بجلی کا بریک ڈائون

223

ملک بھر میں پیر کے روز صبح سے بجلی کا بڑا بریک ڈائون ہوگیا اس کے اسباب کا علم ہونے سے قبل حکومت مخالف سیاسی جماعتوں خصوصاً پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے اسے امپورٹڈ حکومت کی نالائقی پر محمول کردیا یہ اور بات ہے کہ خرابی وہی نکلی جو عموماً ایسے مواقع پر نکلتی ہے یعنی وولٹیج میں کمی یا ایک گرڈ پر زیادہ دبائو کے نتیجے میں اچانک اس کے بند ہونے سے دوسرے گرڈ پر دبائو بڑھ جانا اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ہے تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی پتا چلے گا کہ ایسا کیوں ہوا اور اب تک پاکستان میں گرڈ پر دبائو کیوں بڑھتا رہتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کی جو ضرورت ہے اس کے پاس اس سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن پاکستان ان بجلی گھروں کو چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ وہ جس ایندھن سے چلتے ہیں وہ پاکستان کے پاس وافر نہیں ہے حالانکہ ایک مرتبہ بڑی سرمایہ کاری کرکے یہ کام کیا جاسکتا تھا لیکن مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو ترجیح ہی نہیں کہ مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی کرلیں۔ سب کی منصوبہ بندی اقتدار حاصل کرنا اور اسے بچانا یا دوسرے کو نکالنے کی ہوتی ہے۔ اس سے قبل 2021 میں دس جنوری کو رات پونے بارہ بجے ایسا ہی بریک ڈائون ہوا تھا۔ ایک گرڈ اسٹیشن پر دبائو بڑھا وہ بند ہووا تو ایک ایک کرکے سارے ٹرپ ہوتے چلے گئے۔ اس سے تین برس قبل 2018 میں بھی ایسا ہی بریک ڈائون ہوا اور 2015 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا اور اب 2021 کے دو سال بعد ہی یہ بریک ڈائون ہوگیا ہے۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چین نے ون بیلٹ روڈ کے 60 ارب ڈالر کے منصوبے میں بجلی گھروں کو چلانے اور پیداوار میں اضافے کا پلان بنایا ہے لیکن اب تک پاکستان میں یہ نظام بروئے کار نہ لایا جاسکا۔ سیاسی رہنمائوں خصوصاً ان رہنمائوں سے درخواست ہے کہ وہ کسی بھی حادثے کو حکومت کی ذمے داری قرار دینے سے قبل سوچ لیا کریں کہ ان کے اپنے دور میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی معاملات پر مشترکہ ذمہ داری اور رویے کا مظاہرہ کیا جائے۔ محض الزام تراشیاں مسائل کا حل نہیں، سب مل کر عوام کو عذاب سے نجات دلائیں۔