عوام کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟

چند دن،ہاں محض چند ہی دن ایسے گزرتے ہیں۔جب وحشی سوچوں کو قرار آنے لگتا ہے،سناٹا دیکھ کر کچھ حوصلہ ہونے لگتا ہے، دل کو کسی طور سمجھاتے ہیں،یہ گمان پالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ،اب ہنگامہ خیزی شاید کبھی نا دیکھیں گے۔یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ ہم ایک وحشی ہجوم سے تعلق رکھتے ہیں اور وحشی کو سکون سے کیا مطلب، خوامخواہ یہ امید باندھ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اس قوم کی وحشت شاید اب تھم چکی اور اس کی ہنگامہ خیز فطرت کو قرار آگیا ہوگا۔اس عارضی اور مختصر دورانیے میں،ہم نوید سنتے ہیں کہ دیس اب خوشحالی کی شاہراہ پر نکل چکا۔اسٹاک مارکیٹ بلندیوں پر محو پرواز ہے،زر مبادلہ کے ذخائر دن بہ دن بڑھ رہے ہیں،بیرونی سرمایا کار اعتماد کرنا شروع ہوچکے،سی پیک پر کام تیزی سے جاری وساری ہے اور سب سے بڑی بات سیاسی استحکام کی بدولت قومی بیانیہ دنیا کی نظر میں معتبر ٹھہرنے والا ہے،دفاع ہمارا مضبوط ہاتھوں میں ہے۔کوئی ملک کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔لیکن جلد ہی یہ لمحات کافور ہوجاتے ہیں،پھر سے وہی حشر سامانیاں ہماری رہگزر پر آ موجود ہوتی ہیں۔پتا چلتا ہے کہ دوبارہ ہم نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ہمیں اندورنی اور بیرونی محاذ پر مسائل کا سامنا ہے۔
ایک بار پھر احتجاج،انتشار،بغاوت،تخریب اور تقسیم سے واسطہ پڑجاتا ہے۔پھر جلاؤ گھیراؤ، ہڑتالیں،دھرنے،مار کٹائی اور رستے بلاک ہوتے ہیں۔کچھ خلق خدا ادھر ہوتی ہے،تو کچھ ادھر ہوتی ہے۔سڑکوں پر جلوس نکالے جاتے ہیں،روڈ رستے تمام کے تمام بند کردیے جاتے ہیں۔اسپتال جانے والے مریض سڑکوں پر ایڑیاں رگڑتے نظر آتے ہیں۔ مستقبل کے معماروں کو مکتب تک نہیں پہنچنے دیا جاتا،کتنے دیہاڑی دار مزدور،روز کمانے روز کھانے والے فاقوں پر مجبور ہو بیٹھتے ہیں،جانے کتنے بروقت جائے ملازمت پر نا پہنچ پانے کی پاداش میں نوکری سے فراغت کا صدمہ لے بیٹھتے ہیں۔اس سرگرمی سے عوام کے حقوق سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں مگر،جواز کے طور پر عوام کے حقوق کو ہی بدنام کیا جاتا ہے۔کبھی ریاست کو درپیش نادیدہ خطرات سے بچانے کے لئے لشکر بنتے ہیں،کنٹینر نکالے جاتے ہیں اور پھر ریاست کے تحفظ کا نام لے کر ریاست پر ہی یلغار کردی جاتی ہے۔کسی اور کے بجائے اسی کی اینٹ سے اینٹ بجاکر رکھ دی جاتی ہے۔
یہ پریکٹس دہائیوں سے جاری وساری ہے اور کچھ خبر نہیں کہ مزید کب تک چلتی رہے گی۔کچھ سمجھ نہیں آتا آخر اس ملک پر ہی کیوں آسیب کا سایہ ہے،یہاں کے عوام سے آخر کیا خطا سرزد ہوئی جس کا یہ صلہ ہے۔بار بار کے انتشار کا مقصد بھی سمجھ نہیں آتا،آخر یہ باغی چاہتے کیا ہیں؟ان کا مطالبہ کیا ہے؟کس طور یہ ملک پر رحم کریں گے،اس کی مزید جان چھوڑ دیں گے۔وجہ کسی کو کچھ نہیں بتائی جاتی،بس کولہو کے بیل کی مانند آگے لگالیا جاتا ہے۔بڑی حد تک قوم اس آزمائش کی آپ ذمہ دار ہے۔وہ خود مختلف سیاسی گدھوں کو بت بنائے بیٹھی ہے۔مختلف گروہوں میں منقسم ہے۔اس دیس کے ہر بچے کو علم ہے کہ تمام سیاسی لیڈران گدھ ہیں جنہیں بھنبھوڑنے اور اپنی دکانداری چمکانے کے لئے ہر وقت لاشیں درکار ہوتی ہیں۔قوم اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کی لاشیں انہیں فراہم کرتی ہے۔پھر جن کی بدولت اپنے بچے قتل کروائے انہی کے ہاتھ پر بیعت کرکے انصاف لینے نکل پڑتے ہیں۔
اب ایک بار پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا نام لے کر ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش تیار ہوچکی ہے۔سب کو یاد ہوگا کہ ماڈل ٹاؤن میں ہائیکورٹ کے حکم پر تجاوزات اور غیر قانونی بیریئر ہٹانے کے لئے آپریشن کیا گیا تھا۔جسے ایک غیر ملکی شہری کی سازش نے خون کی ہولی میں بدل کر رکھ دیا۔اس کے بعد اس کی تحقیقات کے لئے ایک عدالتی کمیشن بنا جس کی رپورٹ بھی اس عظیم انسانی سانحے کے نام پر مکروہ سیاست کرنے والوں کے مطالبے کے عین مطابق پبلش کی جاچکی ہے۔اس ملک کا ہر ذی شعور شخص اس رپورٹ کو پڑھ چکا ہے اور سب کو علم ہوچکا ہے کہ اس رپورٹ میں براہ راست کسی بھی شخص کو ملزم نہیں ٹھہرایا گیا۔اس کے علاوہ اگر تعصب کی پٹی کو کچھ وقت کے لئے ہٹاکر سوچا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس ایشو کو بنیاد بناکر موقع بے موقع احتجاج کرنے والوں نے پچھلے تین سالوں میں عدالتی فورم پر اس کیس کے سلسلے میں کیا سرگرمی دکھائی۔میڈیا پر یا سڑکوں پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں،عدالت میں اس کے حق میں کیا دلائل پیش کئے۔
اب تو شاید عدلیہ کی غیر جانبداری اور کریڈیبیلیٹی پر کسی کو بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔موجودہ عدلیہ کے شریف فیملی سے متعلق رویے اور پانامہ کیس میں ریمارکس بھی بتارہے ہیں کہ اب کی بار امپائر بھی نیوٹرل ہے۔خود لشکر قصاص کے میمنہ ومیسرہ یعنی عمران نیازی اور آصف زرداری متعدد بار سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔تو پھر سمجھ نہیں آتا کہ آخر ماڈل ٹاؤن کیس کا انصاف مانگنے کے لئے کینیڈین سپہ سالار کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔کیا عدالت میں اس کیس کا ٹرائل مکمل ہوچکا ہے۔یا پھر عدالت نے مزید اس کیس کو سننے سے معذرت کرلی ہے۔یا پھر انہیں اس سلسلے میں عدالت پر بھی اعتماد نہیں رہا۔اور آخر سڑکوں پر آنے سے،یا مال روڈ پر دھرنا دینے سے انصاف کا حصول کس طرح ممکن ہوگا۔ہمارے ہاں آج تک کسی نے اخلاقی دباؤ کی وجہ سے کونسلر کی سیٹ سے کبھی استعفی دیا ہے جو امید لگائی جارہی ہے کہ وزیراعلی اور وزیرقانون پنجاب اس طرح استعفی دے دیں گے۔
ایسے موقع پر جب آئندہ عام انتخابات میں صرف چار ماہ باقی رہ گئے ہیں اس طرح کی کوئی بھی احتجاجی تحریک ہماری ناتواں جمہوریت کے لئے زہر قاتل بھی ثابت ہوسکتی ہے۔تسلیم کہ سیاست میں مخالف کو زیر کرنے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا جاتا ہے اور ہمارے ہاں تو حریف کو چت کرنے کے لئے کسی بھی سطح تک گرنے کو باعث عار نہیں سمجھا جاتا۔پھر بھی مگر یہ سوچنا ہوگا کہ کسی ایڈونچر کے سائیڈ ایفکٹ کے طور پر لمبے عرصے کے لئے گلیاں بالکل سنسان بھی ہوسکتی ہیں اور پھر ان سنسان گلیوں پر کس کا راج ہوگا یہ کوئی بتانے کی بات ہرگز نہیں ہے۔کسی ذہن میں ایسی غیر جمہوری صورتحال میں کسی فائدے کی توقع ہے تو اسے اپنی خوش فہمی دور کرلینی چاہئے۔کیونکہ اقتدار ایسی چیز ہے جس میں شراکت کا جگر اچھے اچھوں کو نصیب نہیں ہوتا،اور سوچنے لائق بات یہ ہے کہ اس قدر کھڑاک پال کر اور اتنی بدنامی مول لے کر کوئی قوت کسی دوسرے کو اختیار واقتدار میں کیوں شریک کرے گی۔
سیاسی جماعتوں کو بہرحال اس وقت سیاسی طریقے سے ہی جدوجہد کرنے اور اپنی قوت بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔کیونکہ کینڈین مولانا صاحب کا نا تو کوئی ووٹ بنک ہے اور نا ان کی کوئی سیاسی شناخت ہے لہذا اگر جمہوریت پر کوئی برا وقت آیا تو وہ اپنا بوریا بستر اٹھاکر یہاں سے گولی ہوتے دیر نہیں لگائیں گے۔اس سے قبل تو ن لیگ کو سینیٹ الیکشن سے اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی کوششیں سمجھ آرہی تھی مگر اب بلوچستان میں غیبی ہاتھوں کی مدد سے آنے والی کرشماتی تبدیلی کی بدولت ن لیگ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔سینیٹ الیکشن کے بروقت انعقاد کا اس وقت سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو ہی ہوگا۔مسئلہ اگر ن لیگ اور شریف فیملی کا تھا تو ان کا قصہ بڑی حد تک پار لگ چکا مگر پھر بھی لازما دھرنا ہی دینا ہے تو جاتی عمرہ میں شریف فیملی کی رہائشگاہ کے باہر بھی دیا جاسکتا ہے۔لیکن اس آخری موقع پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش پر شک تو پیدا ہوگا کہ ان کے من میں کوئی اور بیٹھا ہے جس کے ظہور کے لئے اسٹیج تیار کیا جارہا ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں