حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

کوئی بھی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے اسباب و عوامل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی وجہ سے کوئی بھی انسان اس درندگی پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ جوانسان کو ایک چھ سال کی بچی پر ہوس کی نگاہ ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں۔
زینب کا کیس نیا نہیں ہے ابھی کچھ ہفتہ پہلے کی بات ہے جب وہ ننھی بچی پڑوس میں گئی اور واپس نہ لوٹی اور چند دن بعد لاش ملی۔۔۔ ایسے کئی بچے اور بچیاں لاپتہ ہوئیں اور لاشیوں کی صورت وآپس ملے اور میڈیا خاموش رہا جبکہ کچھ کیس ایسے بھی ہونگے جن کی میڈیا کو خبر بھی نہ لگی ہوگی۔
یہ مسئلہ صرف قصور یا کراچی کا نہیں ۔درندگی کا یہ کھیل تو ملک میں ہر جگہ کھیلا جارہا ہے کہیں کی خبر مل جاتی ہے اور کہیں دبا دی جاتی ہے خاندان کی بدنامی کے ڈر سے۔
پاکستان ہی نہیں یہ ظلم امریکہ جیسے تر قی یافتہ ممالک میں بھی جاری ہے ۔۔۔
لیکن یہاں بات تو میری اور آپ کی حیا اور غیرت و ایمان کی ہے حکمرانوں کی بے حسی وبے ضمیری کی ہے جن کی آشیر باد سے آزاد میڈیا اورمعاشرتی آزادی یا عورت کی آزادی کے نام پر وہ زہر پھیلایا جارہا ہے جو ہماری رگوں میں پھیل کر ہماری حیا کو ختم کرکے وہ تعفن پیدا کر رہا ہے کہ شیطان بھی پناہ مانگے ۔۔۔
کھلے گریبان۔۔۔جذبات کو بھڑکاتے ادھورے لباس۔۔۔ نیم برہنہ خواتین،کس اشتہار میں نہیں۔۔۔۔
کسی بھی اشتہار کو دیکھ لیں صابن سے لے کر ایک ببل گم تک چائے کی پتی سے موٹرسائیکل ،شیونگ کریم تک ۔۔۔۔ موبائل فون کے اشتہاروں نے تو حد ہی کردی
کس ڈرامہ میں لو اسٹوری کے نام پر فحاشی نہیں ہے؟؟
وہ شائد کسی آئسکریم کا اشتہار تھا۔ بہن بھائی آئسکرئم پر لڑ اور دوڑ رہے تھے
کیمرہ مسلسل بچی کو فوکس کیے جارہاتھا۔ بڑھتے ہوئے جسم پر چھوٹی سی ٹی شرٹ اور ٹائٹس،کیا دیکھانا مقصود تھا؟
یہ نیم برہنہ کنسرٹ مخلوط محفلیں،ناچ گانے کہاں لے جارہے ہیں؟ اخبارات رسائل کسی کو بھی اٹھا کر دیکھ لیجئے ہر خاتون کی تصاویر کو کس طرح نمایاں کیا جاتاہے
جب میڈیا انٹرٹینمنٹ کے نام پر 24 گھنٹہ غلاظت آپ کے ذہنوں میں انڈیل رہا ہو تعفن تو اٹھے گا نا؟؟؟؟ اور آپ بلا کسی جھجھک اپنے بچوں کے ساتھ مل کر اسے دیکھتے ہوں اور کوئی احتجاج بھی نہیں )
سونے پہ سہاگہ چند روپے میں انٹرنیٹ کی سہولت سے دنیا میری جیب میں ہے
سامان لذت میری انگلیوں پر، جس پر جہاں چاہوں جب چاہوں اپنے نفس کی تسکین کا سامان کروں۔ تعفن تواٹھنا ہے نا۔۔
گوگل پر کسی چیز کو سرچ کرلیجیے ذرا سے لفظوں کی غلطی پر کیا سے کیا دکھا دیتا ہے ۔میڈیا کو چھوڑیں کسی مارکیٹ کسی یونیورسٹی کسی تقریب میں چلے جائیں عورتیں بچیاں کس قسم کے لباس میں ہیں؟۔ ٹائٹس جیسی واہیات چیز جو کبھی سردیوں میں ہم بچیوں کو شلوار پاجاموں کے اندر پہناتے تھے وہ بچیاں کیا بڑی عمر کی خواتین پہنے گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔
کپڑے پہن کر ننگی دکھائی دینے والی یہ خواتین باپ بھائی شوہروں کی مرضی سے ہی پہنتی ہیں نا وہ یہ لباس!! ان کی کہاں سو جاتی ہے غیرت؟؟۔
موٹر سائیکل پر بیٹھی ٹائٹس پہنی بہن بیٹی یا بیوی کس طرح دعوت نظارہ دے رہی ہوتی ہیں۔آزادی کے ہیجان میں مبتلا یہ خواتین خود کو کسی نہ کسی طرح ایکسپوز کرنا چاہتی ہیں کہ ستائشی نظروں سے دیکھی جائیں ساتھ اپنی ننھی معصوم کلیوں جیسی بچیوں کو بھی ایسے ہی لباس پہناتی ہیں دیکھنے والے کن نظروں سے دیکھتے ہیں احساس تک نہیں ہوتا انھیں۔آپ کہتے ہیں اپنی بچیوں کی خود حفاظت کریں اکیلے کسی کے ساتھ نہ جانے دیں، ابھی گذشتہ جمعرات کے درس میں ہی بات نکلی تو ڈیفنس کی ایک ڈاکٹر کے مطابق !!!
کہتی ہیں روح کانپ جاتی ہے جب بچیاں اپنے محرم رشتون یا قریبی رشتوں سے لٹ کر آتی ہیں ۔انتہاء پستی کا مقام ہے۔محافظ لٹیرے ہوگئے۔میں اپنی بچیاں باہر کے درندوں درندوں سے تو بچا لوں۔قریبی اور رشتوں سے کیسے بچاؤں شیطان نما خاندان اور گھر میں بھی ہوسکتے ہیں۔آپ کہتے ہیں صرف حکمرانوں کو برا کیوں کہتے ہو پورا معاشرہ خراب ہے ۔تو معاشرہ خراب کون کر رہا ہے حکمرانوں کی ایما پر ہی تو یہ ناسور پھیل رہا ہے ۔اس سے پہلے پھر کوئی زینب کسی کچرے کے ڈھیر سے ملے مجرموں کیفرکردار تک پہچادیں۔لوگوں کو فوری انصاف اور مجرم کو فوری سزا ہو تو جرائم پنپ ہی نہیں سکتے … اس مسئلہ کا حل فوری انصاف اور سخت ترین سزائیں ہیں اور شرعی قانون سزاؤں کو نافذ کرنا ہے۔چور کے ہاتھ کاٹ دو زانی کو سنگسار کردو .سر عام پھانسی دیجیے معاشرہ جرائم سے پاک ہوجائے گا۔اور اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو انتظار کرو کہ زلزلہ تمھارے محلوں کی چھتوں کو زمیں بوس کردے
کیونکہ
“وماکان ربک نسیا ” (سورہ مریم
تمھارا رب بھولنے والا نہیں ہے

حصہ
mm
ڈاکٹر سیما سعید پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔ مریض کے ساتھ سماج کے نبض پر بھی ہاتھ ہے۔ جسمانی بیماریوں کے ساتھ قلم کے ذریعے معاشرتی بیماریوں کا علاج کرنے کا جذبہ بھی رکھتی ہیں۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں