سرگرمیوں پر مبنی تدریس سے دیں اکتساب کو رنگ 

بچپن کا زمانہ ہوتا تھا خوشیوں کا خزانہ ہوتا تھا
چاہت چاند کو پانے کی دل تتلی کا دیوانہ ہوتا تھا
رونے کی وجہ نا ہوتی تھی ہنسنے کا بہانہ ہوتا تھا
خبر نا تھی کچھ صبح کی نا شاموں کا ٹھکانہ ہوتا تھا
دادی کی کہانی ہوتی تھی پریوں کا فسانہ ہوتا تھا
پیڑوں کی شاخوں کو چھوتے تھے مٹی کا کھلونا ہوتا تھا
غم کی زبان نا ہوتی تھی نا زخموں کا پیمانہ ہوتا تھا
بارش میں کاغذ کی کشتی ہر موسم سہانا ہوتا تھا
وہ کھیل وہ ساتھی ہوتے تھے ہر رشتہ نبھانا ہوتا تھا

بچپن زندگی کی سب سے قیمتی نایاب اور انمول شے ہے جسے یاد کرکے ذہن و دل خوشی ومسرت سے رقص کرنے لگتے ہیں۔ بچپن کی یادیں عمر بھر انسان کے ذہن و دل میں تازہ و روشن رہتی ہیں۔انسان خواہ کتنا ہی ترقی کرلے،اعلیٰ سے اعلیٰ بلند و بالا مقام و مرتبے پر فائز ہوجائے لیکن بچپن کی شرارتوں سے مزین معصوم و سہانی یادیں اس کی آنکھوں سے آنسو بن کرٹپکنے لگتی ہیں۔ انسان کا بس چلے تو یادوں کی ان حسین وادیوں سے وہ کبھی لوٹنا پسند نہ کرے۔ بچپن کے گزرے دور کو انگریزی کے مشہور شاعر جان ملٹن(John Milton) نے ’’گم شدہ جنت ‘‘سے تعبیر کیا ہے۔بچپن کے چار حرفوں میں معصومیت ،نادانیاں، ،حماقتیںْ اٹکھیلیاں،بے وجہ ضد ،دلکش و دلربا ادائیں اور خداجانے کیا کیا چھپا رکھا ہے۔بچپن ،دشمنی،کینہ ،بغض،حسد،تکبر،لالچ،خود نمائی و خود آرائی سے بالکل پاک ایسی زندگی ہے کہ جس کی تمنا فرشتے بھی کریں۔ نہ پرواہ دنیا کی تنقید کی اور نہ رسوائی کا ڈر۔ آج جگ ہنسائی کے خوف سے اپنے اشکوں کو چھپانے والا یہ انسان اپنے ان آنسوؤں کو یاد کر کے خوش ہوتا ہے جنھیں بہاکر وہ کبھی والدین سے اپنی ہر خواہش پوری کرواتاتھا۔
اب تو اک آنسو بھی رسوا کر دیتا ہے بچپن میں جی بھر کے رویا کرتے تھے
بچپن کے گزرجانے کا افسوس صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ہر انسان کو تڑپاتا ہے۔ہر انسان اپنے بچپن کے دنوں کے لوٹ آنے کی خواہش کرتا ہے۔لیکن یہ قانون فطرت ہے کہ جو شئے گزر جائے وہ واپس لوٹ کر نہیںآتی ۔ اساتذہ جب اپنے بچپن کے زمانے کو اپنی زندگی کے سب سے سنہر ے دور سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ اپنے ذہنوں میں یہ بات ہمیشہ تازہ رکھیں کہ تعلیم و تربیت اور درس و تدریس کے نام پر بچوں کے بچپن اور ان کی خوشیوں کا گلہ نہ گھونٹیں۔شمس و قمر کی گردش بدل سکتی ہے اور نہ ماضی ہی لوٹ کر آسکتا ہے اسی لئے اساتذہ بچوں کو تعلیم کے نام پر ان کو ان کے بچپن سے محروم نہ کریں۔ان کے ذہنوں میں ایسی یادیں بھردیں جو انھیں زندگی بھر زندہ رہنے کا حوصلہ ،خوشی،اطمینان ،امید اور مسرت فراہم کردے۔
اسکولی زندگی کے ایام میں طلبہ فطرتاً مہم جو اور متجسس ذہن کے حامل ہوتے ہیں۔عمر کے اس دور میں ان کی فطرت انہیں سیکھنے اور کچھ کر گزرنے پر مائل کرتی رہتی ہے۔ ایسے دور میں ان پر غیر فطری پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کی حیثیت صرف ایک ساکت و جامد سامع کی بنادینا یہ بات تعلیم و تربیت کے اصولوں کے یکسر منافی معلوم ہوتی ہے۔ بچپن زندگی کا ایک ایسا حسین دور ہے جہاں زندگی ہنستی کھیلتی،ہمکتی ہردم دوڑتی بھاگتی رہتی ہے۔زندگی کے تمام ادوار میںیہ دور سب سے حسین اور خو ب صورت مانا جاتا ہے۔ٹھہراؤ اور سکون سے بچے اس دور میں ناواقف ہوتے ہیں ۔بلکہ یہ سکون اور ٹھہراؤ وہ اپنے تلون مزاجی کی وجہ سے پسند بھی نہیں کرتے ہیں۔اس دور میں والدین اور اساتذہ کی ہر بات کو سننا اور اس پر عمل کرنا ان کی فطرت کے مطابق بھی نہیں ہوتا ۔ اس عمر میں والدین اور اساتذہ کا بھی اپنی ہر بات پر بچوں سے عمل آوی ر اور تابع داری کا تقاضہ و مطالبہ کرنافطری اور نفسیاتی اصولوں کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ بچوں کی فطرت سننے سے زیادہ کرنے پر مائل رہتی ہے۔کارآمد درس و تدریس اورتعلیم و تربیت کے لئے ضروری ہے کہ اساتذہ کسی بھی کلیہ پر عمل آوری سے قبل بچوں کی عمر اور ان کی نفسیات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔موثر تدریس اور بااثر آموزش کے لئے اساتذہ سرگرمیوں پر مبنی اسباق کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہوں اور ان سرگرمیوں میں طلبہ کی فعال شرکت کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
اسکول بچپن کی خوشیوں اور مسرتوں کا مقتل نہ بنے۔بچپن کی ہمکتی کھیلتی کودتی بے فکر زندگی کا گلہ نہ دبائے۔بچوں کی معصومیت اور ان کی مسرتوں کو قتل کیئے بغیر ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے۔بچوں کوخوش رہنے اور خوشیاں پھیلانے کا درس دیں۔زندگی گزارنے نہیں بلکہ زندگی بسرکرنے کی تعلیم دیں۔قدر و اہمیت کے جذبے سے بچوں کو متصف کریں۔بے جان اور بے کیف اصول بیان کر تے ہوئے ذہنوں کو مضمحل کرنے کے بجائے استاد اپنی سیرت سے بچوں کوعملی ترغیب کے سامان فراہم کرے۔دوران تدریس اپنی کم سنی اور اضطرابی مزاج کی وجہ سے طلبہ زیادہ دیر تک اپنی توجہ مرکوز رکھنے کے متحمل نہیں ہوتے ہیں۔طلبہ پر بے جا سختی اور سخت پابندیاں عائد کرنے سے بہتر انھیں مناسب منصوبہ بند ،منتخب اجتماعی و انفرادی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہوئے نہ صرف اساتذہ توجہ اور دلچسپی کی برقراری کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ موثر انجذاب علم کو ممکن بنا سکتے ہیں۔سرگرمیوں پر مبنی تعلیمی عمل جہاں طلبہ کی توجہ و دلچسپی کے قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے وہیں سیکھنے اور حصول علم میں طلبہ کی مشغولیت و انہماک میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔سرگرمیوں پر مبنی تعلیم، طلبہ میں جہاں اپنے آپ سیکھنے (خود کار اکتساب) کے جذبے کو پروان چڑھاتی ہے وہیں طلبہ میں اعتماد وطمانیت کا باعث بنتی ہے۔دوران تدریس اساتذہ معلومات کی راست ترسیل کا کام انجام دینے والے ایجینٹ کے بجائے طلبہ کے معاون و مددگار کے طور پر اپنی خدمات پیش کریں۔یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جب تک کوئی کام آدمی خود سے انجام نہ دیں نہ تو وہ اسے سیکھ سکتا ہے اور نہ وہ اس میں دلچسپی لیتا ہے۔ اجتماعی (گروہی) یا پھر انفرادی سرگرمیوں پر مبنی عملی تدریس طلبہ کے انہماک اور دلچسپی کی برقراری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ علم کو نافع، کارآمد اور دیرپابنانے کے لئے کمرۂ جماعت میں طلبہ کو ایک خاموش سامع کے بجائے ایک فعال اور پرجوش کردار پیش کرنے کے لئے تیار کرنے کی ذمہ داری اساتذہ کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ساکت و جامد درس و تدریس کی وجہ سے کمرۂ جماعت زندگی سے محروم ایک خاموش قبرستا ن کیطرح نظرآتا ہے۔طلبہ سکوت ،افتادگی اور عدم دلچسپی کے باعث حصول علم میں اپنی دلچسپی اور انہماک کو قائم نہیں رکھ پاتے ہیں ۔اگر یہ عمل متواتر اور مسلسل جاری رہے تب طلبہ کی صلاحیتیں منجمد ہونے لگتی ہے اور وہ حصول علم سے شاکی اور متنفر ہوجاتے ہیں۔اساتذہ اپنی محنت جستجو اور تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے بچوں میں علم کے سوکھے چشمے کو رواں اور جاری کر سکتے ہیں۔درس و تدریس کے کلیات کو حرز جاں بنا کر اساتذہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ علم کی ترویج و ترسیل میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ترسیل علم سے قبل اساتذہ کو طلبہ میں شوق و ذوق کی کیفیت کو پروان چڑھانا ضروری ہوتا ہے۔ اساتذہ بچوں میں شوق و ذوق پیدا کرنے میں اگر کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تب طلبہ از خود حصول علم میں مصروف ہوجاتے ہیں۔خود کار اکتساب کی راہوں پر گامزن ہونے سے طلبہ میں در آنے والی تعلیمی افتادگی،سستی ،اضطراب اور بوجھل پن سکون ،اطمینان اور احساس طمانیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔تحقیق و ٹکنالوجی پر مبنی افعال،ریاضی و سائنسی اشکالات و مسائل کو منظم ،مربوط اور بہتر انداز میں حل کرنے کی سعی و کوشش کے علاوہ طلبہ میں تخلیقی سوچ و مہارتوں کے فروغ میں سرگرمیوں پر مبنی تعلیمی ماحول نہایت کارگر ثابت ہوتا ہے۔
تعلیمی افعال و سرگرمیوں کے انتخاب میں احتیاط اور بہتر منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ کمرۂ جماعت میں انجام دی جانے والی کسی بھی تعلیمی سرگرمی خواہ وہ انفرادی ہویا گروہی طلبہ کے ذہنی و تعلیمی معیار کے مطابق ہونی چاہئے۔سرگرمیوں کو وضع و تفویض کرتے وقت کمرۂ جماعت میں طلبہ کی تعدا د کا بھی خاص خیال رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ منتخب کردہ سرگرمی کا تعلق طلبہ کی زندگیکے گرد محو گردش حالات ،واقعات اورماحول سے مربوط ہو، تاکہ طلبہ میں حقیقت بینی و حقیقت شناسی کے علاوہ زندگی سے وابستہ معلومات کو بہم پہنچایا جاسکے ۔کامیاب درس و تدریس کے لئے اساتذہ تعلیمی سرگرمیوں کے انتخاب و تیاری میں اپنے ساتھی اساتذہ سے مشاورت سے احتراز نہ کریں ان کے تعلیمی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے درس و تدریس کو نئے رنگ و آہنگ اور درس و تدریس کو جدید اسلوب کے پیرہن عطا کریں۔خلوص و اخلاص اور خون جگر سے سینچے گئے گل بوٹے معاشرے کی آرائش و تزئین میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اسی لئے اساتذہ تعلیمی سرگرمیوں کو محض ضابطے کی تکمیل تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کو معنویت بخشنے اور زندگی سے مامور کرنے کی کوشش کریں تاکہ درس و تدریس کو موثر اور اکتساب کو کارآمد اور با معنی بنایا جاسکے۔
اساتذہ ،طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کو صیقل کرنے اور اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے کمرۂ جماعت میں تعلیمی سرگرمیوں کو محتاط طریقے سے نافذ کریں ۔ذیل میں چند ایسی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن پر عمل پیرائی کے ذریعے اساتذہ اپنے درس کی تاثیر اور افادیت کو عروج فراہم کرسکتے ہیں۔مندرجہ ذیل تجاویز ساکت و جامد اکتساب کے بجائے ایک متحرک ،فعال اور دلچسپ تعلیمی فضاء کی نمو وافزائش میں معاو ن ثابت ہوگی۔
(1) کمرۂ جماعت کی مناسب تنظیم و ترتیب تعلیمی،سرگرمیوں کی انجام دہی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔کمرۂ جماعت میں مخصوص سرگرمیوں کی انجام دہی کے لئے ایسی مناسب جگہ کا انتخاب کریں جہاں تمام طلبہ کی شمولیت کے لئے گنجائش ہو اور کام کی انجام دہی میں انہیں دقت اور پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔
(2)کسی بھی سرگرمی پر عمل آوری سے قبل فیصلہ کر لیں کہ معلنہ سرگرمی کی انجام دہی انفرادی یا گروہی ہوگی۔
(3)سرگرمی کی انجام دہی سے قبل طلبہ کو واضح ہدایات فراہم کردیں تاکہ کام کی نوعیت اور اس کو انجام دینے کے طریقے کار کا انھیں علم رہے۔اساتذہ کام کی رفتار ،سمت ،ترقی اور تمام طلبہ کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے سخت نگرانی کریں۔
(4)سرگرمی کے آغاز سے قبل تمام درکار مواد،ساز و سامان کو تیار رکھیں۔کام کی موثر انجام دہی کے لئے موزوں اور معیاری اشیاء و سازوسامان کی فراہمی بہت ضروری ہوتی ہے اور طلبہ کی اس مواد ،ساز و سامان تک رسائی آسان ہو بلکہ یہ ان کے دسترس میں رہے تو مناسب ہے۔
(5)طلبہ کے عملی کام (پراکٹیکل ورک)کی انجام دہی کے دوران اساتذہ طلبہ کی مخصوص مہارتوں کے فروغ کے لئے کوشاں رہے تاکہ وہ نئی مہارتیں سیکھ سکیں اور ان میں کمال پیدا ہو۔اساتذہ کی یہ چھوٹی سے کوشش بہت ثمر آور ثابت ہوتی ہے اور طلبہ کے مستقبل کو روشن اور درخشاں بنانے میں اہم کردار انجام دیتی ہے۔
(6)کام و سرگرمی کی تاثیر اور افادیت کے اضافے کے لئے طلبہ کے تخیلاتی افکار میں تحدیدی عناصر کو دور کرنے کے ساتھ تخلیقی سوچ و کارکردگی کو مہمیز کرنا ضروری ہوتا ہے۔غور و فکر ،قوت استدالال ،تحقیق و تجزیہ کی صلاحیتوں کی نشوونماکی کوشش سے تعلیمی معیار میں اضافہ ہوتا ہے۔
(7)کام کی انجام دہی کے مختلف مراحل کے دوران طلبہ کی تعریف ،توصیف و ستائش سیطلبہ کام کو بہتر طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔تعریف ،توصیف و ستائش ایک محرکہ کا کام انجام دیتا ہے۔کام و سرگرمی کی انجام دہی کے دوران طلبہ کو مشکلات سے نمٹنے کے لئے اساتذہ اپنا رہنمایانہ کردار ادا کریں ۔طلبہ کی مدد و رہنمائی کے لئے ہمیشہ اپنا دست تعاون دراز رکھیں۔
(8)انجا م دی جانے والی سرگرمی کی اہمیت وافادیت سے طلبہ کو آگاہ کریں۔طلبہ پر واضح کر یں کہ یہ سرگرمی مستقبل میں ان کے لئے کس طرح مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔کسی بھی سرگرمی کو اس کے معلنہ وقت پر انجام دینے کی طلبہ کو ترغیب دی جانے چاہئے اور مقررہ وقت پر کام کی انجام دہی کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔
(9)کسی بھی عملی کام،تجربہ و سرگرمی کی تکمیل کے بعد طلبہ کے تجربات،احساسات اور ان کے تجاویز و آرا کو پیش کرنے کا مواقع فراہم کریں بلکہ ان امور کو پیش کرنے کی انہیں کامیاب ترغیب دیں۔طلبہ کے تصوراتی ردعمل اور تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کریں اور ان کے بہتر مظاہر ے کے لئے اساتذہ اپنی آرا و تجاویز (فیڈ بیاک) پیش کریں۔
کمرۂ جماعت کی سرگرمیوں اور افعال کو بیرون کمرۂ جماعت بھی اسکولی اوقات کیعلاوہ وسعت دیں۔محتاط،منتخب کردہ سرگرمیوں کو موثر انداز میں نافذ کرنے سے طلبہ میں سماجی و ثقافتی لیڈر شب،اخلاقی اور دانشوارانہ ترقی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اساتذہ کی جانب سے وضع کردہ چند سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں جوطلبہ میں فروغ علم اور بہتر تفہیم میں معاون ہونے کے علاوہ طلبہ کے علم کو معیار و عظمت عطا کرتی ہیں۔انہیں میں چند قابل ذکر سرگرمیوں کو ذیل میں بیان کیا جارہا ہے۔
(1)طلبہ سے سستے اور کم قیمت کے آسانی سے دستیاب ہونے ماڈل (نمونے ) تیار کروانا، جیسے مقوے(Card Board)،مٹی(Clay)،لکڑی کے ٹکڑوں اور کاغذ وغیرہ سے بنے ماڈل و اشیاء۔
(2) جماعت کے چند طلبہ کی جانب سے سبق کے منتخب حصوں،خاص واقعات، خاص تاریخی و علمی افراد کی زندگی کی واقعات کو اداکاری و ڈرامہ نگاری کے ذریعے جماعت کے دیگر طلبہ کے سامنے پیش کرنے سے پڑھائے گئے مواد کے پس منظر اور نتائج کو طلبہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
(3)کمرۂ جماعت میں کھلے بحث و مباحث (Debate)منعقد کرنے سے طلبہ کی تخلیقی اور اظہار کی صلاحیتوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔لیکن یہ بحث و مباحث طلبہ کو ان کی آزادانہ رائے پیش کرنے سے نہ روکیں۔
(4) تحریری،تقریری مقابلہ جات کے انعقاد کے ذریعے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو نمو دی جاسکتی ہے۔طلبہ کو مضامین(Essays)،رپورٹس،نظمیں وغیرہ لکھنے کی اساتذہ ترغیب دیں۔ اسکول کی میگزین و بلٹن بورڈ کے لئے طلبہ سے مضامین وغیرہ تحریر کروائے جائیں۔
(5)مصوری ،آرٹ اور کرافٹ میں طلبہ کو اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنا۔رقص و موسیقی کا سیکھنا(اس سے مراد غیر اسلامی شعار کو اپنانے کی ترغیب نہیں ہے بلکہ ترنم لحن کے ذریعے نظم خوانی اور ان کو اداکاری کے ذریعے پیش کرنا جیسے امور شامل ہیں)۔ڈرامہ اور اداکارانہ صلاحیتوں کو پیش کرنے کے لئے ڈرامہ نگاری کے پروگراموں وغیر ہ کے انعقاد کے لئے مواقع فراہم کرنا ۔بلکہ ان سرگرمیوں کے انعقاد و انجام دہی میں اساتذہ اپنا گراں قدر رول انجام دیں تاکہ طلبہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرسکیں اور ان میں اعتماد کی فضا بحال ہو۔
(6) ایسی سرگرمیوں کا انعقاد جو تحقیقاتی منصوبوں،تجرباتی کاموں کو سمجھنے اور منتخب مسائل کو حل کرنے میں معاون و مددگار ہوں۔
(7)چارٹس کی تیاری،کارآمد اشیاء کو جمع و محفوظ کرنا جیسے ڈاک ٹکٹ،سکے اور حیاتیاتی نمونے(Biological Specimens)وغیرہ۔
(8)ماحولیاتی شعور بیدری پروگرامس میں حصہ لینا،شعور و آگاہی کو بیدار و مہمیز کرنے والے پروگرامس میں طلبہ کو شرکت و حصہ داری کو یقینی بنانا۔
(9)اساتذہ طلبہ کو قومی و دیگر تہواروں میں حصہ لینے اور ذمہ دارانہ کردار اداکرنے کی ترغیب دیں۔طلبہ کو اسکولی تفریح میں شریک ہونے اور دیگر اسکولی پروگرامس میں اپنا گرانقدر حصہ پیش کرنے کے لئے کامیاب ترغیب دیں تاکہ ان کی ہمہ جہت ترقی و نشوونما ہوسکے۔
(10)کسی بھی مسئلہ کے راست حل کے لئے فیلڈ ٹرپس کا اہتمام بھی ایک اہم سرگرمی ہے جس سے طلبہ میں تحقیقی ،تنقیدی اور تجزیاتی پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔مسئلہ کے حل کی تلاش ،مشاہدہ،پیش قیاسی،تحقیقی نکات کو ضبط تحریر میں لانا،حقائق کی جانچ اور ریکارڈنگ جیسی سرگرمیاں طلبہ میں سا ئنسی مزاج کے فروغ کا باعث بنتی ہیں اور یہ ایک جاندار دلچسپ اور عرصہ دراز تک محفوظ رہنے والا علم و تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔
کلاس روم اور بیرون کلاس روم منظم ،منصوبہ بند،منتخب اور احسن انداز میں روبہ عمل لائی گئی سرگرمیوں سے طلبہ کی تعلیم رغبت و انہماک میں اضافہ ہوتا ہے ۔طلبہ معلومات کی ذخیرہ اندوزی کے بجائے علوم سیکھتے ہیں ۔بچوں میں سیکھے ہوئے تعلیمی تجربات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ایسا نظام تعلیم جو درس و تدریس اور اکتساب کی بنیادوں کو عملی سرگرمیوں کی بنیادوں پر استوار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہی نظام بامعنی ،بامقصد اور کارآمد تعلیم فراہم کرنا کا متحمل ہوسکتا ہے۔اگر تعلیمی نظام مذکورہ اصولوں سے روگردانی برتتا ہے تب وہ غوغائے علم کے شور کو بلند کرنے کے علاوہ اور کچھ فراہم نہیں کرسکتا ہے۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں