’’خوابوں کو بکھیرنے والے قانون کی گرفت میں ضرور آئیں گے‘‘

’’اپنی چھت کا خواب تعبیر کی صورت اختیار کرنے لگے تو یہ بہت ہی خوشنماحقیقت ہوتی ہے کیونکہ ہرکسی کی خواہش ہوتی ہے کہ مکان کی چھت اپنی ذاتی ہو اور مالک مکان کے طعنے بھی سننے کاموقع نہ ملے جس کے باعث ذہنی کوفت اٹھانی پڑے اور عزت نفس مجروح ہو،باعزت زندگی ہرآدمی چاہتاہے ،سکون اور اطمینان کی خواہش بھی ہر دن میں ہوتی ہے تاکہ ذلتوں سے بچ سکے اور یہ احساس اس کے دل میں پوری طرح بیٹھ جائے کہ میں ایک آزاد وطن کاشہری ہوں اور مجھے بھی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کاحق ہے ،اس کو محسوس ہو کہ میں پوری طرح ہندوؤں اور انگریزوں کی غلامی کاطوق اپنے گلے سے نکال چکاہوں،پرآسائش زندگی کے خواب کی عملی تعبیر حقیقت کاروپ دھارے ،معاشرتی آزادی مجھے میسر ہو،مجھے چادر اور چار دیواری کاتحفظ مل سکے تاکہ میرے اہلخانہ ایک اچھی زندگی بسر کرسکیں اور یہ سب خواب اسی صورت حقیقت کاروپ دھارسکتے ہیں کہ جب ایوانوں میں بیٹھے نمائندے دل میں عوام کے لیے درد رکھیں ،خدمت کاجذبہ پیدا کریں،آسائشات چھوڑ کر محلات سے باہر نکلیں اور اپنی رعایاکے حال سے واقف ہوں اور آخرت میں جواب طلبی کااحساس پیداکرتے ہوئے اپنی دنیا اور آخرت کوسنواریں ۔حکومت کی ذمہ داریوں میں یہ بات شامل ہے کہ لوگوں کو اچھاطرز زندگی مہیا کریں تاکہ وہ برسراقتدار افراد کیلئے دل سے دعانکال سکیں ،سکون واطمینان کے ساتھ اپنے گھرمیں محفوظ رہتے ہوئے ڈٖر وخوف کے بغیر نہ صرف زندگی کے معمولات انجام دے سکیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ شامل کرکے ایک اچھے شہری ہونے کیلئے درکار شرائط پر پورا اترنے کی سعی کرتے رہیں۔
لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ،کیونکہ حکمرانوں کی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ عوام در بدر ہوجائیں ان کے آگے گھٹنے ٹیکیں ان کے محتاج رہیں ،انہیں اس بات کی پروانہیں کہ سرد گرم موسم کے اثرات انسان پر کیااثرات ڈالتے ہیں سکون کس شے کانام ہے ،اسی لیے وہ دوسری اور اسکیموں کی طرح عوامی اسکیموں میں تو ڈنڈی مارتے ہی ہیں لیکن جو پرائیوٹ ڈیولپرز ہوتے ہیں ان کو بھی شہہ دیتے ہیں اور اپنا حصہ نکال کر سائیڈ پکڑ لیتے ہیں،اس کی ایک جھلک دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح ڈیولپرز اوپن ہاؤسنگ اسکیمز میں لوگوں کو اچھی اور سستی رہائش کے خواب دکھاتے ہیں ،ان سے پیسے اینٹھتے ہیں اور پھر الاٹیز کو تسلیاں اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے چلتے بنتے ہیں،کبھی یوٹیلیٹی اداروں کو تعمیر میں تاخیرکاذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو کبھی قبضہ مافیا کے وجود کو حقیقی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہوئے ہراساں کرتے ہیں اور معاملہ صرف یہیں اختتام پذیر نہیں ہوتا،وہ آگے جاکر ان کی گرفت میں آجاتاہے اور ایک عام شہری اور خریدار کس آسانی کے ساتھ آنکھں بند کرکے بھروسہ کرتے ہوئے خون پسینے کی کمائی لاکر ان کے ہاتھ پر رکھ دیتاہے اور برسوں کی جمع پونجی گنواکر ان کے جھانسے میں پھنس جاتاہے کہ ان کو ہرطرح سے یہ اذیت دینے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں،دوسری جانب متعلقہ ادارے بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں معاملہ زیادہ نازک صورت اختیار کرلے تو صرف بیان بازی سے کام چلاکر لوگوں کو مطمئن کرنے کی جھوٹی کوشش کاسہارالیتے ہیں،وقت کے قاضی بھی صورتحال کاصحیح ادراک نہیں کرپاتے اور بجائے اس کے کہ ڈیولپرز سے باز پرس کریں متعلقہ اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے احکامات صادر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری کی شنوائی اور داد رسی نہیں ہوپاتی،یایوں کہیں تو زیادہ مناسب ہوگاکہ اسے یہ یہاں سے بھی انصاف نہیں مل پاتا اور وہ مایوس ہوکرانتہائی اقدام تک اٹھانے پر مجبور ہوجاتاہے اور بلڈر ز کو بددعائیں دیکر اپنامعاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتاہے اور پھر یقیناً جسے کہیں انصاف نہ ملے اس در سے تو ہرانسان کو انصاف ملتاہے اور وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتااور ایک وقت آتاہے کہ لوگوں کو اذیت دینے والے اپنے انجام کو پہنچنے ہیں کیونکہ اس کے درپر دیر ہے اندھیر نہیں ۔

حصہ
mm
محمد سمیع الدین انصاری نے جامعہ کراچی سے ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کیا ہے۔انہوں نے سندھ مدرسۃ الاسلام سے نیوز پروڈکشن کورس بھی کیا ہے۔صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں،روزنامہ دنیا کراچی میں بطور اسسٹنٹ سٹی ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں