مہنگائی کا عفریت اور کراچی کی میئر شپ

219

بازار میں اشیاء خورو نوش کی کمی نظر نہیں آتی، سبزیوں اور پھلوں سے ٹھیلے بھرے ہوئے ہیں، لیکن ان کو خریدنے والے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں، اکثر پھلوں اور سبزیوں کے دام پوچھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، گوشت کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، لوگ سستے آٹے کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، انڈے، دودھ، ڈبل روٹی اور خوردنی تیل اور گھی کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ رمضان کی آمد میں ابھی تین ماہ باقی ہیں۔ لیکن ملک بھر میں آٹے کے بعد سستے گھی اور کوکنگ آئل کا بحران سر اٹھا رہا ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹور کو سستے آٹے، گھی، تیل کی سپلائی بند ہو چکی ہے لوگ گھنٹوں یوٹیلیٹی اسٹور پر لائین میں اس امید پر کھڑے رہتے ہیں کہ انہیں آٹے کا تھیلا یا سستے گھی اور کوکنگ آئل کا ڈبہ مل جائے گا، لیکن اسٹور پر یہ اسٹاک آتے ہی ختم ہوجاتا ہے، اور لوگ لائین میں لگے خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔
ملک میں مافیا کا راج ہے، تاجر صنعت کار، سیاست دان، بیوکریٹ سب لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تیل اور آئل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ آئل کمپنیوں کی جانب سے سپلائی میں کمی کردی گئی جس کی وجہ سے ہول سیل مارکیٹ میں گھی اور آئل میں تیزی کا رحجان ہے، یہ سب رمضان کے لیے اسٹاک تیار کرہے ہیں، جو نئی قیمتوں کے ساتھ آئے گا اور کوکنگ آئل کی قیمت میں مزید اضافے کردیا جائے گا۔
قیمتوں میں من مانا اضافہ، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، عیب چھپا کر مال فروخت کرنا، کم تولنا، کم ناپنا ہمارے معاشرے میں عام ہوگیا ہے، اب نہ کسی کو دین کا خیال ہے، اور نہ ہی دنیا کا، لوگ ڈھٹائی سے ملاوٹ کررہے ہیں، بلکہ فتویٰ بھی لیتے ہیں کہ چائے کی پتی میں ہم چھلکا ملاتے ہیں، جو مضر صحت نہیں ہے، نیز اس کا مقصد چائے کی پتی کو ذائقہ دار بنانا ہے۔ شرعی اور معاشرتی طور پر یہ برائی ہے۔ جس کی شریعت ِ مطہرہ میں کوئی گنجائش نہیں۔ آج کا تاجر اگرچہ مسلمان ہے اور اْسے ان چیزوں کی برائی کا علم بھی ہے، مگر وہ یہ سب کام کر رہا ہے۔ اْسے یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ اْس کی ملاوٹ سے عوام کا کیا نقصان ہو رہا ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے: جس کے پیٹ میں حرام کا ایک لقمہ جاتا ہے تو اس کے تمام اعضا گناہ میں ملوث ہوتے ہیں اور وہ جسم جہنم کے قابل ہے۔ یہ تاجر دیندار بھی ہیں، جبہ قبا دستار اور ڈاڑھی والے بھی ہیں، خیرات و زکوٰۃ بھی کرتے ہیں۔ لیکن حرام کما رہے ہیں۔ یہ تاجرنہ جانے لوگوں کو کیا کیا حرام اور حلال ملا کر کھلا رہے ہیں۔ بہت سے کیمیکل ایسے ہیں جن کو غذائوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ کوئی لیبارٹری نہیں جو ان کا ٹیسٹ کرے۔ کہ کون سے کیمیکل غذا یا دوسری قابل استعمال اشیا میں استعمال کرنے چاہییں اور وہ حلال بھی ہیں۔ آج کل حرام اور حلال کی ملاوٹ عام ہو گئی ہے۔ تاجروں کو ناجائز منافع کمانے کی ہوس ہوگئی ہے۔ تاجر کی جہالت بھی معاشرہ کو لے ڈوبتی ہے۔ حکمران بھی ملاوٹ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ کھلے عام رشوت کا بازار گرم ہے۔ بازاروں اور تاجروں پر حکومت کی کوئی رٹ قائم نہیں ہے۔ اس چور بازاری میں ہمارا معاشرہ بھی ساتھ دے رہا ہے۔ لوگ جانتے ہوں کہ ملاوٹ ہو رہی ہے، اس کے باوجود وہ اپنی کوشش سے تاجروں کو منع نہ کریں تو یہ لوگ بھی ملاوٹ میں کسی حد تک شامل ہیں۔ دودھ میں پانی ملایا جاتا ہے۔ اناج میں پانی، مٹی، کنکر اور روڑے ملائے جاتے ہیں۔ غذائوں میں حرام کیمیکل ملائے جاتے ہیں۔ گھی، شہد حتیٰ کہ لال مرچ تک خالص نہیں مل پاتی۔
ان گنت اشیا میں ملاوٹ ہو رہی ہے، جس میں انسانوں کی صحت دائو پر لگی ہوئی ہے۔ آج ملک میں خالص اور صاف پانی تک میسر نہیں۔ مٹھائی سے لے کر دوائی تک غلط اشیا کی ملاوٹ نے تاجروں کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔ عوام جن کے ہاتھ میں ایک اختیار ہے کہ اْن کو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ہر حال میں وہی کھانا پڑتا ہے، جو بازار میں میسر ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمان اپنے کردار میں اس قدر کمزور ہو گئے ہیں کہ زہر کو زہر جانتے ہوئے بھی کھا رہے ہیں؟ مکہ مدینہ عمرہ پر بار بار جانے والے تاجروں کے سامنے سعودی عرب کا معاشرہ بھی ہے، وہ بھی مسلمان ہیں اور ان کے ہاں نہ صرف اشیائے خوردنی سستی ہیں، بلکہ خالص بھی ہیں۔ وہاں اگر کسی جگہ سے ملاوٹ شدہ سامان آنے کی خبر ہوتی تو وہاں کے حکام ایسی برآمدات کو ختم کر دیتے ہیں اور تاجروں کو بھی سزا دیتے ہیں۔ ہمیں بھی ہر حال میں اپنے معاشرے کو ملاوٹ سے پاک کرنا چاہیے۔ لوگ علمائے کرام سے باغی ہوتے جارہے ہیں کیوں کہ وہ ان کے وقول و عمل میں بھی تضاد پاتے ہیں۔ معاشرے میں فری لائف (آزاد منش) طرز زندگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافے نے عوام کو گوشت سے بھی محروم کردیا ہے، گائے کے گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، بکرے کا گوشت تو متوسط طبقے کے لیے ایک خواب ہی ہوگیا ہے، پنجاب میں تو فوڈ اٹھارٹی کچھ نہ کچھ کارروائی کرتی ہے، لیکن صوبہ سندھ اور کراچی میں اس محکمہ کی کوئی کارروائی نظر نہیں آتی، سب کو فری ہینڈ دیا گیا ہے، کہ وہ جو چاہیں، لوگوں کو کھلائیں، جو ملاوٹ کرنا چاہیں کریں۔ یہاں ہر چیز کی رشوت کا ریٹ مقرر ہے۔ گندم کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود سندھ حکومت کی آٹے کی فراہمی میں ناکامی اور اس کی قیمت میں اضافہ اس کی پیشانی پر ایک سیاہ داغ ہے۔ رمضان میں بیسن کی کھپت بڑ جاتی ہے، اور جعلی بیسن جس میں ناقص دالیں، اور جانے کیا کیا ملایا جاتا ہے، یہ جعلی بیسن ٹنوں کے حساب سے تیار کرکے عوام کو مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ مٹھائی کی دکانوں پر قیمتیں ہوشربا حد تک بڑھ چکی ہیں۔ اس وقت انسانوں میں 70 سے 80 فی صد بیماریاں یا تو ملاوٹ والی خوراک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یا پھر ناخالص خوراک کی وجہ سے۔
پاکستان میں گردے کے امراض سے ہونے والے ہلاکتوں کی تعداد سالانہ بیس ہزار ہے۔ جبکہ تین کروڑ کے لگ شہری گردوں کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ 2021 میں سرطان سے دو کروڑ افراد متاثر ہوئے، اور ایک کروڑ اموات ہوئیں، ہپاٹائٹس میں مبتلا دو کروڑ اور دل کی بیماریوں میں مبتلا چار کروڑ ہیں۔ اِس کے علاوہ ذیابیطس، فشارِ خون اور دْوسری تکالیف کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ یہ سب ناقص خوراک کا شاخسانہ ہے۔
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے بعد مئیر شپ کے لیے تینوں جماعتوں، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، اور تحریک انصاف کے درمیان دوڑ لگی ہے۔ جماعت اسلامی کے لیے دونوں جماعتیں ایک طرف کنواں اور دوسری جانب کھائی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی شنید ہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی کی اس کامیابی کو ملکی سیاست میں ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔