم دید واقع ہم نے حال میں ہونے والے عرس پروگرام میں مختلف چینلز میں دیکھ لیا تھا ۔پی ٹی آئی جس کو ایک لبرل جماعت کے طور پر سمجھا جاتا ہے لیکن اس جماعت میں سیاسی مداری کثرت سے پائے جاتے ہیں اس پارٹی میں بھانت بھانت کے لوگ شامل ہیں جو مختلف بولیاں بولتے ہیں اس کی وجہ عمران خان صاحب کی سیاست ہیں کیونکہ وہ سیاسی طور پر خود بہت کنفیوز ہیں۔ میں شادی کے معاملے کا ذکر نہیں کر رہا ۔
اسی طرح مسلم لیگ ن کا بھی لگ بھگ یہی حال ہے اس کے سابق سربراہ اور سپریم کورٹ کے مطابق صادق اور امین نہ رہنے والے شخص نواز شریف کے بچوں کا نام جب پانامہ میں آیا تو اس سے چند دن قبل ایک میڈیا چینل پر ایک پروگرام میں ان کے بیٹے کا ایک انٹرویو نشر کیا جس میں وہ خود اپنے پاوں پر کلہاڑی مارتے ہوئے نظر آئے ہیں کہ ہاں جی میرا ہے ،سب کچھ اور میں نے خود بنایا ہے سوال یہ نہیں ہے کہ بیٹے نے خود بنایا ہے سوال یہ ہے کہ ملک اور دنیا میں کاروبار کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں اور ہر اولاد کو اس کے ماں باپ کی جانب سے سپورٹ ملتی ہے لیکن شریف خاندان کے بقول ان کے والد نے ان کی کوئی سپورٹ نہیں کی ۔پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جس کا خیال ہے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی جب کہ دوسرا نواز شریف کے بالکل مخالف ہے ۔اس کے سب سے بڑی وجہ نواز شریف کی اپنی تقریر تھی جو انہوں نے قومی اسمبلی میں کی تھی ان کے مطابق ان کے والدصاحب کا پورا کاروبار بھٹو دور میں ختم کردیا گیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنے کاروبار کا آغاز کیا پھر ضاالحق دورکے آخر میں ان کے والد صاحب کا بزنس ختم کردیا گیا تھا لیکن پھر بھی ان کا بزنس چلتا رہا اور پھر انہوں نے کاروبار کا آغاز کیا اور مشرف دور میں پھر ان کا کاروبار ختم کردیا گیا اور وہ سعودی عرب چلے گئے ۔ان کے مطابق ان کا کام اتنا نہ چل سکا تو ان کے بچوں نے کاروبار کو بیچ کر لندن کی جانب کوچ کیا اب اس کہانی میں کہیں بھی ایسا ذکر نہیں ہے کہ پاکستان سے وہ پیسے لے کر گئے یا پھر انہوں کسی سے مدد لی ہاں انہوں نے بینک کا ذکر ضرور کیا ۔کہ ہمیں بینکوں نے قرضے دیئے لیکن اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو پاکستان میں کئی سیاست دانوں نے قرضے اپنے نام پر نہیں لیئے بلکہ دوست و احباب کے نام یا نوکروں کے نام لے کر ان کو بعد میں معاف کروالیا اور پاک صاف بھی ہوگئے ۔
میں مسلم لیگ ن کے سابق سربراہ پر الزام نہیں لگا رہا لیکن ان کا جو بیان ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود ملک اور قوم سے کتنے مخلص ہیں کیونکہ اگر ان کے چاہنے والے اگر اپنی آنکھوں سے محبت اور اندھی تقلید کی پٹی اتاردیں تو ان کو اندازہ ہوگا کہ نوازشریف نے سپریم کورٹ جیسے ادارے میں یہبیان جمع کرایا ہے کہ اسمبلی میں ان کا بیان ایک سیاسی بیان تھا اور اب جو وہ بات کورٹ میں کر رہے ہیں وہ حقیقت ہے تو جو شخص پارلیمنٹ کی بالادستی کا حلف اٹھائے اور پھر وہی کھڑا ہوکر ملک کی عوام کو جھوٹے قصے سنائے تو وہ شخص پاکستان سے کتنا مخلص ہوگا۔ جب کورٹ میں ان سے کاروبار کی تفصیل مانگی جاتی ہے تو وہ قطر کے ایک شہزادے کا خط جمع کرادیتے ہیں ،رسیدات جمع کرانے سے معذرت کرلیتے ہیں ۔پاکستان کی حکومت یا کسی بھی ادارے کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جس سے یہ بات ثابت ہسکے کہ کس ذریعے سے ان کا پیسہ پاکستان سے باہر گیا پھر جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کا سوئس بینکوں کا معاملہ ہے اسی طرح مسلم لیگ ن کے باہر ممالک میں کاروبار اور فلیٹوں کا مسئلہ ہے تفصیل تو بہت طویل ہے ہیں لیکن حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ترقی صرف صدارتی ادوار میں ہوئی ہیں نہ کہ جمہوری ادوار میں۔ پاکستان کی عوام کو چاہیے کہ 2018ء کے الیکشن میں ایسے لوگوں کو مسترد کریں جو پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹ بولیں اور باہر ممالک میں جاکر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی باتیں کریں ۔اگر پاکستان کی عوام کو عقل نہ آئی اب بھی تو اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

حصہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں