ٹیڑھا چمچہ

کہا جاتا ہے کہ اگر گھی سید ھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے یہ تو ایک محاورہ ہے مگر کبھی آ پ نے یہ بات سنی کہ اگر سیدھا چمچہ منہ تک نہ پہنچ سکے تو چمچہ کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے. آ پ کو حیرت کے جھٹکے محسوس ہو رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے….. ٹیڑھا چمچہ… یہ کیا بات ہوئی . انگلی سے چمچہ کسطرح ٹیڑھا ہو گیا.. اور یہ کون کر سکتا ہے..

جی ہاں ہے ایک ایسا شعبہ جس کو یہ کمال حاصل ہے……..

آ کوپیشنل تھیراپی

وہ شعبہ جس میں کسی بھی ایسے مریض کا علاج ممکن ہے جو کہ کسی جسمانی کمزوری ، دماغی الجھن ، نفسیاتی مسائل یا کسی حادثہ کی وجہ سے روزمرہ کے کاموں میں دقت محسوس کرتا ہو. ایسے مریض کو خود مختار بنانا ایک آکوپیشنل تھراپسٹ کے اہم ترین فرائض میں شامل ہے. دراصل اس شعبے کی ابتداء 1971میں ہوئ اور آج یہ اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہے جو نہ صرف مریضوں کی خدمت میں اپنی مثال رکھتا ہے بلکہ طلبہ کی تربیت کے فرائض بھی انجام دے رہا ہے.

ڈپارٹمنٹ آ ف آکوپیشنل تھیراپی جو کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن میں لاتعداد مسائل جن میں فالج، مسکولر ڈسٹروفی، سیریبرل پالسی، دماغی کمزوری، دن بدن بڑھنے والی کمزوری اور کوئی بھی وجہ جو کہ روزمرہ کے معمولات میں دقت کا سبب ہو، کے حل کے لیے کوشاں ہے.

ارے بات شروع ہوئی” ٹیڑھے چمچے”سے اور پہنچ گئ آ کوپیشنل تھیراپی پر… کیوں، کیسے،… تعلق کیا ہے… جاننا پڑے گا….

جی جناب دراصل آکوپیشنل تھراپسٹ وہ ماہرین ہیں جو کہ مریض کی پہنچ، گرفت اور رینج کو درست کروانے کے لیے بہت سی مشقیں بھی کرواتے ہیں اورساتھ ساتھ تجاویز بھی فراہم کرتے ہیں.. اور جہاں بات ہو محتاجی کی جسکی مثال کھانا کھاتے ہوئے چمچہ منہ تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہو…. پہنچ نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی کمزوری یافالج کے بعد کے مسائل کی وجہ سے بہرحال وجہ کچھ بھی ہو حل فراہم کرنا ضروری ہے وہ بھی جلدی…. تو بات آ گئی نا ٹیڑھے چمچے پر…. نہ صرف چمچہ بلکہ بالوں کی کنگھی، نہانے کے برش، اور دوسری کئ اشیاء کو مخصوص زاویہ پر تبدیل کرکے مریضوں کی دوسروں پر محتاجگی کو خودمختاری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے. یہ ہے کہانی ٹیڑھے چمچے کی…..

یہ تو کہانی تھی ٹیڑھے چمچہ کی….

اور اب کہانی ہے 21 سالہ اسد کی جو کہ پیدائشی طور پر نارمل، صحتمند وتوانا، چاق و چوبند اور ہشاش بشاش تھا. پڑھائی میں انتہائی ذہین ، کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے گریجویشن کا امتحان پاس کیا تو والدین نے اسکے شوق کو دیکھتے ہوئے اسکو موٹر سائیکل تحفہ کے طور پر دلادی. اسد کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا وہ اڑنے زیادہ اور چلنے کم لگا… جیسا کہ اس عمر کے نوجوان اکثر کرتے ہیں.. نئ بائک، دوست کا ساتھ اور اسد خود کو ہوا میں اڑتامحسوس کرتے ہوئے تیز رفتاری کے ریکارڈ توڑتے ہوئے مزید اڑان چاہتا تھا کہ سامنے سے آنے والے ٹرک کی ٹکر سے دور تک گھسٹتا چلا گیا، دوست تو موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اسد 2دن مکمل بیہوشی کے بعد جب ہوش میں آ یا تو دایاں بازو اور ٹانگ حرکت کے قابل نہیں تھے.. فزیو بھی شروع کر دی گئی مگر کچھ خاص فرق نہ آ سکا…. گھر آ گیا وقت کا کام گزرنا ہے سو گزرتا گیا… کھانا کھانے میں بہن مدد کرتی، نہلانے کے لیے والد اپنے جکھکے ناتواں کاندھوں پر اس کو اٹھا کر لاتے، کنگھا کبھی دوست کر دیتا اور کبھی بال ایسے ہی بکھرے رہتے. بحرحال کب تک کسی نے ساتھ دیا اور وہ بھی ایک ایسے شخص کا جس سے امیدیں ٹوٹ چکی ہوں، دوستوں کا آنا جانا کم ہوتے ہوتے ختم ہوگیا.. والد دنیا سے کوچ کرگے، بہن اپنے گھر کی ہوئی رہ گیا اب ایک چھوٹا بھائی جو دن میں ایک دفعہ کام کر دیا کرتا تھا بحرحال تین سال گزرنے کے بعد اسد کے چہرے کی بشاشت پژمردگی میں بدل گئی… مایوسی کے اس وقت میں اسد کا دوست کی آگاہی کیمپ میں آ کوپیشنل تھیراپی کے بارے میں جان کر خوشی خوشی آ یا اور بھائی کے منع کرنے کے باوجود اس کو ساتھ لیکر ڈاؤ یونیورسٹی کے شعبہ آ کوپیشنل تھیراپی میں تشریف لایا جھاں ناصرف اس کو بہت اچھے طریقے سے جانچا گیا اور اسکی گرفت، پہنچ اور کمزوری کو چیک کیا گیا بلکہ اسکو بہت سے طریقے بتائے گئے   اگلے دن جب یہ گیا تو اس سے کچھ کھانے کو بھی لانے کو کہا گیا… اسکی تھیراپسٹ نے کھانے کو کہا تو اسد کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھیراپسٹ نے اس کو ایک چمچہ دیاجو کہ اگلے حصے سے90 کے زاویہ پر مڑا ہوا تھا اور پچھلے حصے سے موٹائی میں عام چمچہ کی نسبت کافی زیادہ تھا… یعنی کہ پھر ٹیڑھا چمچہ.. جسکو دیکھ کر اسد نے بےساختہ کہا.. ارے یہ تو ٹیڑھا ہے کیا میرا مزاق اڑانے کو دیا ہے مگر مجبور کرنے پر جب اسد نے اس سے کوشش کی تو حیران رہ گیا کہ وہ ایک عرصے بعد خود سے کھانا کھا رہا تھا… کیونکہ وہی ٹیڑھا اور منفرد چمچہ اسکو پکڑنے میں جتنی آسانی ہوئ اتنی ہی خودمختاری ہوئی اسکے استعمال میں. تین سال بعد خودمختاری سے کھاتے ہوئے اسکے آنسو ہی نہیں جاری ہوئے بلکہ دل بھی خوشی سے دھڑکنے لگا اور اسکے چہرے پر خود مختاری کے پہلے مرحلے کی وجہ سے واضح چمک تھی. بحرحال علاج جاری رہا لیکن خود اعتمادی اسی وقت ممکن تھی جب وہ اپنے روزمرہ کے معمولات بخود انجام دیتا لہذا دھیرے دھیرے اس کے تمام معمولات زندگی کو خود مختاری میں تبدیل کرنے کے لئیے  آ لات یعنی ایڈپٹو ڈیوائسز(adaptive devices) میں اسکی ضرورت کے مطابق جدت یعنی موٹائی اور زاویائی تبدیلی لا کر فراہم کیے گئے. جن میں کنگھا، نہانے کے برش، کپڑے پہنے میں مدد کرنے کے لیے ڈریسنگ اسٹک (dressing stick)دی گئی اور ساتھ ساتھ مشورے اور ایکسرسائز بھی جاری رہی. آج ایک سال گزرنے کے بعد اسد خود چل کر آتا ہے اور قلم کا استعمال بخوبی کرتا ہے. اپنی نوکری پر بحال ہوچکا ہے مگر ہاں کچھ کام وہ ابھی جدت سے تیار کردہ آلات سے کرتا ہے جیسا کہ… ٹیڑھا چمچہ… یعنی اینگولر اسپون… مگر نہایت اعتماد سے..

جی ہاں… چمچہ تو ٹیڑھا تھا مگر کھانے کا زاویہ درست کر گیا…… یہ تھی کہانی اسد کی محتاجی سے خود مختاری کے سفر کی…. اور ساتھ ساتھ.. ٹیڑھے چمچے.. کی افادیت کی… اور ایک آکوپیشنل تھیراپسٹ کی جدت پسندی کی….

ایڈپٹو ڈیوائسز دراصل وہ مخصوص آلات ہیں جن میں مریضوں کی ضرورت کے مطابق گرفت، پہنچ اور دوسری کئ کمزوریوں میں خود مختاری لانے تبدیلی اور جدت لاکر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ایک آکوپیشنل تھیراپسٹ ہی جانتا ہے کہ…. ٹیڑھے چمچے کی افادیت کیا ہے….

جیسا کہ بلال صاحب کو ٹیڑھا چمچہ تو دیا گیا مگر وزن میں حد درجہ وزنی…. کیونکہ انکی ضرورت کے مطابق یہی تھا وجہ یہ کہ بلال صاحب کو پارکنسن یعنی رعشہ کی بیماری ہے اور وزن فراہم کرکے ان کے مستقل ہونے والے جھٹکوں کو روکنے کی کوشش کی گئی… جو کہ تھیراپسٹ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے.

ایک سروے کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں اس ادارے میں کم از کم 100 مریضوں کو ان… ٹیڑھے چمچوں کی مدد سے خود مختاری کی ٹریننگ دی گئی ہے… اور کوالٹی آف لائف کے اسکیل کے مطابق 95% کوالٹی بہتر بنائی گئ 5 فیصد میں نہ ہونے کی وجہ ان مریضوں کا استعمال کرنے سے انکار ہے..

پاکستان میں یہ سہولت یعنی ٹیڑھے چمچوں اور دوسری ایڈپٹو ڈیوائسز صرف ڈاؤ یونیورسٹی کے شعبہ آکوپیشنل تھیراپی میں حاصل ہے جہاں کوالٹی کے ساتھ ساتھ مریض کے بجٹ کا خیال بھی رکھا جاتا ہے… اور اسکی ابتداء کا سہرا اسی ادارے کو حاصل ہے…

بات شروع.. ہوئی ٹیڑھے چمچہ.. مگر یقیناً آپ کو اسکا آ کوپیشنل تھیراپی.. سے تعلق سمجھ آ گیا ہو گا…

******

ڈاکٹر فرزانہ اشفاق ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذیلی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن میں سینئر لیکچرار اور آکیوپیشنل تھراپسٹ ہیں۔ ملک میں اس علم کے ذریعے مریضوں کی بحالی اور قابل طلبا وطالبات کی تربیت کے فرائض انجام دیتی ہیں۔

حصہ

1 تبصرہ

  1. بہت معلوماتی بلاگ ہے ..بالکل نئی بات معلوم ہوئی…اللہ کرے ہمارے مسیحا انسانیت کی خدمت کے لیے اسی طرح سوچ بچار اور جدوجہد کرتے رہیں …

جواب چھوڑ دیں