حافظ صاحب کس طرف جائیں؟

270

سیاسی اتحاد کوئی بھی کرے لیکن مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے جیسے گناہ ہے۔ ان جماعتوں کو اتحاد کا طعنہ کثرت سے مارا جاتا ہے۔ اب جماعت اسلامی جیسی کرپشن فری دوسری پارٹی کہاں سے لائیں۔ ہم جس ماحول میں وہاں اب کرپشن فری ہے ہی کون! یہی لوگ ہیں انہی کے ساتھ کام کرنا اور چلنا ہوگا۔ عجیب لوگ ہیں اسلامی حکومتیں ریاست کے مفاد میں کفار ممالک سے اتحاد کرتی ہیں۔ یہ تو اپنے ہم مذہب ہم وطن سیاسی پارٹی سے اتحاد ہے۔ اور یہ اتحاد برا ہے نہ ہی پارٹی کو منافق ثابت کرتا ہے۔ ہم اپنے نشان پر الیکشن لڑے ہر جگہ سے لڑے کسی کے حق میں بیٹھے نہیں۔ کراچی بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی بھرپور کامیابی کے بعد سادہ اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اتحاد کی ضرورت ہے۔ بعد از نتائج حکومت بنانے کے لیے شہر کے مفاد میں سیاسی اتحاد ہرگز منافقت نہیں، اتحاد کے بغیر حکومت ممکن نہیں کسی ایک سے ہر صورت ملنا ہوگا۔ جو کم علم یہ طعنہ دیں پروا نہ کریں، اپنے لیڈر، پارٹی سے دل میلا نہ کریں۔ اپنی قیادت پر اعتماد کریں۔ حافظ صاحب وہ فیصلہ لیں گے جو آپ کے حق میں اچھا ہوگا۔ ان کا تو موٹو ہی یہ ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلو فرقہ واریت عصبیت سیاسی نفرت ختم کرو۔ اپنے شہر ملک کے لیے مل کر کام کرو۔
اب ایک طرف صوبہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی ہے۔ اور دوسری طرف پی ٹی آئی ہے۔ دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کو میری دانست میں پیپلز پارٹی کے ساتھ جانا چاہیے۔ لیکن ارے آپ میرے مشورے سے سیخ پا ہوگئے۔ دراصل پی ٹی آئی ڈوبتی جماعت لیکن اکثر جماعت والوں کی ہمدردی بھی اس کے ساتھ ہے، ویسے غیر مشروط حمایت کر کے جماعت اسلامی کو سپر پارٹی بنا چکی ہے۔ یہ جماعت ہی کی کریڈیبلٹی ہے کوئی پارٹی اپنی سیاسی حریف پارٹی پر ایسا بھروسا نہیں بنا سکی۔ اب جنہوں نے مینڈیٹ ہمارا تسلیم کیا۔ غیر مشروط حمایت کی تو ان کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ لیکن پی پی جماعت کا مئیر قبول کرتی ہے تو اس آفر پر زیادہ غور کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی صوبے کی حکمران جماعت ہے۔ کراچی کے لیے وفاقی و صوبائی فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کی اشد ضرورت ہوگی۔ چاہے اتحاد ہو یا نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ گزشتہ سال پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کراچی مئیر کے اختیارات محدود کر دیے۔ یہاں تک کہ کچرا اٹھانے کے لیے بھی مئیر کو صوبائی حکومت سے سازو سامان کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کراچی کے متعدد ادارے مثلاً واٹر بورڈ، محکمہ ٹرانسپورٹ، کے ڈی اے جیسے ادارے صوبائی حکومت کی جاگیر بنا دیے ہیں۔ اگر جماعت اسلامی پیپلز پارٹی سے اتحاد کرتی ہے تو اس سے شاید اپنی ساکھ پر بھی سمجھوتا کرنا پڑے لیکن یہ سمجھوتا کراچی کو ترقی خوشحالی کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔ یہ کراچی کے عوام کے لیے زیادہ موزوں اور بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرے اور تین سال تک حق چھیننے میں گزار دیں۔ اور کراچی کو صاف گلیوں اور دلکش ماحول کے علاوہ کچھ نہ دیں۔ صرف پی ٹی آئی کی طرف رخ کرنے میں شہر کا مفاد نہیں۔ اب جن کی ٹوٹل ہمدردی پی ٹی آئی ساتھ ہے وہ یاد رکھیں۔ ماضی میں حکومتیں بناتے وقت پی ٹی آئی تین دفعہ دھوکا دے چکی ہے۔ ہر پارٹی میں دھوکا دہی ہے۔ نہ صرف اتحادی پارٹی کے ساتھ بلکہ اپنی ہی پارٹی کے ساتھ وفاداریاں نہیں ہوتیں۔ یہ تو جماعت ہے جو بکتی نہیں اسی لیے زرداری جیسی پارٹی کو بھی بنفس نفیس آفر لے کر چائے پر آنا پڑا۔ حافظ صاحب کو اپنے شہر کے لیے حکمت عملی بنانے دیں۔ ویسے لیڈر اسمارٹ اسٹرٹیجی ترتیب دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کراچی میں اتفاق رائے کی حکومت ہو دونوں جماعتوں کے اتحادی بنیں۔ حافظ صاحب دھوکے کے بدلے دھوکا نہیں دے رہے بلکہ شہر کے لیے مل کر کام کرنے کی آفر دے رہے ہیں۔ اس سے اچھا کیا ہوگا۔ پی ٹی آئی ضرور غور کرے۔