چہروں کو پڑھیں، انسانی کتب خانے میں

انسان کا کتاب سے بہت قدیم رشتہ ہے، جدید دور میں برقی کتابیں پڑھنے اور لکھنے کا رواج بھی چل پڑا ہے، لیکن کتاب کو ہاتھ میں رکھ کر پڑھنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے، کاغذ پر تحریر الفاظ انسانی ذہن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اخبارات، رسائل اور کتابوں کی اشاعت کم نہیں ہوئی بلکہ قارئین کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

اگر ہمیں یہ سہولت دی جائے کہ آپ جو کتاب پڑھ رہے ہیں، اس کا لکھاری آپ کے سامنے بیٹھا ہو اور آپ اس لکھاری کے یا اس کی کتاب کے بارے میں جان سکیں تو یقیناً ہم اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔ ڈنمارک میں چند نوجوانوں نے ’’ہیومن لائبریری‘‘ کی بنیاد رکھ کر ایسا ہی کچھ کیا ہے۔ روہنی ابرگیل، اسما مونا اور کرسٹوفر ایرکسن نے2000ء میں ایک فیسٹیول میں’’ہیومن لائبریری‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ان تینوں افراد کا تعلق ڈنمارک کی ایک مشہور تحریک Stop the Violence سے ہے۔ جس نے 1993ء میں معاشرے میں پرتشدد رویے کے خلاف آواز بلند کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک سے ہزاروں نوجوان منسلک ہوگئے تھے۔

’’ہیومن لائبریری‘‘ بنانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے یہ نوجوان کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ نہ صرف ڈنمارک بلکہ دنیا بھر میں مختلف مذاہب، مختلف رنگ و نسل، مختلف پیشے کے لوگوں سے متعلق جو کہانیاں یا باتیں پھیلی ہوئی ہیں ان پر کھل کر گفتگو کی جاسکے اور ایسے افراد جو ظلم و زیادتی یا تعصب کا شکار ہوئے، جنہوں نے مختلف جنگوں میں حصہ لیا یا وہ کسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوئے وہ خود ایک ’’کتاب‘‘ کی شکل میں اپنے خیالات اپنے قاری سے بیان کرسکیں۔

اس ’’ہیومن لائبریری‘‘ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دنیا میں کسی بھی مقام پر منعقد کی جاسکتی ہے۔ ابتدائی طور پر لائبریری کے منتظمین نے 50 کتابیں لوگوں کو پیش کیں اور جب لوگوں کی دلچسپی ان کتابوں میں بڑھتی گئی تو منتظمین نے آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھا دی۔ اگر آپ اس لائبریری کی ویب سائٹ پر جائیں تو سب سے پہلے موضوع بیان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس موضوع سے متعلق مختلف خیالات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ جبکہ اس موضوع کے بارے میں حقائق بھی تحریر کیے گئے ہیں۔

ہیومن لائبریری میں جہاں آپ معاشرے سے دھتکارے ہوئے لوگوں (کتابوں) سے مل سکتے ہیں تو وہیں معاشرہ میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنے والے بھی آپ کے منتظر ہیں۔ لائبریری میں پولیس افسر، چھوٹے موٹے جرائم میں سزا یافتہ شخص، عراق جنگ میں بچ جانے والا سپاہی، موٹاپے کی شکار خاتون، عمر کے آخری حصے میں اسلام قبول کرنے والا آدمی، جنس تبدیل کرنے والا شخص، اولمپکس میں حصہ لینے والا کھلاڑی اور خانہ بدوش سمیت مختلف افراد کتاب کی شکل میں موجود ہیں۔ جن سے آپ تند و تیز سوالات کرسکتے ہیں اور نہایت کھل کر ہر موضوع پر بات کرسکتے ہیں، جان سکتے ہیں۔

ہیومن لائبریری کی ویب سائٹ پر کنورٹ کےعنوان سے کتاب (فرد) موجود ہے، جس نے اپنی عمر کے آخری حصے میں اسلام قبول کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں لکھا ہے کہ لوگ پہلے اس شخص کے مذہب سے متعلق کچھ نہیں پوچھتے تھے لیکن جب سے اس نے اسلام قبول کیا ہے، ہر ایک اُس سے اسلام اور تبدیلی مذہب سے متعلق سوالات پوچھتا رہتا ہے۔ اس کتاب کے تعارف کے بعد یہ سطر بھی تحریر ہے کہ،

’’مذہب تبدیل کرنے والے پیدائشی طور پر اس مذہب کے ماننے والوں سے زیادہ مذہبی ہوتے ہیں، اگر آپ کسی شدت پسند سے ملنا چاہتے ہیں تو کسی ’’مذہب تبدیل کرنے والے فرد‘‘ سے ملیں‘‘۔

اسی طرح لائبریری میں مسلم کےعنوان سے بھی ایک کتاب موجود ہے۔ یہ ایک مسلم نوجوان کی کہانی ہے۔ لائبریری انتظامیہ اس کتاب کو رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہے کہ،

’’دنیا میں ایک ارب سے زائد مسلمان ہیں اور مذہب کی وجہ سے انہیں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصی طور پر مسلمانوں کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور عورتوں پر تشدد کے الزامات سہنے پڑتے ہیں، ہم ان لوگوں کو یہ کتاب پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں جو مسلمانوں کے مزاج، ان کی ثقافت اور ان کے خیالات میں پیدا ہونے والے تنوع کو جاننا چاہتے ہوں‘‘۔

یہ لائبریری 2000ء سے لے کر اب تک دنیا کے 70 سے زائد ممالک میں انتہائی کامیابی سے اپنے ایونٹ منعقد کرچکی ہے۔ ہیومن لائبریری کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور کینیڈا میں ہیومن لائبریریز قائم کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ انسانی لائبریری بنائی جاسکتی ہے اور ہمارے ہاں اس کی مقبولیت کے آثار بھی ہیں کیونکہ ہمارے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک فنکار یہاں موجود ہے۔ پھر چاہے بات کھیل کی ہو، موسیقی، صحافت، سیاست غرض یہ کہ ہر شعبے میں نایاب گوہر بکھرے پڑے ہیں.

 

حصہ
mm
فرحان محمد خان نے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرزکیا ہے، پندرہ سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف ویب سائٹس اور اخبارات خصوصاً کرکٹ، سائنس و دلچسپ موضوعات پر ان کی تحریریں شائع ہوچکی ہیں، گزشتہ تین برس سے نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں۔

1 تبصرہ

  1. فرحان صاحب، بہت عمدہ اور معلوماتی تحریر ہے۔
    ہیومن لائبریری کم از کم سترہ سال پرانی چیز ہے لیکن آپ کی تحریر سے یہ پہلی بار معلوم ہوا۔

    شکریہ

Leave a Reply to منصور احمد جواب منسوخ کریں