محبت چاہت اور خلوص کا رشتہ ۔۔۔ماں

ماں زندگی کا انمول تحفہ ہے ،ماں کے بغیر انسان ادھورا ہے ،ماں کے قدموں میں جنت ہے، ماں جب مجھے دودھ پلاتی تھی تو مجھے ایسے لگتا تھا جیسے جنت سے دودھ آیا ہے میں روتا تو ماں بھی میرا ساتھ دیتی اور کہتی بیٹا کیا تکلیف ہے؟؟
تو میں اس وقت کچھ نہ بول سکتا تو میں رونے کے انداز میں ساری تکلیف ماں کو سنا دیتا تو ماں سمجھ جاتی مجھے کیا تکلیف ہے۔۔
مجھے اس ذات کے بارے میں لکھنا ہے جس کے گرد میری ہستی گھومتی ہے جس کے ہونے سے میری دنیا مکمل ہوتی ہے وہ جس جگہ نہیں ہوتی وہاں نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور جابیٹھتی ہے وہ جو میری کامیابیوں کی وجہ ہے وہ جو میری خوشیوں کی ضمانت ہے۔۔۔
جی ہاں اسی ہستی کی بات کررہا ہوں جس کے ہوتے ہوئے گھر جنت ہے اور نہ ہوتے ہوئے کوئی ویران سا قبرستان۔۔۔ جو قدموں میں جنت رکھتی ہے تو ہاتھوں میں شفقت کا سایہ۔۔۔ سہی سمجھے آپ۔۔
محبت، عشق ، چاہت کا جو رشتہ ہے میری ماں ہے
بشر کے روپ میں گویا فرشتہ میری ماں ہے
بنا جس کے میری ہستی کے سارے رنگ پھیکے ہیں
وہی دلنشیں خوش رنگ رشتہ ہے میری ماں ہے
ماں اس کائنات کے سب سے اچھے ، سچے اور خوبصورت ترین رشتے کا نام ہے، خدائے برتر نے اس کائنات میں سب سے خوبصورت جو چیز تخلیق کی وہ ماں باپ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا ، بالخصوص ماں جیسی ہستی کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل ہے کہ۔۔
گلاب جیسی خوشبو ، چودھویں کے چاند جیسی چاندنی ، فرشتوں جیسی معصومیت ، سچائی کا پیکر ، لازوال محبت ، شفقت، تڑپ ، قربانی، پودے کا سبزہ ، پھول کی رنگت، دریا کی روانی ، پھل کی مٹھاس ،سورج کی روشنی، آسمان کی بلندی ، زمیں کی وسعت ، ریشم کی نرمی ، پرندے کی پرواز ، چکور کا عشق سب مل کرانسان کا بنے تو مرمریں ستونوں کی بہشت ماں کی تخلیق عمل میں آئی۔۔ماں کو جنت کی ضرورت نہیں بلکہ ماں خود ایک جنت ہے میں کچھ بڑا ہوا تو ماں مجھ سے کہنے لگتی بیٹا بڑے جلدی ہو جاؤ تاکہ میری تکلیف میں کمی ہو اس رات ماں خوب روئی جب میں ملیریا بخار میں کانپتا رہا ساری رات نہ ماں سو سکی نہ میں اگلے روز سویرے ماں مجھے ہسپتال لے گئی مگر ڈاکٹر دیر سے آیا تو ماں بہت پریشان ہو گئی اور بولی ڈاکٹر یہ ٹائم ہے آنے کا تو ڈاکٹر جلدی بولے ماں جی آج میری امی کو سخت بخار تھا اسلیئے دیر ہو گئی آپ کا بیٹا جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ ڈاکٹر کی باتیں سن کر ماں خاموش ہوگئی اسی وقت ڈاکٹر نے مجھے ایک انجیکشن لگایا تو ادھے گھنٹے میں میرا بخار اتر گیا اور ماں خوش ہوگئی بچپن سے جوانی تک ماں میرا بہت خیال رکھتی رہی کل ماں کے سر میں تھورا درد ہوا تو مجھے احساس ہوا ماں نے سالوں سال تک کس طرح مجھے پال پوس کے بڑا کیا اور میری کس طرح خدمت کی ہوگی میں اپنے پیاری ماں جی کے ایک پل کا احسان کبھی نہیں اتار سکتا کیونکہ ماں خود ایک جنت ہے اس جنت میں جو داخل ہوا وہ کامیاب ہوگا۔
ماں تجھے سلام
ماں تجھے سلام۔۔۔

حصہ
mm
ببرک کارمل جمالی کاتعلق بلوچستان کے گرین بیلٹ جعفرآباد سے ہے ۔ان کے ماں باپ کسان ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے انہیں ایم اے تک تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کیا۔ ببرک نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے حاصل کیا اور اعلی تعلیم کیلئے پھر کوئٹہ کا رخ کیا ان کی پہلی تحریر بچوں کے رسالے ماہنامہ ذہین میں شائع ہوئی اس کے بعد تحاریر کا نہ رکنے والا سلسہ جاری وساری رہا اب تک دو ہزار کے لگ بھگ تحاریر مختلف رسالوں اور اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔یہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں جبکہ ان کی تحاریر ان اخبارات اور رسالوں میں چھپ چکی ہیں اور چھپ رہی ہیں جن میں (روزنامہ پاکستان) بلاگ رائیٹر (روزنامہ ایکسپریس) بلاگ (حال احوال) کوئٹہ بلاگ رائیٹر جبکہ ان کی فیچر رپورٹس ( ڈیلی آزادی)کوئٹہ (ڈیلی مشرق )کوئٹہ ماہنامہ جہاں نما کوئٹہ میں آج تک چھپ رہی ہیں۔ان کی کہانیاں (ماہنامہ پھول) لاہور (ماہنامہ ذہین) لاہور (ماہنامہ اردو ڈائیجسٹ)لاہور ( ماہنامہ پیغام) لاہور (ماہنامہ روشنی)پنڈی (ماہنامہ افکار جدید) لاہور میں چھپ چکی ہیں ۔ان کاا یک مستقل سلسلہ بلوچستان کے حوالے ماہنامہ اطراف انٹرنیشنل کراچی میں بھی چل رہا ہے اس کے ساتھ یہ بچوں کے لیے بھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ ماہانہ (پارس) کے مدیر بھی ہیں۔ کئی ادبی ایوارڑ بھی مل چکے ہیں اور ٹی وی، پہ کچھ پروگرام بھی کر چکے ہیں۔ جبکہ اکسفورڈ پریس کی کتاب میں بھی ان کی تحریر شائع ہو چکی ہے۔ببرک پاکستان رائیٹر سوسائیٹی بلوچستان کے نائب صدر بھی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں