بھارت میں ڈائنوسارز کے ڈھائی سو سے زائد انڈے دریافت

516

نئی دہلی: بھارت میں ڈائنوسارز کے ڈھائی سو سے زیادہ پرانے انڈے دریافت ہوئے ہیں، جن سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ قبل از تاریخ سے تعلق رکھنے والے یہ بڑے جاندار جدید پرندوں کے جیسے گھونسلوں میں رہا کرتے تھے۔

واضح رہے کہ یونیورسٹی آف دہلی کے سائنس دانوں کی جانب سے 90 سے زائد گھونسلے نرماڈا گاؤں سے دریافت کیے گئے ہیں، جہاں سے انہیں ٹائٹینوسارس، جسے ڈائنوسارز کی سب سے بڑی نسل بھی کہا جاتا ہے، کے 256 فاسل انڈے ملے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے یہ ڈائنوسارز کے انڈے ایسے علاقے سے دریافت ہوئے ہیں جو کریٹیسئس دور یعنی ڈائنوسارز کے تقریباً آخری دور سے تعلق رکھنے والے ڈھانچوں اور انڈوں کی دریافت کے حوالے سے پہلے ہی شہرت رکھتا ہے۔

سائنسی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ ڈائنوسارز ممکنہ طور پر اپنے انڈے گڑھوں میں دبا دیتے تھے، جیسے آج مگر مچھ اپنے انڈھ گڑھوں میں دباتے ہیں۔ ٹائٹینوسارس ممکنہ طور پر آج کے پرندوں کی طرح ترتیب سے انڈے دیتے تھے۔