ایک کھرب روپے سالانہ کہاں جارہے ہیں؟

343

پاکستان ڈیفالٹ کررہا ہے یا نہیں۔ لیکن شہریوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر انہیں ڈیفالٹ کیا جارہا ہے۔ یہ کام نہایت آہستگی سے قطرہ قطرہ دریا بن جاتا ہے کے اصول پر کاربند رہ کر کیا جارہا ہے۔ چند برس قبل تک بینکوں سے معلومات موبائل فون پر صارف کو ایس ایم ایس کے ذریعے مل جایا کرتی تھی۔ ای میل کے ذریعے بھی مل جاتی تھی لیکن رفتہ رفتہ بینکوں میں موجود یا ان کے سروس فراہم کنندہ کے کارندوں نے بینکوں کو کمانے کی تجاویز دینا شروع کردیں تا کہ ان کی نوکریاں بھی سلامت رہیں اور بینکوں کی آمدنی بھی بڑھتی رہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کے الیکٹرک اور موبائل کمپنیاں ٹیکس کے نئے نئے طریقے گھڑ کر اور نئے نئے پیکیج متعارف کروا کر لوگوں کی جیب پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ چنانچہ بینکوں نے اسٹیٹ بینک کی رضا مندی سے فیصلہ کیا کہ اب صارف کو معلومات فراہم کرنے کے لیے خدمات پر 50 روپے ماہانہ صارف کے بینک اکائونٹس سے خود ہی کاٹ لیے جائیں گے اور یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہم نے ایک اکائونٹ کی یہ سروس بند کرانا چاہی تو بینک والوں نے کہا کہ آپ سروس سینٹر رابطہ کریں۔ سروس سینٹر پر فون کیا گیا تو اس نے کئی بار رابطہ کرنے پر بتایا کہ جس برانچ میں اکائونٹ ہے وہاں جانا ہوگا۔ وہاں گئے تو انہوں نے کہا کہ جی نہیں ہم نہیں کرسکتے۔ آن لائن ہوگا، اس پر ہم نے ان سے کہا کہ کیا ہم نے آن لائن یہ سہولت مانگی تھی۔ متعلقہ افسر فرمانے لگے کہ ہوسکتا ہے کسی بچے نے فون پر ایسا کردیا ہو۔ بالکل یہی جواب کے الیکٹرک کسٹمرز سروس سینٹر والوں نے دیا تھا کہ آپ نے خود پیپر لیس بل کی درخواست دی تھی۔ ہم نے کہا ایسا نہیں ہے تو یہی کہا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ کسی بچے نے آپ کا موبائل کھول کر ایسا کردیا ہو جس پر ہم نے ان کے سامنے اپنا موبائل رکھ دیا کہ بچہ تو چھوڑیں آپ کھول کر دکھادیں۔ تو انہوں نے مسئلہ فوراً حل کردیا۔
سوال یہ ہے کہ صارفین کی اکثریت اس امر سے ناواقف ہے کہ ان سے سروس دینے کے نام پر جو چارجز لیے جارہے ہیں وہ ان کی درخواست پر لیے جارہے ہیں۔ کم از کم بینکوں کا تو یہی دعویٰ ہے۔ ہمارے تین بینکوں میں اکائونٹس ہیں۔ فیصل بینک نے تو کہا کہ ہم کوئی سروس چارج نہیں لیں گے لیکن کچھ دن سروس دینے کے بعد سروس ہی بند کردی۔ اب وہاں سے رقم نکلوانے یا ڈلوانے کا کوئی پیغام نہیں آتا۔ جس اکائونٹ کو ہیلپ لائن کے ذریعے سروس بند کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا اس کے لیے موبائل پر ہیلپ لائن پر کال کرنے کے نتیجے میں دو ماہ کا سروس چارج تو کٹ گیا دوبارہ کئی ماہ کے سروس چارج کے برابر رقم کا پٹرول خرچ کرکے جوہر سے طارق روڈ پہنچے اور جب یہ دھمکی دی کہ اکائونٹ بند کردیتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اچھا ہم اب کوئی چارجز نہیں لیں گے۔ لیکن ذرا بینک صارف کو ڈیفالٹ کرنے کا طریقہ کار دیکھیں یہ سروس 50 روپے سے شروع ہوئی تھی پہلے تو خاموشی سے چلتی رہی لیکن پھر اچانک 70 روپے ماہانہ کاٹے جانے لگے۔ ایک بینک نے مہربانی کی کہ 70 کے بعد براہ راست 100 پر چھلانگ لگانے کے بجائے 90 یعنی نائن زیرو پر اکتفا کیا۔ بالآخر اس نے بھی بڑھا کر 100 روپے کردیے اور اب جنوری 2023ء سے یہ رقم 120 روپے کردی گئی ہے۔ یہ رقم سو دو سو یا ہزار دو ہزار لوگوں سے تو وصول نہیں کی جارہی ہے بینک اپنے تقریباً تمام ہی کھاتے داروں سے یہ رقم وصول کررہے ہیں۔ کسی نے سختی سے منع کردیا ہو یا اس کے اکائونٹ میں اتنے زیادہ پیسے ہوں کہ ان پیسوں سے بینک بہت کما لیتا ہے تو اس سے یہ 120 روپے نہیں کاٹے جارہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں رجسٹرڈ کھاتے داروں کی تعداد 6 کروڑ 61 ہزار 30 ہزار سے زیادہ ہے۔ اگر ان سب سے نہیں تو کچھ کم کرلیں کم و بیش 6 ارب روپے ماہانہ کھاتے داروں سے بلاوجہ کے وصول کیے جارہے ہیں۔ ڈالر کے ریٹ پر تو اسٹیٹ بینک کے گورنر کہتے ہیں کہ ہمیں تمام بینکوں کا علم ہے ہر ایک کی رپورٹ ہمارے پاس سے یہ باز نہیں آئے تو سخت کارروائی کریں گے۔ یہ اور بات ہے کہ نجی بینک جو کچھ کررہے ہیں اسٹیٹ بینک کی نگرانی اور مرضی کے ساتھ کررہے ہیں۔ لیکن ڈالر سے الگ ہٹ کر ماہانہ 6 ارب روپے صارفین سے اینٹھے جانے کی اجازت یقینا اسٹیٹ بینک نے دے رکھی ہے۔ یہ سالانہ 72 ارب روپے ہیں۔ یہ ہمارا تجربہ بھی ہے اور معلومات بھی ہیں کہ بہت سے بینک کھاتے داروں سے یہ رقم وصول نہیں کی جارہی اس لیے یہ جائزہ صرف 6 کروڑ صارفین کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور رقم بھی سو روپے فی کھاتا رکھی گئی ہے۔ اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نجی بینک لوگوں سے 72 ارب روپے سے زیادہ وصول کرکے کمائی کررہے ہیں۔ یہ کمائی کہاں جارہی ہے یہ بجائے خود ایک الگ کہانی ہے۔ لیکن کیا اسٹیٹ بینک اس سے لاعلم ہوسکتا ہے، ہرگز نہیں بلکہ اس پر تو مزید کئی کھاتے کھولے جاسکتے ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ 72 ارب روپے سالانہ سے عوام ڈیفالٹ کیسے ہوجائیں گے تو ابھی پارٹی ختم نہیں ہوئی ہے۔ میرا آپ کا یا کسی کا بھی اکائونٹ بینکوں میں سے اس میں پانچ دس پندرہ ہزار روپے پڑے ہوئے ہیں کسی وجہ سے بینکوں سے چھے ماہ تک لین دین نہ ہوسکا تو اچانک بینک پہنچنے پر پتا چلتا ہے کہ آپ کا بینک اکائونٹ ڈارمینٹ یعنی غیر فعال ہوگیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صارف بینک میں پیش ہوجائے تو اس کا اکائونٹ بحال کردیا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم پہلے بھی توجہ دلا چکے ہین کہ غیر فعال اکائونٹس کی مد میں
بھی اربوں روپے بینکوں کے پاس ہیں اور بینک یہ رقم ایک مخصوص مدت کے بعد ریاست کے حوالے کردیتے ہیں۔ بڑی دلچسپ بات سننے میں اور مشاہدے میں آئی کہ ریاست یہ رقم کچھ عرصہ اپنے پاس رکھ کر اسے سڑکوں کے منصوبوں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی فلاحی کاموں پر لگا دیتی ہے لیکن یہ ریاست کے پاس قرض کی صورت میں رہتے ہیں۔ صارف جب بھی آجائے تو اسے رقم دے دی جاتی ہے۔ لیکن صارف اتنا خوش نصیب کہاں۔ ذریعہ آمدنی ٹیکس ریٹرن، کمپنی جہاں ملازم ہے وہاں کا سرٹیفکیٹ بجلی گیس وغیرہ کا بل لے کر آئو۔ جب یہ سب لے آئو تو کبھی کبھی شناختی کارڈ کا پتا پرانے والے اکائونٹ کے مطابق نہیں ہوتا۔ زیادہ عمر ہوجانے کی وجہ سے دستخط اکائونٹ والے دستخط سے نہیں مل رہے ہوتے۔ لہٰذا نادرا سے سرٹیفکیٹ لائو۔ ہمارے بھی چار پانچ ہزار روپے ریاست یا بینک کے پاس فی الحال قرض ہیں اور ہمارا اکائونٹ تو ہے بھی 1981ء کا، اس وقت کے دستخط اور آج کے دستخط میں فرق آہی جائے گا۔ ہم تو دوچار ہزار کا رونا رو کر بیٹھ گئے تھے لیکن جب یہ سننے میں آیا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کا خطرہ درپیش ہے تو ہم حساب کرنے بیٹھ گئے، ماہانہ 6 ارب کا الگ حساب کیا اور ڈارمینٹ (غیر فعال) کھاتوں کا الگ کیا جو یقینا اربوں ہی میں ہیں تو پھر ایسا ملک ڈیفالٹ کیوں ہونے جارہا ہے۔ یہ کم و بیش ایک کھرب روپے سالانہ حکومت پاکستان سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں میں نہ لگائے ڈیفالٹ کا خطرہ کم کرنے پر لگائے تو جلد ہی پاکستان اس خطرے سے نکل آئے گا اور ہاں سڑکیں، اسپتال اور اسکول جو پہلے بنے ہوئے ہیں ان کو تو چلایا نہیں جاتا اور کون سے کہاں کہاں اب تک لیے ہیں۔ یہ سارا پیسہ عوام کا ہے اسے قوم پر لگایا جائے۔