بیروزگاری اور آج کا نوجوان 

‘‘اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بیروزگاری کاعفریت ملکی معیشت کو بری طرح تباہ کررہاہے ،نوجوان ڈگریاں لیکر گھوم رہے ہیں لیکن انہیں مطلوبہ معیار کے مطابق نوکری نہیں مل رہی اور نہ ہی انہیں تعلیمی قابلیت کے مطابق وہ اہمیت دی جارہی ہے جو دیگر ممالک میں دی جاتی ہے ،اقتدار پر براجمان حکمران بیانات اور دعوے تو بہت کرتے ہیں کہ تعلیم سے ملک کامستقبل وابستہ ہے تعلیم ہی ترقی وخوشحالی کاذریعہ ہے ،تعلیم خوابوں کی تعبیر کاذریعہ ہے لیکن وہ عملی طورپر کچھ کرنے کو بلکل بھی تیار دکھائی نہیں دیتے اگر حکومت علم کی شمع جلانے اور جہالت کے اندھیروں کو بھگانے میں مخلص ہوتی تو تھر،سندھ اور پاکستان کے دیگر دیہات میں اسکولز باڑے کی شکل نہ بنے ہوتے اور یہ جو ہر گلی میں نجی اسکولوں کی بھر مار ہے یہ بھی نہیں ہوتی لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے دراصل یہ عوام کو شعور دینا ہی نہیں چاہتے نہ ہی تعلیم سے لیس کرنا چاہتے ہیں کیونکہ شعور رکھنے والی قوم حکمرانوں کا محاسبہ کرسکتی ہے اور ریاستی امور سے متعلق سوالوں کے جوابات مانگ سکتی ہے جو یہ حکمران دینے کو تیار نہیں،اسی لیے
اخبار کی صرف سرخیاں یا چینل کے ٹکرز تعلیمی انقلاب کی نوید دے رہے ہوتے ہیں جس سے ایساگماں ہوتاہے جیسے ہمارے حکمران ابھی کل ہی انقلاب برپاکرنے والے ہیں ۔
دوسری جانب بیروزگاری کارونا ہے جونسل نو کی مسلسل حوصلہ شکنی کررہاہے اچھی نوکری نہ ملنے کے باعث نوجوان در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں کہیں سفارش انہیں منہ چڑارہی ہوتی ہے تو کہیں معاملہ کچھ اور درپیش ہوجاتاہے کہ جس کے نتیجے میں وہ ایک اچھی نوکری کے قریب پہنچ کر اس سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں اور اس پر ستم یہ کہ سفارش کے نتیجے میں حقدار کی کرسی پر قابض ہونے والا صلاحیتوں اور تعلیمی لحاظ سے ایک کلرک کے برابر بھی نہیں ہوتالیکن سفارش اسے یہ مقام دلادیتی ہے ،میرٹ پامال ہوتادیکھ کر نوجوانوں میں اداسی کی کیفیت روزبروز پروان چڑھ رہی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آئے دن خودکشیوں کی خبریں عام ہورہی ہیں معاشی تنگی سے مجبورہوکر موت کو گلے لگانے والا فرد جب دیکھتاہے کہ کہیں سے کوئی امید نہیں تو وہ اپنی زندگی کاخاتمہ کرلیتاہے تاکہ معاشرے کے تانوں سے نجات پالے ۔
دیکھاجائے تو ملک میں بہت ہی اندھناک صورتحال ہے اور معاشی تنگ معاشرے کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے اور بری طرح سے زخم لگارہی ہے جہاں ماں پاب کی امیدوں کاخون ہورہاہے وہیں بہنوں کو بھی بھائیوں کے اچھے مستقبل کی نوید نہیں مل رہی ۔
آج کا دور بقول ورلڈ بینک ایسے نوجوانوں کا دور ہے جن کی لیبر مارکیٹ میں کوئی ضرورت نہیں ہے ۔تقریباََ پوری دنیا کی کل نوجوان آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو جو کہ امریکا کی کل آبادی کے حجم کے برابر ہے کے لئے اس نظام کے پاس دینے کے لئے کوئی کام موجود نہیں ہے ۔اس وقت یہ اتنی بڑی تعداد ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔انسانی تاریخ کی اس سے بڑی بدقسمتی کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی کہ آج کا تعلیم یافتہ طبقہ کام کرنے کے لئے تیار ہے لیکن ہمارا نظام اس نوجوان طبقے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل نہیں ہے ۔
تیسری دنیا کے ممالک میں 15 سے 24 سال کی عمر کے 29 کروڑ نوجوان ایسے ہیں جن کی لیبر مارکیٹ میں کوئی شرکت نہیں ہے
پاکستان غربت، مہنگائی اور بیروزگاری کے اعداد و شمار شائع نہیں کرتا لیکن سماج کے اندر بڑھتے ہوئے جرائم، خودکشیاں، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، جسم فروشی، منشیات کا استعمال اور دیگر سماجی مسائل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سماج کی صورتحال کیا ہے ۔بے روز گاری کی سطح کیا ہے اور مہنگائی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے ، گزشتہ دنوں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ذہنی امراض میں اس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ہر 10 میں سے 1 فرد ذہنی امراض میں مبتلا ہے ۔ سکون آور ادویات اور منشیات کے استعمال میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستان میں لاکھوں روپے خرچ کرکے تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان طبقہ مایوسی کے عالم میں جرائم کی جانب راغب ہو رہا ہے ۔لینن نے کہا تھا کہ غربت جب انقلاب پیدا نہیں کرسکتی تو یہ جرائم پیدا کرتی ہے ۔ دہشت گردی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کی منفعت بخش صنعتوں میں بے روزگار نوجوانوں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ جو ملک میں خودکش حملے زور پکڑچکے ہیں ان میں بھی اسی بیروزگاری کا ہاتھ ہے ۔ کراچی میں جو اسٹریٹ کرائم اور دہشت گردی بڑھی ہے ، کسی نے اسکی بنیاد تلاش کرنے کی بات نہیں کی۔ کیا کسی سطح کے تھنک ٹینک نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ اس کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں۔ جی حضور اس ساری لاقانونیت کے پیچھے جہاں بیرونی ہاتھ ہے وہیں آپ کا یہ کوٹہ سسٹم بھی ہے جو 1973کے آئین میں دس سال کے لئے نافذ کیا گیا اور آج تک جاری ہے اور جو کراچی میں پیدا ہونے والے جینئیس کو پیٹ بھرنے کے لئے روٹی کمانے کے مواقع مہیا نہیں کرتا۔ کراچی کا ہر جینئیس بچہ اس لئے مار کھا جاتا ہے کہ جتنا شہری علاقے کا کوٹہ ہے اس میں اس کا نمبر نہیں آتا باقی صوبائی کوٹے میں دیہی سندھ لے جاتا ہے ۔

حصہ
mm
محمد سمیع الدین انصاری نے جامعہ کراچی سے ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کیا ہے۔انہوں نے سندھ مدرسۃ الاسلام سے نیوز پروڈکشن کورس بھی کیا ہے۔صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں،روزنامہ دنیا کراچی میں بطور اسسٹنٹ سٹی ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

1 تبصرہ

  1. The assignment submission period was over and I was nervous, casinosite and I am very happy to see your post just in time and it was a great help. Thank you ! Leave your blog address below. Please visit me anytime.

جواب چھوڑ دیں