جان لیوا مہنگائی ختم کرو

162

21 جنوری لاہور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مہنگائی مارچ تھا جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی کیونکہ اشیاء خورو نوش کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ نرخوں کی اس بڑھوتی نے سب سے زیادہ سیخ پا خواتین ہی کو کیا ہے جنہیں شوہروں کی طرف سے ملنے والی ایک مخصوص رقم میں چھان پھٹک کر خریداری کرنی پڑ رہی ہے اور کھینچ تان کر بھی اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔ اکثر خواتین کو پاکستان کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہیں تو صرف وہی حکمران اچھا لگے گا جس کے دور میں اشیاء کا نرخ نامہ بلندیوں کی سیڑھی سے اتر کر نیچے کی طرف ریورس گیئر لگائے گا۔ مہنگائی مارچ میں خواتین کے ہاتھوں میں پکڑے گئے بینرز پر جو جملے تحریر تھے ان جملوں سے مہنگائی کے خلاف ان خواتین کے دلوں کے کرب کی عکاسی ہو رہی تھی۔ یہ جملے حسب ذیل تھے۔
’’ظالم حکمرانو! ہمیں جینے کا حق دو‘‘۔ ’’ہمارا مطالبہ جان لیوا مہنگائی ختم کرو‘‘۔ ’’آٹا کی مصنوعی قلت ختم کرو‘‘۔ ’’چکن کی قیمت کم کرو‘‘۔
ویسے تو ہمارے ہر حکمران نے ہمیں ہر زمانے میں اپنے دور اقتدار میں مہنگائی کا تحفہ ضرور دیا ہے لیکن ملک میں دو تین سال سے مہنگائی کے طوفانی جھکڑ کچھ زیادہ ہی چل رہے ہیں۔ میں جس اسٹور میں گروسری کے لیے جاتی ہوں، اس میں اب میں اکثر دیکھتی ہوں کہ زیادہ تر لوگ جو ظاہری طور پر مالی حیثیت میں اچھے بھلے معلوم ہوتے ہیں وہ پھل، سبزیاں، دال، چاول اور چینی لینے کے لیے ان ریکس کے گرد جمع ہوئے ہوتے ہیں جن کے نرخ حکومت کے مقرر کردہ ہوتے ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتیں اسٹور کی اپنی مقرر کردہ قیمتوں سے چند روپے کم ہوتی ہیں لیکن کوالٹی میں کافی فرق ہوتا ہے۔ حالانکہ پہلے میں نے ان ریکس کے گرد اتنے لوگ کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اب اس مہنگائی کے عفریت نے ظاہری طور پر آسودہ حال نظر آنے والے لوگوں کو کھانے پینے میں بھی ہلکی کوالٹی کی چیزیں خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ کے لیے دودھ، انڈے، گوشت تو خواب و خیال ہی بن رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے بچوں کو بھی اپنی جسمانی بڑھوتی کے لیے کیلشیم، پروٹین اور وٹامنز کی ایسے ہی ضرورت ہے جیسے کہ اس ملک کے ارباب اختیار کے بچوں کو ضرورت ہے۔ حالیہ دور میں پاکستان کے معیشت دان، سیاستدان، پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خوراک مہنگائی کو روکنے اور اشیاء خورو نوش تک عوام کی آسان رسائی کے لیے، سب ناکام نظر آ رہے ہیں۔ معیشت درست کرنے کی ان کی ساری تدبیریں بے اثر جارہی ہیں۔ قومی خزانے خالی پڑے ہیں۔ اثاثے بک رہے ہیں۔ ملک قرضے کی مصیبت میں بری طرح جھکڑا جا چکا ہے۔
اس ملک کے ارباب اختیارو! آئیے موجودہ مصیبت زدہ اور پر آشوب صورتحال سے نکلنے کے وہ طریقے اپنائیں جو ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی ہمارے مذہب نے ہمیں سکھا دیے تھے۔ جن میں سب سے پہلا نمبر اپنی معیشت سے سود کا خاتمہ کرنا ہے۔ جو مرضی کرلیں جب تک سود ختم نہیں ہوگا برکت کبھی ہمارا مقدر نہیں بنے گی۔ حالیہ معیشت میں پوری دنیا دیکھ لیں جنہوں نے اپنی شرح سود زیادہ کی انہوں نے کھوکھلی معاشی بنیاد رکھی۔ دوسری طرف ترکی نے جب اپنی شرح سود کم کی تو بے شک ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا کی قدر 45 فی صد سے زیادہ گر گئی جو کافی زیادہ کمی ہے لیکن شرح سود کم ہونے سے ترکی میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ سرمایہ کار اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے لگے۔ ترک اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی مالیت پچھلے سال 150 فی صد بڑھ گئی اور اس طرح ترکی کی اسٹاک مارکیٹ دنیا میں سب سے زیادہ منافع بخش اور بہترین قرار پائی۔ اگر شرح سود کم کرنے میں اتنا فائدہ ہوسکتا ہے تو سود کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کس قدر فائدہ ہوگا۔ دوسرے نمبر پر ناپ تول میں کمی ہے آپؐ نے فرمایا: ’’جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی ظلم و زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں‘‘۔ (ابن ماجہ)
اب ذرا ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔ ناپ تول میں کمی کا مرض ہمارے معاشرے میں کس قدر سرایت کر چکا ہے۔ جب مرض اتنا زیادہ ہے تو قحط، معاشی تنگی اور حکمرانوں کا ظلم و زیادتی ہمارا مقدر کیوں نہ بنتا۔ ابن ماجہ کی اس حدیث مبارکہ کے مطابق تیسری بات یہ ہے کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالی آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کر دیتا ہے۔ وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور اللہ نے جو نازل کیا ہے انہیں اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالی ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔
اگر ہم مذکورہ حدیث مبارکہ کی تعلیم پر غور و فکر کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ کیا ہماری عدالتوں میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہوتے ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق گزار رہے ہیں اور ان میں باطل کی کتنی ملاوٹ کرتے ہیں؟۔ کیا ہم پاکستانی آپس میں میں ٹوٹ پھوٹ اور اختلافات کا شکار نہیں ہو چکے ہیں؟ کیا ہم پر اپنے لوگوں کے علاوہ دشمن کے لوگ مسلط نہیں ہو چکے؟ آئی ایم ایف اور مغرب اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ کیا ہم بارشوں کی کمی کا شکار نہیں ہو چکے؟ کہ زراعت کے لیے پانی کی کمی کا کس قدر ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی پسماندہ معاشی صورتحال کے خواص اور عوام سب ذمے دار ہیں۔ آج ہم سب پاکستانی مسلمان اسلام کا صرف ٹیگ لگا کر پھر رہے ہیں۔ اس کٹھن اور جان لیوا معاشی صورتحال سے نکلنے کا صرف واحد راستہ اسلام کو اپنا دین بنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے میں ہی ہے ورنہ عالم میں نہ عزت ملے گی، نہ رزق رہے گا، نہ سکون رہے گا، ظالم اور نالائق عہدے داران و حکمران ہم پر مسلط ہو کر ہمارا مقدر بنے رہیں گے جو ہمارے حصے کا سب کچھ ہڑپ کر کے اپنی تجوریاں بھریں گے اور ہمارے حصے میں محتاجی، بھوک و افلاس، ذلت و رسوائی، مفلسی و قلاشی ہی چھوڑیں گے۔