زبیدہ طارق سے زبیدہ آپا تک کا سفر 

دوہزار اٹھارہ کے آغاز میں پاکستان کی ایک عظیم ،سلیقہ شعار اور شہرت یافتہ خاتون زبیدہ آپا خدائے حقیقی سے جا ملی۔ان کی عقیدت کا ثبوت اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ اس خبر نے ہر آنکھ کو نم کردیا ہے ۔زبیدہ آپا کا تعلق ایک ادبی اور فنکار گھرانے سے تھا وہ نامور اور مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا اور مصنف انور مقصود کی بہن تھیں جس گھرانے میں ایسے انمول نگینے پرورش پائے ہوں وہاں زبیدہ آپا جیسی ماہر ومنفرد شخصیت کا ہونا کوئی عجب بات نہیں۔
زبیدہ طارق کی پیدائش 4 اپریل 1945 کو حیدرآباد دکن میں ہوئی اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی میں منتقل ہوگیا تھا۔ زبیدہ آپا نے 23 سال قبل کوکنگ ایڈویٹائزنگ کی حیثیت سے شوبز میں قدم رکھا اور اپنے کوکنگ شوز اور ٹوٹکوں کے ذریعے ہر دلعزیز ہوئیں اور زبیدہ طارق سے زبیدہ آپا بن گئیں
شگفتہ لہجہ کی مالک زبیدہ آپا نے ٹی وی اسکرین پہ اس طرح اپنا نام پیدا کیا کہ ہر گھر میں آپ کے بتائے ہوئے ٹوٹکے اور تراکیب استعمال کی جاتی ہیں زبیدہ آپا کے پاس گھریلو ہر مسئلے کا حل ہوتا
زبیدہ آپا نے اپنے سفر شہرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس زیادہ تعلیم نہیں تھی اور نہ ہی کوئی خاص ٹریننگ تھی کھانا پکانا میں نے شادی کے بعد سیکھا۔امی نے جھاڑو دلوائی گھر کا سارا کام کروایا مگر کھانا پکانا نہیں سکھایا شادی کے بعد اچانک لاہور جانا ہوا تو باورچی خانے میں جاکر میں نے کڑی پکائی اس وقت ٹیلیفون بھی نہیں تھے اور مجھے یاد نہیں رہا کہ کڑی دہی سے بنتی ہے میں سے پانی اور بیسن کی بنا دی اب وہ گاڑھی ہو کر نا دے مجبورا مجھے وہ پھیکنی پڑی مگر پھر بعد میں پکانا شروع کیا اور پسند آنے لگا تو کواعتماد آنے لگا کہ ہاتھ میں کچھ ذائقہ ہے اس کے بعد ڈھائی سو ہو ں یا تین سو لوگ کھانا گھر پہ ہی پکنا ہے۔
سال نو کے موقع پر زبیدہ آپا نے ایک ویڈو ریکارڈ کروائی جو ان کی زندگی کا آخری پیغام ثابت ہوا
آج سال کا آخری دن ہے آپ سب کو سال کا آخری سال بہت مبارک ہو اللہ آپ کو بہت خوشیاں دے اور ہم یہ عہد کریں کہ ہمارا یہ شہر کراچی چمکتا دمکتا رہے تاکہ آنے والے لوگ کہیں کہ کراچی کتنا خوبصورت ہے۔تعلیم پر توجہ دیں گورنمنٹ اسکول کو ٹھیک کروائیں تاکہ ہر بچہ تعلیم حاصل کر سکے 2018 اتنا خوبصورت آئے کہ ہماری ساری تکالیف دور ہو جائیں۔(زبیدہ آپا )
زبیدہ آپا امور خانہ داری میں نہایت مہارت رکھتی تھیں اور یہی وجہ ہے ان کی بتائی ہوئی کھانا پکانے کی تراکیب ہر کوئی اپنے گھر میں استعمال کرتا ہے اس کے علاوہ ٹوٹکوں کا وسیع خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں۔کوئی بھی علاج ہو یا کسی بھی قسم کا مسئلہ درپش ہو اس کا حل زبیدہ آپا کے پاس لازمی ہوتا تھا آج ہر کوئی ان کے بتائے ہوئے ٹوٹکوں کو آزماتا ہے اور داد دیتا ہے۔
لباس کا ذوق اور زیورات پہننے کا شوق زبیدہ آپا کی شخصیت کا خاصا تھا چوڑیوں کی ہر ویرائٹی ان کے پاس موجود تھی ایک مارننگ شو میں انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس پانچ ہزار کے لگ بھگ چوڑیوں کے سیٹ ہیں جو وہ اپنی ہر ساڑھی کے ساتھ میچ کرکے پہنتی ہیں۔
زبیدہ آپا بطور ایک ماہر شیف ،سلیقہ مند خاتون اور گھریلو ٹوٹکوں کی وجہ سے ہمیشہ ہر گھر میں یاد کی جائیں گی۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں