ذریعہ تعلیم مادری زبان ہی کیوں؟

معاشرے کی تعمیر میں جن عناصر کو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل گردانا گیا ہے ان میں مادری زبان کی حیثیت بنیاد کے پتھر کی ہے۔کسی بھی شہری کی تعلیمی اور علمی ترقی اس کی مادری زبان پر منحصر ہوتی ہے۔درس اور تدریس کی زبان اگر فطری اور قابل فہم ہوتب طلبہ نہ صرف نفس مضمون کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں بلکہ اپنے خیالات اور تصورات کو بھی موثر انداز میں پیش کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔تعلیمی نظریات خواہ کتنے ہی اچھے اور تدریسی اصول کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں اگر طلبہ ان کا ادراک نہ کر پائیں تب سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے اور ایسے نظریات اور اصول بے فیض ثابت ہوتے ہیں۔قانون فطرت کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کی مادری زبان ان کی فطری زبان ہوتی ہے جسے وہ اپنے اظہار کا وسیلہ بناتے ہیں۔ سکھ دکھ ،خوشی اور غم کے اظہارمیں مادری زبان کااستعمال ہوتاہے۔ مادری زبان انسانی جذبات کے اظہار کا سب سے موثر وسیلہ ہوتی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے بھی مادری زبان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔مطالعہ قرآن سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اقوام کی فکری اور شخصی تعمیر اور تبدیلی کے لئے اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء مبعوث فرمائے ان کا اپنی اسی قوم سے تعلق رہا ہے۔انبیاء اکرام نے اپنا دعوتی اور انقلابی مشن اپنی قوم کی زبان میں ہی پیش کیا ۔اسلام دین فطرت ہے اور تعلیم کے لئے اسلام نے فطری طریقوں کو پسند فرمایا ہے۔’’کہ ہم جب بھی کوئی رسول بھیجتے ہیں تو اسی قوم ہی کی زبان میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ وضاحت کیساتھ خدا کا پیغام ان تک پہنچائے(سورۃ الابراہیم)۔قابل غور بات یہ ہے کہ اگریہ مشن غیر مانوس اور اجنبی زبان میں پیش کیا جاتا تب ایک بڑی تعداد اس پیغام کو سمجھنے سے قاصر رہتی ۔قانون فطرت کے اس اہم کلیہ سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ وہ تعلیم جو مادری زبان میں فراہم کی جائے تاثیر اور افادیت سے خالی نہیں ہوتی ۔ دین کی تبلیغ اور پیغام حق کی ترسیل و دعوت کے لئے انبیاء نے لوگوں کے مزاج، کلچر،تمدن اور فہم کو اپنے پیش نظر رکھا۔دین فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ابتدائی تعلیم جو مادری زبان میں مہیا کی جائے گی اہمیت ،افادیت اور تاثیر سے خالی نہیں ہوگی۔قرآن کو عربی زبان میں نازل کرنے کے مطابق اللہ رب العزت فرماتے ہیں ’’اگر ہم قرآن کو عجمی زبان میں نازل کرتے تو لوگ کہتے کہ اس کی آیات (باتیں) واضح کیوں نہیں ؟ ایک عرب ہوتے ہوئے عجمی زبان بول رہا ہے۔‘‘بچوں کی تعلیم و تربیت اور درس و تدریس میں ہم نے اس نظریے کو یکسر فراموش کر دیا ہے جس کا خمیازہ آج ہماری نسلیں بھگت رہی ہیں ۔افکارکا سطحی پن ، غیر متوازن شخصیت ،فکر و اظہار سے عاری افراد،کوتاہ نگاہی اور کوتاہ ذہنی یہ تمام خرافات کی وجہ صرف غیر مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کی فراہمی اور تحصیل علم ہے۔ مادری زبان سے لاعلمی اور بے پروائی بھی معاشرے کی پسماندگی کے کئی اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔علاقائی زبانوں کی اہمیت سے ہر گز انکار نہیں کیا جاسکتا۔لیکن علاقائی زبان کی ترقی اور ترویج کے لئے اختیار کئے جانے والے موقوف سے مادری زبان سے محبت کرنے والوں کا بے چین اور مضطرب ہونا بھی ایک فطری عمل ہے۔ہمہ لسانی یا کثیر لسانی تعلیم کا چرچا (غوغا) آج کل بہت ہورہا ہے۔ آج کے ماہرین تعلیم کی ایک بڑی تعدا د کثیر لسانی تعلیم کی موئید نظر آتی ہے۔لیکن تعلیمی تجربات،تحقیق اور حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے اپنی مادری زبان میں بہ نسبت دیگر زبانوں کے جلد سیکھتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں اسکولی سطح پر مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت میں اضافہ ہونا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے اقلیتی زبانوں(اردو) کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاں مادری زبان میں تعلیم فراہم نہیں کی گئی وہاں ناخواندگی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔آزادی کے بعد سے آج تک اردو کواپنا شاندار ماضی رکھنے کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں ہوپایا جس کی وہ مستحق تھی خاص طور پر شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد جہاں ایک دیسی زبان( اردو) میں ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم کا کامیاب تجربہ کیا گیا ۔ریاست حیدرآباد ،جامعہ عثمانیہ نے انجینئرنگ اور میڈیسن کی اعلیٰ تعلیم کو اردو میں فراہم کرتے ہوئے ساری دنیا کے آگے علاقائی زبانوں کی اہمیت و افادیت کوکامیابی کے ساتھ ثابت کیا گیا ۔آج اپنے گھر میں ہی اردوکی حیثیت ایک کرایے دار کی سی ہوگئی ہے بلکہ اسے بے گھر ہی کردیا گیا ہے۔کسی بھی زبان سے عوام کی تہذیب ،ثقافت اور مذہبی عقائد جڑے ہوتے ہیں۔ قومی اور علاقائی زبانوں کے تسلط سے اقلیتی زبانوں سے وابستہ تہذیب ،ثقافت اور کلچرکو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔زبان کا تحفظ درحقیقت تہذیب،ثقافت اورکلچر کا تحفظ کہلاتا ہے۔1871ء میں فرانس کی سرحدوں پر جب جرمن افواج قابض ہوئی تو فرانس کے ایک استاد(مسٹر ہیبل) نے طلبہ اور معززین شہر کو جمع کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ’’‘فرانسیسی زبان دنیا کی مضبوط ، واضح اور حسین ترین زبان ہے۔ یہ ہمارے قومی ورثے کی واحد محافظ ہے۔ جب ایک قوم غلام بن جاتی ہے تو جب تک وہ اپنی زبان کو محفوظ رکھے، اس کے پاس وہ چابی رہتی ہے جس سے وہ اپنے قید خانے کا دروازہ کھول سکتی ہے‘‘۔ (فرانسیسی مصنف الفوز ڈیویڈ)۔اہل اردو کو بھی آج یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنی زبان کی حفاظت کے ذریعے وہ مخالف طاقتوں اور منصوبوں کو زیر کر سکتے ہیں۔
مادری زبان میں تعلیم کیوں ضروری ہے:۔دنیا میں صرف دو ایسی زبانیں ہیں جنہیں انسان بغیر کسی علم و اکتساب کے سیکھتا اور سمجھتا ہے ،ایک مادری زبان اور دوسری اشاروں کی زبان جسے بین الاقوامی زبان (یونیورسل لینگویج ) بھی کہا جاتا ہے۔رحم مادر میں ہی آوازوں کی پہچان،الفاظ و جملوں کی ترتیب کا شعور ذہن انسانی کو خداوند کریم کا عطاکردہ ایک عظیم تحفہ ہے۔رحم مادر میں ہی بچے میں فہم کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے۔اسی پس منظر میں بچہ اپنی پیدا ئش کے بعدگردو پیش میں بولی جانے والی زبان سے فہم و ادراک کی صلاحیت حاصل کرتاہے۔ لسانیات،نفسیات اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی فہم و فراست میں وسعت ،گہرائی اور گیرائی صرف مادری زبان ہی سے پیدا ہوتی ہے۔گویا یہ کہاجاسکتا ہے کہ بچہ ماں کی کوکھ سے جو زبان لے کر دنیا میں آتا ہے وہ اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔مادری زبان کو صرف ایک زبان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔مادری زبان کسی قوم کی تہذیب ،ثقافت،جذبات ا ور احساسات کی ترجمان ہوتی ہے۔خیالات ،افکارو معلومات کے اظہار وترسیل ا ورابلاغ میں مادری زبان ایک قدرتی اور سہل وسیلے کا کام انجام دیتی ہے۔سوچنے ،سمجھنے کا عمل لاشعوری طور پر مادری زبان میں ہی انجام پاتا ہے۔حتیٰ کہ انسان خواب بھی مادری زبان میں ہی دیکھتا ہے۔ اختراعی اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہارمیں مادری زبان کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔مادری زبان سیکھنے اور سکھانے میںآسان ہوتی ہے۔سیکھنے ،سکھانے کے علاوہ تخلیق و ایجاد کا بھی مادری زبان سے راست تعلق ہوتا ہے۔مختلف علوم (سائنسی،تکنیکی،فنی اور دیگر علوم لطیف(فائن آرٹس))کے تصوراتی فہم اورمعلومات کی ترسیل میں مادری زبان سب سے بہتر اور موثر وسیلہ ہوتی ہے۔مادری زبان اپنے پہلومیں تمام عصری علوم کے نفس مضمون اور تصورات کو بغیر کسی اصطلاح کے سمجھنے ،سمجھانے اور ترسیل و ابلاغ کی گنجائش رکھتی ہے۔انسانی شخصیت کی تعمیر بھی مادری زبان کے زیر اثر ہی انجام پاتی ہے۔اسی وجہ سے ماہرین تعلیم نے مادری زبان کو حصول علم کا سب سے بہتر اور موثر ذریعہ قرار دیا ہے۔آج بھی دنیا کے تقریباسبھی ترقی یافتہ ممالک میں مادر ی زبان میں تعلیم کا رجحان عام ہے۔مادری زبان کی اہمیت و افادیت کو سابق سوویت یونین کی ریاست داغستان کا شاعر رسول حمزہ توف یوں بیان کرتا ہے؛ ’’میرے نزدیک زبانیں، آسمان پر بکھرے ہوئے ستاروں کیطرح ہیں اور میں یہ نہیں کہوں گا کہ تمام ستارے ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک بڑے ستارے کا روپ دھار لیں کیوں سورج تو پہلے سے ہی موجود ہے ۔لیکن سورج کی موجودگی کے باوجودیہ ضروری ہے کہ ستارے آسمان پر چمکتے رہیں اور ہر آدمی کے پاس اپنا ستارہ ہو۔‘‘اسی وجہ سے پچاس سال قبل یونیسکو (UNESCO) نے عالمی سطح پر ابتدائی تعلیم کو بچوں کی مادری زبان میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔اور مادری زبان کی اہمیت و معنویت کو تسلیم کرتے ہوئے ہرسال 21فروری کو عالمی یوم مادری زبان منایا جاتا ہے۔ یونیسکو (UNESCO)نے مادری زبان کو بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لئے سب سے موثر و مفید قرار دیا ہے۔مادری زبان نہ صرف بچوں میں تحقیقی ،تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کاباعث بنتی ہے بلکہ بچوں کے پاس پہلے سے ہی اپنی زبان کا ایک ذخیرہ موجود ہوتا ہے جس سے بچے نئے الفاظ سیکھنے کے غیر دلچسپ عمل سے بچ جاتے ہیں۔مادری زبان میں سیکھنے سے انہیں گوناں گو خوشی اور مسرت حاصل ہوتی ہے۔ان کے ذہن اکتسابی بوجھ سے محفوظ رہتے ہیں۔دنیا میں جہاں کہیں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا وہاں ترک تعلیم کے رجحان میں کرشماتی گراوٹ درج کی گئی ہے۔مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں اپنی مادری زبان کی قدرو قیمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔بچے جب مادری زبان میں تعلیم حاصل نہیں کر پاتے ہیں تو یہ سوچنے لگتے ہیں کہ علمی اعتبارسے ان کی مادری زبان اہمیت و افادیت سے عاری ہے اور ان میں اپنی زبان سے محبت اور احترام کا جذبہ کم ہونے لگتاہے۔مادر ی زبان میں تعلیم کے متعلق یونیسکو کا کہنا ہے کہ ’’برسوں کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جو بچے اپنی مادری زبان سے تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں شروع سے ہی ا ن کی کار کردگی بہتر ہوتی ہے۔ا ن کی یہ اچھی کار کردگی مسلسل قائم رہتی ہے بہ نسبت ان بچوں کے جو اپنی تعلیم ایک نئی زبان سے شروع کرتے ہیں۔اس نتیجہ پر ہر کہیں عمل ہورہا ہے اگر چہ ہم اب بھی ایسی حکومتوں کے بارے میں سنتے ہیں جو چھوٹے بچوں پر اجنبی زبان تھوپنے پر اصرار کرتے ہیں،وہ ایسا یا تو غلطی سے جدیدیت کی خاطر کر رہے ہوتے ہیں یا سماجی طورپر حاوی گروہ کی زبان کو فو قیت دینے کی خاطر ایسا کر رہے ہوتے ہیں’’۔یو نیسکو نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی شرح خواندگی میں کمی کی ایک بڑی وجہ مادری زبان میں تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ ابتدائی تعلیم سے متعلق یونیسکو کی جاری کردہ پالیسی میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ چھوٹے بچوں کو ابتدائی 6سال تک مادری زبان میں ہی تعلیم دی جانی چاہئے، تاکہ جو کچھ بچوں نے سیکھا ہے وہ بھول نہ پائیں۔
دستور ہندکی روسے مادری زبان میں پرائمری سطح پر تعلیم کی سہولت ؛۔دستور ہند کی دفعہA 350کے تحت پرائمری سطح پر مادری زبان میں تعلیم فراہم کرنے کی واضح گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ لسانی اقلیتوں کی زبانوں کا تحفظ کیا جاسکے۔تفہیم و وضاحت کے لئے دستور ہند کی دفعہ350Aکو یہاں نقل کرنا ضروری محسوس کرتا ہوں’’ہر ریاستی حکومت اور لوکل اتھاریٹی پر لازم ہے کہ وہ اپنے علاقے کی لسانی اقلیتوں کے بچوں کے لئے پرائمری سطح پر ان کی مادری زبان میں تعلیم کا انتظام کرے اور جب صدر جمہوریہ محسوس کرے کہ ان سہولتوں کی فراہمی ضروری ہے تو وہ کسی بھی ریاست کو ان کی پابجائی کے احکامات دے سکتا ہے۔‘‘دستور کی اس مراعات سے فیض اٹھاتے ہوئے لسانی اقلیتیں اپنی زبانوں کاتحفظ یقینی بنا سکتے ہیں۔لسانی اقلیت کے ضمن میں ایک ا ہم بات آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ زبان کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا تعین اس کے بولنے والوں کی اکثریت سے ہوتا ہے اور نہ اس کی قدامت سے۔زبان کی مقبولیت اور اس کے نافع ہونے کے دو ہی پیمانے ماہرین لسانیا ت کے پاس پائے جاتے ہیں کہ اس کا ادبی سرمایہ کتنا عظیم اور شاندار ہے دوسرا اس کے بولنے والے اپنی مادری زبان سے کس درجہ محبت کرتے ہیں او ر اس کے استعمال میں کتنے مستعد ہیں۔اردو زبان ماہرین لسانیات کی ان دو کسوٹیوں پر بالکل کھری اترتی ہے۔ اس کا دامن عظیم سرمایہ ادب سے مالامال ہے اور اس میں نہ صرف ادبی شاہکار پائے جاتے ہیں بلکہ اس کا دامن سائنسی اور دیگر فنی علوم سے بھی مالامال نظرآتا ہے۔اس کے بولنے والے اس سے والہانہ جنون کی حد تک محبت بھی کرتے ہیں۔
انگریزی ذریعہ تعلیم کی قباحتیں:۔جن ماہرین تعلیم کی سفارشات پر انگریزی کو جماعت اول سے لازمی قرار دیا گیا ہے اور پرائمری سطح پر ہماری ریاست میں انگریزی میں تمام مضامین پڑھانے والے انگریزی میڈیم اسکولوں کو قائم کرنے کی منظوریاں مرحمت کی گئی ہے اس بارے میں محکمہ تعلیمات اور حکومت کو از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ذہنوں میں یہ بات پیوست کر دی گئی ہے کہ قوم و ملک کی ترقی کا واحد راستہ انگریزی ذریعہ تعلیم ہی ہے جب کہ یہ ایک خام خیالی ہے جس کا حقیقت سے دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔پرائمری سطح پر پڑھنے والے طلبہ عموماً4 (چار)تا10(دس) سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔اول جماعت ہی سے کسی ایک غیر مانوس جماعت کو مادری زبان کے ساتھ شامل نصاب کرنا ماہرین تعلیم و لسانیات کے نظریات کے یکسر منافی ہے۔اس فیصلے سے اکثر اساتذہ بھی الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔زبان کی تدریس کے لئے زبان پر عبور رکھنے والے اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ پرائمری سطح پر انگریزی زبان کے ماہرین کے بغیر ہی یہ کام انجام دیا جارہاہے۔ایک معصوم بچہ جس کا ذہن ابھی ارتقااور نشوونماء کے ابتدائی مراحل سے گزررہا ہے اور جو ابھی اپنی مادری زبان ( نوشت وخواندہ) سیکھنے میں مصروف ہے اس کے چھوٹے سے ذہن پر انگریزی کا بوجھ پوری قوت کے ساتھ ڈال دینا کیا ایک غیر فطری اور غیر اصولی فیصلہ نہیں ہے۔عالمی سطح پر بھی دوسری زبان کی تدریس تحتانوی سطح پررائج ہے لیکن ہمارے تعلیمی نظام میں بددیسی زبان کو سیکھنے کے لئے جماعت اول ہی سے زور دیا جاتا ہے جب کہ بچہ ابھی مادری زبان ہی نہیں سیکھا پاتا ہے۔مادری زبان کو سکھائے بغیر جب کوئی دوسری غیر مانوس زبان بھی شامل نصاب کر دی جاتی ہے تب زبانوں کی تدریس میں پائے جانے والے اختلاف کی وجہ سے بچے کی فطری صلاحیتیں دب جاتی ہیں اور وہ تعلیم سے فرار کے راستے ڈھونڈنے لگتا ہے۔بچے پر تعلیم کے ساتھ کتابوں کا اضافی بوجھ بھی عائد ہوجاتا ہے۔ہماری موجود ہ تعلیمی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم بچوں کو تعلیم نہیں دے رہے ہیں بلکہ زبانیں سکھا رہے ہیں۔طوطے کی طرح زبان کو رٹایا جارہاہے۔اس وقت زبانوں کی تدریس کی عملی صورتحال یہ ہے کہ ہم قومی زبان ہندی بھی پڑھا رہے ہیں،مادری زبان اردو بھی پڑھا رہے ہیں،انگریزی بھی پڑھا رہے ہیں اور امسال سے حکومت کے جاری کردہ احکامات کی روشنی میں اول تا انٹرمیڈیٹ لازمی طور پر علاقائی زبان (تلگو ) بھی پڑھائیں گے۔یہ ترتیب حکومت کے سہ لسانی فارمولہ کی سفارشات کے بھی مغائر ہیں۔ UNESCO رپورٹ کی روشنی میں کم سے کم ایک نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ ایک کلچر کی زبان کے ساتھ دوسرے کلچر کی زبان کی تدریس آسان کام نہیں ہے۔تعلیمی پالیسی وضع کرتے وقت بالخصوص زبان کی تدریس کو لازمی قرار دینے سے پہلے غور کرنا ضروری ہے کہ ہر زبان دوسری زبان سے مختلف ہے اور پڑھانے والے اساتذہ بھی زبان کے علم اور تدریس سے ناواقف ہوتے ہیں۔آخر اس طرز تعلیم سے ہم بچوں کو کیا سکھانا چاہتے ہیں۔جو کچھ سکھایا جارہا ہے کیا وہ الفاظ کے ہجوں اور رٹوں تک محدود نہیں ہے ؟کیا بچے سبق کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کرنے کے لائق ہیں؟ کھل کر مافی الضمیربیان کرنے سے طلبہ میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔بچے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جب بات کرتے ہیں تو ان میں اعتماد کی فضاء پیدا ہوتی ہے مگر اس وقت زائد زبانوں کی تدریس کی وجہ سے ہمارے نونہال اعتماد سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ وہ نہ تو اپنی بات مادری زبان میں سمجھانے کے لائق ہیں اور نہ ہی انگریزی پر ا نہیں عبور حاصل ہے۔آج اقوام عالم اپنے بچوں کو علم پڑھا رہی ہے اور ہم زبان پڑھا رہے ہیں۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ علم ایک حقیقت ہے اور زبان محض علم تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔بچوں کو مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم کرنا گویا تعلیمی نسل کشی کے مترادف ہے۔مادری زبان سے عدم واقفیت نونہالوں کی صلاحیتوں کے زیاں کا سبب بن جاتی ہے۔بین الاقوامی زبان (انگریزی)کی تدریس بھی ضروری ہے لیکن اس کو مادری زبان کی قیمت پر سیکھنا خودکشی سے کم نہیں ہے۔انگریزی زبان جدید علوم کی زبان ہے اس کی تدریس نہایت اہم ہے ۔انگریزی کو چوتھی جماعت سے ایک زبان کے طور پر متعارف کرنا نفسیاتی اور لسانیات اصولوں کے عین مطابق نظر آتا ہے ۔اول تا سوم ،طلبہ میں اپنی مادری زبان میں نوشت و خواند کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور ایک غیرمانوس زبان سیکھنے میں ان کو کم دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ عمر کے اس درجے میں تمیز اور شعور کی سطح بھی اونچی ہوجاتی ہے۔انگریزی زبان کی تدریس ابتدائی جماعتوں (جماعت چہارم) سے قابل قبول ہے لیکن انگریزی کو ذریعہ تعلیم ابتدائی جماعتوں میں بنا دینا بچوں کی نظر و فکر کو محدود کردینے کے مترادف ہے۔اگر مسئلہ تعلیم میں انگریزی زبان کی اہمیت کا ہے تو ہر طالب علم اپنی زبان پر دسترس حاصل کرنے کے بعد صرف ایک دیڑھ سال میں انگریزی کیا کسی بھی زبان پر قدرت حاصل کرسکتا ہے۔ ثانوی سطح پر انگریزی کے کراش کورس بھی اس ضمن میں بہت معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ذریعہ تعلیم انگریزی کے نام پر طلبہ کو سالہاسال مشقتسے دوچار کرنا ایک غیر فطری عمل ہے۔ (جاری ہے)

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں