حل صرف ڈائیلاگ

300

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے آنے والی پولیس اور سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم ہر ذی شعور پاکستانی کے لیے باعث ِ تشویش ہے۔ اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ایک مقدمے میں عمران خان کی غیر حاضری اس صورتحال کا سبب بنی جس میں سیاسی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ٹکراؤ کی نوبت آئی۔ خبروں کے مطابق چار پانچ درجن پولیس اہلکار زخمی ہیں سیاسی کارکنوں میں بھی متعدد زخمی ہوئے ہوں گے۔ سیاسی کارکن ہوں یا پولیس اہلکار ہیں تو اسی ملک کے شہری اور سب کی جانیں قیمتی ہیں لہٰذا اس قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے بچنا ہو گا اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی رہنما قانون اور عدالتوں کا احترام کریں۔ ریاستی عملداری کے سامنے سر تسلیم خم کرنا دانش مندانہ قیادت کا طرہ امتیاز ہے۔ موجودہ حالات میں اگر عمران خان اس طرزِ عمل کو اختیار کیے ہوتے تو اس صورتحال سے بچا جاسکتا تھا۔ اب بھی یہی راستہ ہے کہ عدالتی احکام کی تعمیل کی جائے۔ سیاسی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آمنا سامنا اور قانونی عملداری سے انحراف ایک لیڈر کے شایانِ شان نہیں۔ ایسے اقدامات سے ملک میں غلط مثالیں پیدا ہوں گی۔ ہمارے یہاں سیاسی لیڈروں کی عدالتوں میں پیشی کی ایک تاریخ ہے اور عوام جانتے ہیں کہ مقدمات کی نوعیت جو بھی ہو سیاسی قائدین پورے احترام کے ساتھ عدالتوں کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ بعض لیڈروں نے طویل قیدیں بھی کاٹیں مگر ان سبھی کیسز میں یہ واضح ہے کہ ملزمان نے خود کو عدالتوں میں پیش کیا مقدمات کا سامنا کیا اور اس تعمیل میں کوئی ایسی رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو بھی یہی طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ جہاں تک ان کے سیکورٹی تحفظات کی بات ہے تو ان پر بھی غور ہونا چاہیے۔
لانگ مارچ کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد وہ جس قسم کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں انہیں یکسر نظر انداز کرنا درست نہیں مگر ان خدشات کو عدالتوں میں پیشی سے گریز کا جواز بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ امید کی جاتی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس بحران کو طول دینے کے بجائے اس کے حل کی جانب بڑھیں گے اور اس کی عملی صورت یہی ہے کہ وہ خود کو عدالت میں پیش کردیں۔ جہاں تک ان کے مقدمے کی صحت کا سوال ہے قانون دان حلقے اس پر مختلف آرا رکھتے ہیں یہی توشہ خانہ کا مقدمہ جس میں عدم حاضری پر عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں ان کے وکلا نے مقدمے کے قابل ِ سماعت ہونے پر اعتراض عائد کر رکھا ہے مگر اس حوالے سے کوئی پیش رفت اسی صورت ممکن ہے جب ملزم عدالت کے سامنے پیش ہو۔ جہاں تک عمران خان کا معاملہ ہے وہ عدالت کی جانب سے 13مارچ کو فردِ جرم عائد کیے جانے کے لیے پیش ہونے کے حکم کے باوجود غیر حاضر رہے جس پر 18مارچ کے لیے ان کے ناقابل ِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ اسی عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے 14مارچ کو اسلام آباد کی پولیس عمران خان کو گرفتارکرنے کے لیے لاہور آئی اور جس سے یہ تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی جس نے پچھلے دو روز سے قومی منظر نامے کو ڈھانپ رکھا ہے اور پاکستان عالمی خبروں میں زیر بحث ہے۔ عالمی سطح پر اس وقت ہمارے دو ہی معروف حوالے ہیں ایک معاشی بحران اور دیوالیہ پن کے بڑھتے خدشات اور دوسرا سیاسی بد امنی۔ سیاسی کارکنوں اور پولیس کا تصادم آنسو گیس کے گولے اور لاٹھیاں ان حالات میں مزید عالمی توجہ جذب کر رہی ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی معیشت سوالیہ نشان بن چکی ہو اور آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر کے لالے پڑے ہوں جب اس قسم کے بحران میں مبتلا ہوتا ہے اور سیاسی کارکن اور فورسز آمنے سامنے صف آرا ہو جائیں تو دنیا کو باتیں بنانے کا موقع ملتا ہے اور ان تاثر ات کو تادیر زائل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
ملکی مسائل گمبھیر ہیں۔ بحران سے نکلنے کا راستہ سیاسی مکالمہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ جمہوری معاشروں میں مشکلات پر قابو پانے کے لیے سیاسی جماعتوں اور مختلف الخیال افراد کے درمیان گفت و شنید کو آخری آپشن کا نہیں، پہلے آپشن کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح بہت سی پریشانیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ مسائل حل کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے میں جتنی دیر لگتی ہے، اتنے ہی معاملات الجھتے چلے جاتے ہیں، جبکہ خرابی بسیار کے بعد بھی آخری فیصلوں کی طرف بڑھنے کے لیے بات چیت ہی ناگزیر ہوتی ہے۔ کسی بھی ریاست میں ایک یا زیادہ موضوعات پر اختلافات جیسے بھی ہوں افہام و تفہیم کے سوا ان کے حل کی کوئی صورت نہیں۔ جبکہ متحارب ممالک کے لوگوں کو بھی جنگ کے دوران اور بعدازاں معاملات طے کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وزیراعظم شہباز شریف اگر تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی و اقتصادی بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے کے مشورے یا دعوت کا اعادہ کرتے ہیں تو تحریک انصاف کے سربراہ کو اس شاخِ زیتون کو قبول کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہ بات اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ عمران خان خود بھی کچھ عرصے سے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم چیئرمین پی ٹی آئی کے قریبی حلقوں کے بقول بعض معاملات میں عمران خان کو کچھ ایسے سنگین خدشات ہیں جن کا سدباب حکومت و ریاست کی ذمے داری ہے۔ یقینا اس ذمے داری کو پورا کیا جانا چاہیے مگر عمران خان پر بھی لازم ہے کہ ملکی قوانین کی پاسداری اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ان کی جانب سے تامل کا اظہار نہ کیا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی ملک میں جلد انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں، یہی مطالبہ ان کی حکومت کے دوران اس وقت کی اپوزیشن کی جانب سے بھی کیا جا رہا تھا مگر اس وقت انتخابات کے انعقاد کو انہوں نے اپنی پارٹی کے مفاد کے منافی پایا، پھر تحریک عدم اعتماد کے بعد کی صورت حال میں انہوں نے جلد انتخابات کا مطالبہ موثر بنانے کے لیے پنجاب اور سرحد کی اسمبلیاں تحلیل کردیں۔ اب موجودہ برسراقتدار اتحادی حکومت کا نقطہ نظر مختلف ہے اور بعض حلقے تو معاملات بہتر ہونے تک قومی اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے مشورے بھی دے رہے ہیں۔ اس منظر نامے میں وزیراعظم شہباز شریف کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر کے وفد سے بات چیت میں جب عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو آئینی ضرورت قرار دیتے ہیں تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اگست یا ستمبر کے مہینے زیادہ دور نہیں۔ اس وقت تک مردم شماری، حلقہ بندیوں، کچا کے بڑے آپریشن، دہشت گردی کی سرگرمیوں سے نمٹنے، سیکورٹی و معاشی چیلنجوں سے ملک کو نکلنے کا وقت نہ دیا گیا تو افراتفری کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے بالترتیب 30اپریل اور 25مئی کی تاریخیں مقرر ہو چکی ہیں مگر مختلف وجوہ کی بناء پر کوئی ایسا وفاقی و صوبائی ادارہ نہیں جو مذکورہ تاریخوں پر الیکشن کے انعقادپر تیار ہو۔ گورنر کے پی، چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب، محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام کی جانب سے الیکشن کمیشن کو اس باب میں بریفنگ دی گئی ہیں جس سے انتخابی ذمے داریوں کے لیے افرادی طاقت کی فراہمی سے معذرت کا پہلو نمایاں ہے۔ یہ سوالات بھی سامنے آرہے ہیں کہ دو صوبوں میں الیکشن پرانی مردم شماری اور پرانی حلقہ بندیوں پر ہونے کے بعد جب آئین کے مطابق قومی و دیگر اسمبلیوں کے انتخابات ہوں گے تو معاملات کی کیا صورت ہوگی۔ حالات ایسے ہیں کہ گول میز کانفرنس یا کسی اور صورت میں سیاسی قوتیں یکجا ہو کر مسائل کا جائزہ لیں اور انتخابات کے انعقاد سمیت اہم معاملات پر متفقہ قابل لائحہ عمل تیار کریں۔