دماغی صحت کے حوالے سے ترقی کے اقدامات کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عارف علوی

120
challenges

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دماغی صحت کے حوالے سے وزیر اعظم آفس، وزارت منصوبہ بندی و ترقی اور ایوان صدر کے اقدامات کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک موثر مصنوعی ذہانت(اے آئی) پر مبنی ہیلپ لائن تیار کر کے ملک بھر کی زیادہ سے زیادہ آبادی کو ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں مشاورت فراہم کی جاسکتی ہے۔

صدر مملکت کی زیر صدارت دماغی صحت سے متعلق فالو اپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، عالمی ادارہ صحت، پاکستان سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن، پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی، تسکین ہیلتھ انیشیٹو کے عہدیداران اور اراکین سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ دماغی صحت کی سہولیات صحت مند معاشرے اور ملک کی ترقی کے لیے اہم ہیں،برطانیہ اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی ماہرین نفسیات کو معیاری، مستند اور پیشہ ورانہ مشورے فراہم کرنے کے لیے نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹرعارف علوی کا کہنا تھا  کہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد 2000 کے قریب ماہرین نفسیات موجود ہیں جنہیں سسٹم میں شامل کیا جاسکتا ہے،دماغی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے نظام کو صحت کے اداروں میں دستیاب موجودہ وسائل کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خودکشی کو اب پاکستان میں جرائم سے علیحدہ کردیا گیا ہے اور اسے ذہنی صحت کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، ذہنی صحت کی خدمات کو آبادی تک پہنچانے کو توجہ اور اہمیت دی جا رہی ہے، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز مالی ضروریات کا تعین تکنیکی ضرورت، ماہرین کی خدمات اور مطلوبہ ضروری فزیکل انفراسٹرکچر کو مدنظر رکھتے ہوئے کرسکتے ہیں۔