آئیے اپنےحصے کی شمع خود جلائیں

ایک وقت تھا کہ راقم لند ن کی فضاؤں میں شب و روز بسر کیا کرتا تھا، لندن میں قیام کے دوران جس چیز کے سحر نے مجھے ابھی تک جکڑے رکھا ، وہ وہاں گھروں کے دروازے اور باہر کا ماحول تھا۔

جی ہاں ۔۔۔ دروازے۔

آپ یورپی ممالک چلے جائیں آپ کو الگ سی نفاست خوبصورتی اور آرٹ دکھائی دے گا،لندن میں جہاں جہاں گورے آباد ہیں ان کے گھر کا دروازہ اور باہر کی جگہ الگ ہی نفیس تاثر دیتی ہے ۔ دروازہ بہت خوبصورت ہوگا،اس پہ اچھے نقش و نگار‘ بیل بوٹے ‘ گملے پھول‘ گھاس ‘ مجسمے اور گھر تک جانے کا جاذب نظر سا رستہ ۔۔ یعنی گھر کی اندر کی جو صفائی ہے وہ تو الگ پہلو ہے لیکن گھر کے باہر بھی معاملہ گھر جیسا ہی ہے ۔

آپ کتنی ہی گلیاں گھوم لیں ، ایک سے بڑھ کر ایک دروازہ اور باہر کا ماحول ملے گا ۔

ہمیں تسلیم کرلینا چاہیے کہ مجموعی طور پہ ہم غلاظت کو پسند کرتے ہیں ، بھلے ہمارے گھر شاندار بلکہ جاندار ہوں لیکن دروازے کے باہر دھول اڑ رہی ہوگی اسے سجانے کا کوئی سوچتا ہی نہیں ۔لے دے کر پوش علاقوں میں آپ کو کبھی کبھار گھر کے باہر دل لبھانے والا منظر مل جاتا ہے ۔

بلاشبہ،سرکار اپنا کردار ادا نہیں کر رہی‘ لیکن کیا گلی محلے کے لوگ مل کر چند ہزار روپے جمع کرکے اپنا اپنا محلہ خوبصورت نہیں بنا سکتے ؟؟؟۔تھوڑا سا سبزہ‘ کچھ پودے پھول ‘ ایک دو جھولے اور گلی کو جاتی چھوٹی سی سیڑھیاں ۔۔۔ کیا یہ ممکن نہیں ؟؟؟ کروڑوں روپے گھر پہ لگادیں گے لیکن گھر کے باہر کے حصے پہ چند ہزار لگاتے موت پڑتی ہے۔

کل جامعہ کراچی کی بیرونی دیوار پہ مردانہ و زنانہ کمزوری اور جادو ٹونے کی چاکنگ کے نیچے رفع حاجت کرنے والے بابے کو دیکھ کر لگا ساری تعلیم مل کر کر بھی معاشرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔

نفاست‘ خوبصوری سجاوٹ کوئی راکٹ سائنس نہیں ‘ محض ذرا سی توجہ مانگتی ہے ۔

ہمارے شمالی علاقے جو صدیوں سے قدرتی طور پہ صاف تھے ،اب ان کی بربادی دنوں کی بات ہے ۔گزشتہ دنوں وہاں گیا تو وہاں کچرے کے ڈھیر اور ایبٹ آباد میں ندی کنارے جلتا کوڑا دیکھ کر دل کٹ گیا ،حالانکہ وہاں ڈسٹ بن رکھنے سے ریاست کا کچھ نہیں جاتا اور نہ ہی ایک ڈسٹ بن خرید لینے سے کوئی شہری کنگال ہوجائے گا ۔

مجھے بے ساختہ بچپنے کا ناظم آباد یاد آگیا جہاں ہر گھر کی پیشانی پہ نعمت کدہ ‘ قرار گاہ ‘ اماں جان کا گھر ‘ دانش منزل‘ عارضی آرام گاہ اور نجانے کیا کیا علم و ادب سے بھرپور جملے ہوا کرتے تھے۔

ہم کیا کرسکتے ہیں ۔ کم از کم ہم صفائی کی بابت ایک عادت اپنے بچوں کو یہ ڈالیں کہ اگر گاڑی یا پارک میں کچھ کھا پی رہے ہوں اور کوڑے دان نہ ہو تو آپ ان کے سامنے کچرا وغیرہ شاپر میں ڈالیں اور جہاں تک ممکن ہو انہی کے سامنے کچرا دان میں پھینکیں ، کم از کم یہ تربیت تو ہم آسانی سے کرہی سکتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ صفائی اور طہارت مسلم معاشروں کے لیے کوئی انہونی چیز ہو۔ ہماری مذہبی تعلیمات اسی سے عبارت ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ قرطبہ‘ بغداد‘ اصفہان‘ شیراز اور ترکی میں مسلمانوں کے بسائے گئے شہر ‘ محلے ‘ گلیاں اور خوشبو آج بھی روشن ماضی کا پتہ دیتی ہیں ۔ بدقسمتی سے ہم سب کچھ فراموش کرچکے حالانکہ مہنگی اشیاء خریدنے کے بجائے سستی مگر دیدہ زیب آرائشہ اشیاکے ذریعے ہم گھر اور باہر کا ماحول قابلِ رشک بنا سکتے ہیں۔

اس ضمن میں ضروری ہوگا کہ ہم محلے کی سطح پہ بات کرکے ایک کمیٹی تشکیل دیں‘ جو پہلے گلی محلے اور پھر ممکن ہو تو علاقہ کی سطح پہ ایسی چیزیں کریں جس سے تاثر ابھرے کہ یہاں پڑھے لکھے نستعلیق لوگ بستے ہیں۔ یاد رہے کہ صفائی ستھرائی دیکھ کر ہی کسی کے علاقے کے مکینوں کے شعور کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

حصہ
mm
فیض اللہ خان معروف صحافی ہیں۔۔صحافیانہ تجسس انہیں افغانستان تک لے گیاجہاں انہوں نے پانچ ماہ تک جرم بے گناہی کی سزا کاٹی۔۔بہت تتیکھا مگر دل کی آواز بن کر لکھتے ہیں۔کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل س وابستہ ہیں

1 تبصرہ

  1. فیض اللہ خان کی زندہ تحریر دراصل انسانی سماج کو زندگی عطا کرتی ہے. یہ تحریر ادبی ذوق اور جمالیاتی رنگ کی عکاس ہے. اسمیں درس و عبرت کی ایک دنیا آباد ہے. افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلم سماج یا اکثریت مسلم آبادیاں بے حسی کا کیوں شکار ہیں. مرض اگر مسلسل دواکرنے سے بڑھتا دہے تو کیا کرنا چاہیے؟ ایک جواب شاید یہ ہوسکتا ہے کہ مصلح/طبیب/حکیم کو اپنی کوشش جاری رکھنا چاہئے. ڈاکٹر ضیاءالدین اے ایم یو علیگڑھ

جواب چھوڑ دیں