سیکولرازم، لبرل ازم، مذہبی شدت پسندی اور اسلام

سیکولرازم، لبرل ازم کی پہلی سیڑھی ہے بلکہ درست بات یہ ہے کہ سیکولرازم سے جو ڈھلان شروع ہوتی ہے اسکی آخری منزل لبرل ازم ہے اور اسکے بعد الحاد شروع ہوجاتا ہے۔
سیکولرازم کو مزید سمجھنے سے پہلے ہمیں مذہب اور دین کی مختصر ترین تعریف definition کو نگاہ میں رکھنا ہوگا۔
*مذہب*
عقائد اور عبادات کے مجموعے کو مذہب کہتے ہیں۔
*دین*
اصول و قانون جسکی پیروی کی جاتی ہے اسے دین کہتے ہیں۔
*سیکولر سوچ*
سیکولر لاطینی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی *زمانہ حال* کے ہیں۔ اصطلاحی معنوں میں سیکولر سوچ سے مراد ہے ایک ایسا زاویہ نگاہ ہے جو اپنی عقل و شعور کے مقابلے میں الہٰی تعلیمات کو رد کردے۔ کیونکہ سیکولرز کا ماننا ہے کہ انسانی عقل و شعور اچھائی اور برائی کے درمیان انتخاب کرنے اور دنیا کے معاملات چلانے کے لئے کافی ہے اور اس معاملے میں اسے کسی الہامی تعلیمات سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
*سیکولر سوچ اور مذہب کا ٹکراؤ*
جیسا کہ اوپر بیان کردہ مذہب اور سیکولر سوچ کی تعریف سے ظاہر ہے کہ دونوں کے دائرہ کار کلیۃً مختلف ہیں۔ ایک عقائد اور عبادات تک محدود ہے جیسے ہندومت، بدھ مت، عیسائیت اور یہودیت وغیرہ یا محض عقائد اور عبادات تک محدود تصور کیا جانے والا مذہب اسلام۔ دوسری طرف سیکولر سوچ دنیا کے معاملات چلانے سے متعلق ہے۔ لہٰذا سیکولر سوچ اور مذہب کا کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئیڈیل سیکولرسٹ دنیا کے تمام مذاہب یعنی تمام عقائد و عبادات کا یکساں احترام کرتے ہیں۔
*سیکولر سوچ اور دین کا ٹکراؤ*
دین اُن اصول و ضوابط اور قوانین کو کہتے ہیں جسکی انسانیت میں سے کچھ لوگ پیروی کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن میں اسلام کے لئے لفظ دین آیا ہے مذہب نہیں آیا ہے۔ لہٰذا اسلام ایک مکمل دین ہے جو زندگی کےتمام شعبوں میں جدید دور کے مطابق قوانین بنانے کے اصول و ضوابط دیتا ہے۔
اسی طرح جب سیکولر اندازِ فکر سرمایہ دارانہ معاشی نظام سے ملتا ہے تو قریب قریب ایک مکمل دین بن جاتا ہے جسے ہم سیکولر سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح  سیکولر اندازِ فکر جب اشتراکی معاشی نظام سے ملتا ہے تو سیکولر اشتراکی نظامِ زندگی بن جاتا ہے۔
ہم سیکولرازم کے تناظر میں جب دینِ اسلام کی بات کرتے ہیں تو اسلام کا تقابلہ یہودیت یا عیسائیت یا ہندومَت جیسے مذاہب سے نہیں ہوسکتا ہے بلکہ سیکولر سرمایہ داری نظام اور سیکولر اشتراکی نظام سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بات سمجھنے کی ہے کہ لفظ سیکولرازم کبھی تنہاء استعمال نہیں ہوگا بلکہ اس لفظ کے پسِ پردہ لازماً یا تو سیکولر سرمایہ داری نظام ہوگا یا پھر سیکولر اشتراکی نظام ہوگا۔
معاملاتِ زندگی سے دینِ اسلام کی تعلیمات کو ختم کرنے کی یہی وہ سوچ ہے جو سیکولرازم کے ذریعے اسلام کو ریاست سے الگ کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک طرف عقائد اور عبادات کی مکمل آزادی کا خوشنما نعرہ لگایا جائے اور دوسری طرف ریاست سے سرمایہ داریت یا اشتراکیت میں سے کسی ایک کی پیروی کرائی جاسکے۔ ظاہر ہے کہ سیکولرازم اور اسلام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ہیں کیونکہ اسلام  معاملاتِ زندگی میں الہٰی اصول و قوانین پیش کرتا ہے جبکہ سیکولرازم کا تصور ہی یہ ہے کہ معاملاتِ زندگی میں پیش کئے گئے الہٰی اصول و قوانین کو رَد کیا جائے۔
واضح رہے کہ سیکولرازم میں عقائد اور عبادات کی آزادی کا نعرہ بھی اس وقت تک ہی رہے گا جب تک سیکولرازم اپنے آئیڈیل مقام سے لبرل ازم کی طرف لڑھکنا شروع نہیں ہوگی۔ یعنی جیسے جیسے سیکولرازم  لبرل ازم کی طرف بڑھتا جائیگا ویسے ویسے سیکولرازم کا سنگدل اور بےرحم چہرہ بھی انسانیت کے سامنے نمایاں ہوتا جائیگا۔
مختصر یہ کہ سیکولر طرزِ سیاست میں مذہبِ اسلام یعنی اسلام کے عقائد اور عبادات کو تو برداشت کیا جاسکتا ہے مگر دینِ اسلام یعنی خالق کائنات کے بتائے گئے اصول و قوانین کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ملک میں ایک وقت میں ایک ہی دین چل سکتا ہے، اسلام، سیکولر سرمایہ داریت یا سیکولر اشتراکیت۔
*لبرل ازم*
جس طرح آئیڈیل سیکولرازم عقائد اور عبادات کی آزادی دیتا ہے مگر معاملاتِ زندگی میں الہٰی تعلیمات پر عمل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے کیونکہ معاملاتِ زندگی کے بارے میں سیکولرازم کا اپنا نقطہ نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی عقل کو اس بارے میں کسی الہٰی تعلیمات کی رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے یعنی انسانی عقل و شعور الہٰی تعلیمات کے بغیر بھی درست راستے پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسکے بَرخلاف لبرل ازم معاملاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد اور عبادات کو بھی انسانی زندگیوں سے نکال پھینکتا ہے۔ لبرل ازم یکایک وجود میں نہیں آتا ہے بلکہ ایک عرصے تک سیکولرازم پر عمل پیراء رہنے کے نتیجے میں بالآخر معاشرہ لبرل ازم کی طرف جاتا ہے۔
*مذہبی شدت پسندی*
مذہبی شدت پسندی سیکولرازم کا دوسرا extreme ہے۔ مذہبی شدت پسندی فرقہ واریت سے آغاز کرتی ہے اور جبراً اپنا مسلک، اپنا حکمران اور اپنا طریقہ زندگی نافذ کرنے پر زور دیتی ہے۔
سیکولرازم اور لبرل ازم کی طرح مذہبی شدت پسندی بھی معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ مذہبی شدت پسندی اللہ کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی ہے کہ اس نے دنیا کے تمام انسانوں کو آزاد پیدا کیا ہے اور سب کو اپنے اپنے فکر و عمل کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دی ہے۔ اور اسی آزادی کے درست یا غلط استعمال کرنے پر افراد کے جنت یا جہنم میں جانے کا فیصلہ ہوگا۔
مذہبی شدت پسندی human  کے بجائے communal سوچ رکھتی ہے۔ اسے بےلاگ انصاف سے زیادہ اپنے مسلک، فرقے اور مذہب کے لوگوں کو درست ثابت کرنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔
مذہبی شدت پسندی یہ سمجھتی ہے کہ دنیا میں انکا تشریح کردہ اسلام بزور اور جبر سے نافذ کرنا انکا دینی فریضہ ہے۔ وہ معاشرے میں آزاد مرضی سے ذہنوں کی تطہیر کے ذریعے تبدیلی لانے کے بجائے جبر سے تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ مذہبی شدت پسندوں نے اسلام کو گروہوں میں بانٹ کر اور ایک دوسرے کو کافر، مشرک اور گمراہ اور گناہگار قرار دیکر یہاں تک کہ ان سے جنگ کرکے اسلامی مقاصد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
مذہبی شدت پسندی ہو، سیکولر ازم ہو یا لبرل ازم، یہ سب انسانیت کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی ہیں۔
امید کی کرن صرف اسلام میں ہے۔ شدت پسندی سے پاک، اپنے کردار اور عمل سے معاشرے کو منور کرنے والا میانہ رو اسلام۔ عدل و انصاف پر مبنی اور پوری انسانیت کے لئے امن و سلامتی لانے والا دین، اسلام۔
*آئیڈیل سیکولرازم اور اسلام میں مماثلت*
جسطرح اسلام کسی مرد یا عورت کو اپنے وضع قطع، لباس اور رہن سہن کی آزادی دیتا ہے اور اُن پر ان معاملات میں کسی قسم کا قدغن نہیں لگاتا ہے اسی طرح آئیڈیل سیکولرازم بھی لوگوں کو اپنے وضع قطع، لباس اور رہن سہن کی مکمل اجازت دیتا ہے۔  کوئی فرد کوٹ پینٹ ٹائی پہنے یا کرتہ شلوار پہنے، ڈاڑھی چھوٹی رکھے یا بڑی یا نہ رکھے یا کوئی عورت حجاب لے کہ نہ لے اس سے اس کے دین، ایمان اور اسلام پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔
البتہ اگر ایک خاص حد سے زیادہ مرد ہو یا عورت ہو اگر کپڑے اتارے گا تو اپنے کمرے تک تنہائی میں تو وہ آزاد ہے مگر لوگوں کے سامنے نہیں۔ کیونکہ اسلام فرد کو وہاں تک آزادی دیتا ہے جہاں سے دوسرے کی آزادی شروع ہوتی ہے یا پھر جس سے معاشرے کی اخلاقی اقدار کے خراب ہونے کے امکانات پیدا ہونا شروع ہوجائیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ پابندی نہیں ہے بلکہ معاشرے کو ذلت اور پستی کی طرف جانے سے بچانا ہے تاکہ پیسے کی قوت میں بدمست مجرم ذہن لوگ مجبور و بے کس انسانیت کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اُٹھاسکیں۔
آئیڈیل سیکولر ایک دوسرے کے عقائد اور عبادات کا احترام کرتے ہیں۔ اسلام بھی یہی سبق دیتا ہے بلکہ اسلام تو ایک قدم آگے بڑھ کر پوری انسانیت (تمام جاندار) کو ایک ہی خالق کی مخلوق گردانتا ہے اور تمام انسانوں کو ایک آدم کی اولاد سمجھتا ہے جس سے انسانوں کے درمیان ایک ایسا مضبوط رشتہ جنم لیتا ہے جو کسی اور نظریئے سے ممکن نہیں ہے۔
*آئیڈیل سیکولرسٹ کا محدود تصور*
دوسری اہم بات یہ ہے کہ سیکولر فرد اور گروہ چونکہ خدا کا مضبوط تصور نہیں رکھتا ہے بلکہ خدا کی ذات کا ڈھیلا ڈھالا تصور رکھتا ہے اس لئے اس کی نظر محدود ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ظلم و جبر جنم لیتا ہے۔ اسکی سامنے کی مثال یہ ہے کہ اپنے ملک میں کتے اور بلی کو بچانے والے سیکولر دوسرے ملکوں کے انسانوں کو آگ اور خون میں نہلانے کو جائیز سمجھتے ہیں یا انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح انکی رحم دلی اور انسانیت کا تصور محدود ہوتا ہے جبکہ اسلام تمام دنیا کے انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور سب پر ایک جیسے قوانین نافذ کرتا ہے۔
المختصر سیکولرازم کے نزدیک سب سے بڑی چیز پیسہ ہے۔ باقی تمام چیزیں غیر اہم ہیں۔ کوئی حجاب کرے یا نہ کرے یا ننگا ہو یا لالچی معاشرہ بناکر اور اسطرح دوسرے انسانوں کو مجبور کرکے ننگا کرنے سے اسے فرق نہیں پڑتا ہے۔
*دنیا کی تباہی میں سیکولرسٹ کا کردار*
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ انسانوں کی تباہی مذہب کی وجہ سے ہورہی ہے تو دنیاوی معاملات سے اس سے زیادہ لاعلم شخص کوئی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ آج انسانی تباہی و بربادی و بےبسی صرف مسلمان ملکوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔
دنیا کے 200 ملکوں میں سے ڈیڑھ سو ملک سیکولر ہیں جن میں صرف بیس سے کم ملک امیر یا ترقی یافتہ ہیں، آخر باقی سیکولر ممالک ترقی یافتہ کیوں نہیں ہیں؟
دوسری طرف یہ دنیا ایک ارب بھوکے ننگوں کی دنیا ہے اور ڈیڑھ ارب مفلسوں کی دنیا ہے۔ 13 سے 25 سال کی کم سے کم 5 کروڑ بچیاں ہر روز پیٹ پالنے کے لئے اپنی عزت و آبرو کا سودہ کرنے پر مجبور ہوتی ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد امریکہ میں ہے۔ دنیا کے 15 کروڑ بچے ہر دم بھوک سے تڑپ رہے ہیں اور ایک ارب بچوں نے کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی ہے۔
دنیا کے صرف دس سیکولر ملکوں کے انسانیت “دوست” سرمایہ دار دنیا کا %90 اسلحہ بیچنے اور دنیا میں پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ انکی کوشش ہے کہ دنیا میں یا تو جنگ ہوتی رہے یا جنگ کے خطرات موجود رہیں۔ جاپان اور ساؤتھ کوریا جیسے امیر اور ترقی یافتہ ملکوں کو چھوٹے سے نارتھ کوریا سے ڈرا کر، چین اور بھارت کو ایک دوسرے سے ڈرا کر، ایران اور سعودی عرب کو ایک دوسرے سے ڈرا کر، یوروپ اور روس کو ایک دوسرے سے ڈرا کر اور مشرقِ وسطٰی میں جنگ کروا کر یہ قوتیں اپنا اسلحہ بیچتی ہیں۔
ان ملکوں کے عوام بیچارے مجبور ہیں، امریکہ میں سرمایہ دار طبقہ ملک کا حکمران ہے۔ ہر دو ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن کے سیاستدانوں کی بڑی بڑی انوسٹمنٹ اسلحہ، ڈرگز اور پورنوگرافی کی صنعت میں لگی ہے۔
ابھی چند دن پہلے حامد کرزئی نے لندن میں کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں داعش کو اسلحہ دے رہا ہے اور سپورٹ کر رہا ہے۔
کیا یہ ساری صورتحال یہ ثابت نہیں کرتی ہے کہ معاملاتِ زندگی سے الہٰی تعلیمات کو نکال کر یعنی سیکولر ہوکر انسانیت کو سوائے تباہی و بربادی کے کچھ حاصل نہ ہوگا؟
حصہ
اعجاز احمد نے این ای ڈی یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کے بعد جاپان سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں اعلی تعلیم حاصل کی۔اعجاز احمد قرآن کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور جدید معاشی نظاموں اور نظریات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔کئی کتابوں کی مصنف بھی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں