سانحہ اے پی ایس، جنت سے پھول کا خط

پیاری امی، آپ کیسی ہیں، ہم سب دوست جنت میں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں، ہماری فیورٹ مس ہمیں پڑھاتی ہیں اور ہم من لگا کر محنت کرتے ہیں، سب دوست ایک ساتھ کھیلتے ہیں،،اچھلتے کودتے ہیں،  اب میرا یونیفارم گندا نہیں ہوتا، روزانہ صبح بیگ تیار ملتا ہے، شوز پالش ملتے ہیں۔ سب دوست باقاعدگی سے اسکول جاتے ہیں، بریک ٹائم میں سب ملکر چاٹ، سموسے اور آئس کریم کھاتے ہیں

جنت میں ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں بس سب دوستوں کو ایک ہی پریشانی ہے، سارے دوست اپنی اپنی امی کو روتا دیکھ اداس ہو جاتے ہیں، پھر جنت کا ماحول افسرده ہو جاتا ہے۔پھر کوئی کھیلنے بھی نہیں آتا۔ بابا بھی آپ کے سامنے بڑے مضبوط بن کر بیٹھے رہتے ہیں مگر اکثر انہیں گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر اکیلے روتے دیکھتا ہوں تو میں بھی زارو قطار رونا شروع کر دیتا ہوں ۔

میں نے الله میاں سے کہا ہے کہ وہ آپ کو اور بابا کو رونے نہ دیا کریں

امی دیکھیں اگر آپ اور بابا یونہی روتے رہے تو میں آپ سے کُٹی ہو جاؤں گا اور پھر صبح اسکول بھی نہیں جاؤں گا۔

امی جان آپ نے میرے سارے کھلونے بھائی کو دے دئیے مگر میری فیورٹ کار کیوں نہیں دی، وہ بھائی کو بہت پسند تھی ناں۔ ہمیشہ اس کار کے لئے مجھ سے لڑتا تھا۔ آپ وہ کار بھائی کو میری طرف سے تحفہ دے دیں ۔

اچھا امی میں اب سونے لگا ہوں، آپ سے خواب میں ملوں گا تو ہم بہت سی باتیں کریں گے اور ہاں آج آرمی پبلک اسکول پشاور میں میرے کلاس روم میں ضرور جائیے گا۔

حصہ

2 تبصرے

  1. اللّه پاک ان کے والدین کو صبر جمیل عطا کرے اور ظالموں کو جہنم واصل کرے آمین

جواب چھوڑ دیں