ابھی درِ توبہ کھلا ہے

189

شاہِ وقت کو بشارت ہوئی کہ فلاں شخص کو اپنے دربار میں کسی بڑے عہدے پر فائز کر دو بادشاہ بہت حیران ہوا اور عرض کیا کہ حضرت وہ بہت بدنام اور گنہگار بندہ ہے شاہی عہدے کا اہل کیسے ہو سکتا ہے، جواباً کہا گیا کہ شاہی دربار سے وابستہ کر کے عشرت کہہ خسرو کا مکین بنایا جارہا ہے کہ توبہ نہ کر سکے کیونکہ درِ توبہ انسان کی آخری سانس تک کھلا رہتا ہے اور توبہ قبول نہ کرنا شانِ خداوندی کے خلاف ہے، ہم جب بھی اپنے حکمران طبقے کے بارے میں سوچتے ہیں یہ روایت یاد آجاتی ہے میاں نواز شریف، شہباز شریف کی شدید خواہش اور عزیز و اقارب کی سفارش کے باوجود اپنے چھوٹے بھائی کو وزیر اعظم کی مسند پر جلوہ افروز کرنے کے خلاف اور پھر حالات نے ایسی کروٹ لی کہ میاں شہباز شریف کے لیے وزارت عظمیٰ کی راہ اتنی ہموار ہو گئی کہ وہ آنکھیں بند کر کے بھی وزیر اعظم کی مسند پر براجمان ہو سکتے تھے مگر میاں نواز شریف نے اس موقع پر بھی شدید مخالفت کی لیکن جب ملک کی بہت سی سیاسی پارٹیوں نے چھوٹے میاں کی وزارت عظمیٰ کو وقت کا تقاضا قرار دیا اور اس اقدام کو حب الوطنی پر مبنی قرار دیا تو بڑے میاں بھی مجبور ہو گئے اور شہباز شریف کی امید بر آئی مگر وزارت عظمیٰ ایسی دلدل ثابت ہوئی جس میں میاں شہباز شریف دھنستے ہی چلے جارہے ہیں، گزشتہ دنوں موصوف نے ایک خطاب کے دوران انکشاف کیا کہ اقتصادی طور پر ملک اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ دوست ممالک بھی قرض دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہیں، قرض مانگنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے کہ انکار کر دیا گیا تو رہی سہی آبرو بھی ختم ہو جائے گی، کافی سوچ بچار کے بعد انہوں نے ایک دوست ملک سے مزید قرض طلب کیا اور یہ وضاحت بھی کی کہ قرض مانگتے ہوئے انتہائی ندامت محسوس کررہے تھے مگر مجبوری یہ آن پڑی کہ اگر قرض نہ لیتے تو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن دینا بھی ناممکن ہو جاتا، ان کی بپتا سن کر دوست ملک کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان ہمارا بڑا بھائی انکار کیسے کیا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف مذکورہ بالا روایت کا کردار لگتے ہیں، یہاں ہمیں وہ بچی یاد آرہی ہے جسے کہا گیا تھا تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو تو بچی نے کہا تھا کہ میں خوبصورت لگ نہیں رہی میں خوبصورت ہوں، میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ اب قرض مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔ شرم آنا بھی چاہیے، اپنا قرض وصول کرنے کے بجائے قرض مانگنا ایک شرمناک عمل ہے میاں صاحب آپ ہزاروں ارب ڈالر کے حصول کے لیے صاحب دل ممالک کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے ہیں حالانکہ ملک میں ایسے افراد کی کمی نہیں جن پر کھربوں روپے کا قرض واجب الادا ہے مگر آپ قرض وصول کرنے کے بجائے قرض دینے والوں کی تلاش میں ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ حکمران کوئی بھی ہو سیاستدانوں، صنعت کاروں اور دیگر بااثر و بااختیار شخصیات کے ذمے جو واجب الادا قرض ہے اسے وصول کیوں نہیں کرتے آخر ایسی کیا مجبوری ہے، جو قرضہ وصول کرنے کی راہ میں حائل ہے، المیہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں ایسا کوئی ادارہ اور میکنزم ہی نہیں جو قرض ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر سکے، یہ کیسا نظام ہے جس میں ہزاروں روپے تو معاف نہیں کیے جاسکتے مگر اربوں روپے یک جنبش قلم معاف کر دیے جاتے ہیں۔
یادش بخیر ایک سابق وزیر اعظم کسی ملک سے قرضہ لینے گئے تو یہ کہہ کر قرض دینے سے انکار کر دیا گیا کہ جس ملک کا سربراہ قرض لینے کے لیے سیکڑوں افراد کا وفد لے کر آئے اسے قرض دینا حماقت کے سوا کچھ نہیں، اور یہ حماقت بھی قابل غور ہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ زہر کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں، مگر آئے دن وہ اپنی کابینہ میں اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں۔
یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں جب ایک عورت جنرل ضیاء الحق کی کار کے آگے آکر خودکشی کا ارتکاب کرنا چاہتی تھی، جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ وہ گاڑی کے نیچے کیوں آنا چاہتی تھی، تو یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ وہ ایک سابق سرکاری ملازم کی بیوہ ہے اس کے شوہر نے مکان کی تعمیر کے لیے ہائوس بلڈنگ فنانس سے قرض لیا تھا تاکہ بچوں کو سرچھپانے کے لیے چھت فراہم کر سکے مگر قرض کی مکمل ادائیگی سے قبل اس کا انتقال ہو گیا، پنشن میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہ قرض ادا کر سکے، قرضہ معافی کی کئی درخواستیں دی گئیں مگر قرض کو ناقابل معافی قرار دے دیا گیا، اور اب یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ قرض کی ادائیگی نہ کی گئی تو مکان نیلام کر دیا جائے گا۔
جنرل ضیاء الحق نے بقایا قرض کی رقم جو 50ہزار روپے تھی معاف کرنے کا وعدہ کر لیا مگر کوشش کے باوجود وہ قرضہ معاف نہ کرا سکے، اس معاملے میں متعلقہ شخصیات سے مشاورت کی گئی تو بتایا گیا کہ قرض معاف نہیں کیا جاسکتا، البتہ آپ صوابدیدی اختیارات سے 50ہزار روپے بیوہ کو دے سکتے ہیں، جنرل صاحب نے بقیہ رقم ادا کر کے بیوہ کی جان تو چھڑا دی مگر جنرل صاحب اس حیرت سے جان نہ چھڑاسکتے، کہ کسی سرکاری ملازم کے مرحوم ہونے کے باوجود بھی اس کے ذمے قرض کی رقم ادا کرنا ضروری ہوتا ہے مگر پچاس ارب روپے کا قرضہ معاف کر دیا جاتا ہے کہ یہی قانون کا تقاضا ہے، مگر یہ قانون بنایا کس نے ہے؟ اور اس پر عملدرآمد کرنے کا حکم کس نے دیا اور کیوں دیا؟ کاش میاں شہباز شریف اس حقیقت کا ادراک کر سکیں کہ قرض مانگنے سے معیشت نہیں سدھر سکتی بلکہ قومی خزانے کو خالی کرنے والوں کی تجوریاں خالی کرنے سے معیشت مضبوط ہوتی ہے۔