حضرت خبیب کی داستانِ وفا

یہ مکہ کا ایک چوراہا ہے۔شہر کے بیچوں بیچ واقع ہونے کی وجہ سے مرکزی مقام حاصل ہے۔بازار،دوکانیں اردگرد واقع ہیں۔بیچ شہر واقع ہونے کی وجہ سے ہر وقت بھیڑ لگی رہتی ہے۔دیگر شہروں سے آنے والے تجارتی سامان کا مرکز ہے۔
آج خلاف معمول رش زیادہ ہے۔عوام کا جم غفیر ہے۔کچھ غلام نیلامی کے لئے موجود ہیں۔دلال غلاموں کانام لے لے کر خریداروں کو متوجہ کررہاہے۔
آخر ایک آواز بلند ہوئی۔
’’خبیب‘‘
کون خریدے گا؟
مقتول بدر،سردار قریش حارث بن عامر کے بیٹوں کے کان پڑی۔ذہن پردباؤ ڈالا۔
کون خبیب؟؟
آخر جواب مل گیا۔باپ کا قاتل،جس نے بدر میں حارث بن عامر کو تہ تیغ کیا۔
انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔خون کھولنے گا۔غیض وغضب جوش مارنے لگا۔
فورا خبیب کو خریدنے کے لئے بھاگ پڑے۔خرید کر قید کرلیا۔
خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ۔۔۔اس دس رکنی تبلیغی وفد کے رکن جو قبیلہ عضل اور قارہ کی غداری کی بھینٹ چڑھ گیا۔دیگر آٹھ ساتھی مکہ اور عسفان کے مابین مقام رجیع پر شہید کر دئیے گئے۔
خبیب اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ دشمن کی بدعہدی کا شکار ہو کر گرفتار ہوئے۔
مکہ کے بازار میں فروخت ہوئے۔
بدلے کی آگ میں جھلسے حارث بن عامر کے بیٹے انتقام کے لیے تیار ہیں۔ان کی دیکھا دیکھی مکہ کے دیگر مقتولین کے لواحقین بھی اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کو تیار ہوگئے۔
مکہ اور گردونواح میں منادی کرادی گئی ہے۔آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی’’خبیب‘‘ کوسولی چڑھانا ہے۔لوگ جوق در جوق ’’تنعیم‘‘ میں اکٹھے ہورہے ہیں۔
بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ’’خبیب‘‘۔متانت،سنجیدگی اور رعب کے ساتھ سوئے مقتل چلے جارہے ہیں۔بلا کااطمینان چہرے پر۔۔۔معبودِ حقیقی کے دھیان میں۔۔۔سولی چڑھنے سے قبل دورکعت نفل پڑھے۔۔۔
سولی پر چڑھا دیا گیا۔چاروں طرف سے دشمن تیر وتلوار اور نیزے کاٹ ڈالنے کو تیار ہیں۔
موت سے قبل موت جیسی اذیت دینے کا فیصلہ ہوا۔تیر کی نوک سے کچوکے لگا کر۔۔۔نیزے کی انی جسم میں پیوست کرکے۔۔۔تلوار کی دھار سے جسم لہولہان کرتے جاتے اور پوچھتے جاتے۔
خبیب! موقع ہے محمدؐ کا کلمہ چھوڑدے۔آزاد ہوجائے گا۔
قربان جاؤں محمد عربیؐ کی مقدس جماعت کے روشن ستارے پر۔
عزم وہمت،وفاداری،ثابت قدمی اور استقامت کاپیکر۔
چشم فلک نے یہ منظر دیکھا۔۔۔فرشتوں نے استقامت کی تاریخ رقم ہوتی دیکھی۔۔۔
ایک ستم ظریف نیزے کی انی چبھو کے پوچھتا ہے۔
خبیب!اوخبیب! کیا تو چاہتا ہے کہ تیری جگہ یہاں آج محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سولی پر ہوتے۔اور تیری جان چھوٹ جاتی۔
آہ! ظالم نے کیسا گھاؤ لگایا۔۔۔روح تک کو چھلنی کر گیا۔۔۔
خبیب تڑپ اٹھے۔
چھلنی بدن۔۔۔رستا خون۔۔۔تیر،تلوار،نیزے کے زخموں کی تکلیف بے اثر ہوگئی۔۔۔
تنک بولے۔
’’خدا کی قسم! مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کوئی کانٹا یا پھانس چبھے اور میں آرام سے اپنے گھر بیٹھا رہوں‘‘۔
خبیبؓ کا جواب دشمن پر بجلی بن کر گرا۔
شہید کردیے گئے۔
عشق ومحبت اور عقیدت کی وہ تاریخ رقم کر گئے کہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
آقائے دوجہاں،فخردوعالم،سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں نے عشق و محبت کی وہ لازوال داستانیں رقم کی ہیں جن کی مثال دینا ناممکن ہے۔۔
الفاظ ان کی محبت، عقیدت اور عشق کو بیان کرتے تنگ دامنی کا شکوہ کرتے ہیں۔
عشق و محبت کس شے کا نام ہے۔ کیف ومستی،جذب وسرور، بے خودی، کیسے ہوتی ہے۔محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں کے قدموں میں بیٹھنے سے پتہ چلے گا۔
جہاں بھر کی محبتیں،عقیدتیں ان کی ذات بے مثال پر لٹانے کو جی چاہتا ہے۔
جن کی عظمت،سیرت کا تذکرہ کرتے ہوئے قلم بھی ادب سے جھک جاتا ہے۔
سب سے اعلی،سب سے ارفع،سب سے اکمل،سب سے اجمل،سب سے احسب،سب سے انسب،سب سے اتقی،سب سے اخشی،سب سے ابہا،سب سے انور۔
آج
کچھ بے ضمیرے۔۔۔ عقل وشعور سے عاری۔۔۔
کہنے کوتعلیم یافتہ مگر دیکھنے میں جاہل مطلق۔۔۔
کہنے کوروشن خیال مگر پرلے درجے کے تاریک خیال۔۔
کہنے کو باضمیر مگر مردہ ضمیر کے مالک۔۔۔
کہنے کو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار مگر درحقیقت بگاڑخلق کے علمبردار۔۔۔
مختلف فورمز پر آقائے دوجہاں کی عزت و آبرو اور تقدس پر حرف اعتراض اٹھاتے ہیں۔۔۔
یہ تو ریت ہے ان سب کی۔ابوجہل سے لے کر آج کے ان ناہنجاروں تک۔۔۔جب کچھ نہ بن پایا۔۔۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت کا راستہ تو نہ روک سکے۔۔۔
تو اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہیں۔کبھی خاکے، کبھی فلمیں اور کبھی بیہودہ تحریریں۔۔۔
نتیجہ صفر۔۔۔دنیا کا خسارہ آخرت کی ذلت۔۔۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ امتی حقیقی معنوں میں امتی بن کے دکھلائے۔۔۔پیغمبر عالمؐ کے پیغام کی حقیقی تصویر بنے۔۔۔
یہی پیغام ہے ہر ایک کے نام۔۔۔دامن مصطفیؐ میں آجاؤ۔۔۔ دنیا کی راحت۔۔۔ آخرت کی عزت۔۔۔ کامیابیاں ہی کامیابیاں۔
محمد کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں