مسلم ممالک توہین قرآن کرنے والے ممالک کی مصنوعات کابائیکاٹ کریں ،علماء کرام 

264
مسلم ممالک توہین قرآن کرنے والے ممالک کی مصنوعات کابائیکاٹ کریں ،علماء کرام 

 اسلام آباد:دربارعالیہ نیریاں شریف کے خلیفہ وخطیب انگلینڈعلامہ امام غلام جیلانی مجددی نقشبندی نے کہاہے کہ سوئیڈن وڈنمارک کے انتہا پسندلوگوں کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے ناپاک مکروہ فعل نے ثابت کر دیا دنیا کو مذہبی آزادی،اعتدال پسندی کا درس دینے والا مغرب خود اسلام دشمنی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پر اتر آیا ہے۔

مغرب کا اسلامو فوبیا اپنی تمام حدیںعبور کر چکا،ا سلام مخالف رویے دنیا میں نفرت پھیلانے اور تشدد کو ہوا دینے کی منظم کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک متحد ہو کر قرآن و ناموس رسالت کی توہین جیسے واقعات کی روک تھام کیلیے عالمی سطح پر قانون سازی کرائیں اور اسلام مخالف مہم کے خلاف مشترکہ و مضبوط لائحہ عمل تیار کریںمسلم ممالک توہین کرنے والے ممالک کی مصنوعات کابائیکاٹ کریں۔

ان خیالات کااظہارجامع مسجدغوثیہ جی نائن ون میںمفتی محمداسلم ضیائی کے والدحاجی محمدشریف قادری نقیبی کے ایصال ثواب کے لیے منعقدہ ختم شریف کی تقریب وکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے پیرسیدناصرعلی شاہ،مولانامعروف نقشبندی،مفتی اقبال نعیمی،قاری عبدالعزیزقادری ،علامہ بدرالاسلام بدر،قاری محمدریحان حبیب سہروردی ،حافظ احمدرضاضیائی ،محمدسلیم نعیمی ،محمدبلال اعظم نقشبندی ،مولانانصیراحمد،قاری اکرام اللہ ودیگرنے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پرسویڈن اورڈنمارک میں توہین قرآن کے واقعات پرمذمتی قراردادبھی منظورکی گئی علماء کرام نے کہاکہ  قرآن مسلمان کے لیے انتہائی مقدس ہے اس کی توہین پر امت مسلمہ میں شدید اضطراب اور غم و غصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کے آزادی کے اظہار فلسفے کی آڑ میں کتاب اللہ کی توہین اور اسلام کا مذاق اڑیا جائے گا تو اس کے نتائج میں خوفناک واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ 

سویڈین کے بعد ہالینڈ میں شان قرآن میں بے حرمتی کا المناک واقعہ پیش آنے پر عالم اسلام میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور تمام مسلم ممالک نے اس کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے تاہم اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے لے کر یو این او تک ایسی کوئی آواز نہیں۔ جوعالم اسلام کے خلاف اس طرح کے فتنوں کا قلع قمع کر سکے۔

اس صورتحال میں عالم اسلام کیا لائحہ عمل طے کرے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ عمل عالم اسلام کے خلاف ایکٹ آف وار ہے۔ یہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات اور احساسات پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ  پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر بھرپور احتجاج ہونا چاہیے۔ تاکہ ہمارے حکمران عوام کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کریں، اور حرمت قرآن کے مدعی بن جائیں۔ اپنے ملک میں توڑ پھوڑکر نے کے بجائے اس کے مدعی بن کر قرآن کے پیغام کو پھیلائیں۔

قرآن کے ترجمے، تلاوت کو نئی نسل تک پہنچانا ہی اس کا طاقتور جواب ہے۔ بجائے، اپنے عوام، اپنے ملک کا نقصان کریں۔ چپ نہیں رہنا چاہیے۔ بھرپور انداز میں بولیں۔ تاکہ حکمرانوں پر دبائو بڑھے۔ اس وقت او آئی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔