سیاست پر مسلط گروہ قومی سلامتی کیلیے ڈیتھ وارنٹ بن چکے ہیں، لیاقت بلوچ

282
death warrant

سکھر/کوئٹہ: نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں سب حکمرانوں نے اسلام، آئین اور تمام قوانین سے انحراف کیا، سیاست پر مسلط دھڑے قومی سلامتی کے لیے ڈیتھ وارنٹ بن گئے ہیں۔

آئین و قانون کی بالادستی، شفاف و غیرجانبدارانہ انتخابات ناگزیر ہیں۔ آئین و قانون اور ضابطوں کی پاسداری سے ملک خوشحال اور مستحکم ہوگا.ان خیالات کااظہار انھوں نے بلوچستان کے علاقوں  ڈیرہ مراد جمالی، جعفر آباد اور جیکب آباد، شکارپور، سکھر ( سندھ)میں شمولیت جلسہ کرتے ہوئے، سیاسی انتخابی کمیٹیوں کے ممبرز، میڈیا نمائندگان سے خطاب میں کیا جبکہ مولانا عبدالحق ہاشمی، حزبا اللہ جھکڑو، بشیر افدائی، حافظ اسماعیل مینگل، بخش مینگل، ابراہیم ابڑو، دیدار لاشاری، سلطان ایڈووکیٹ لاشاری اور حافظ نیاز بھٹی بھی ان پروگرامات میں شریک تھے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں فوجی آمروں، سیاسی جمہوری شخصی حکمرانوں نے اسلام، آئین اور تمام قوانین سے انحراف کیا. آج پاکستان بدترین سیاسی، علاقائی، اقتصادی، اخلاقی، تہذیبی، سماجی بحرانوں سے دوچار ہے. اسلام ہی ہمارے مسائل کا حل ہے، جاگیردار، وڈیرے، چوہدراہٹیں، سرداریاں، فسادات، مال و دولت کی بنیاد پر سیاست پر مسلط دھڑے قومی سلامتی کے لیے ڈیتھ وارنٹ بن گئے ہیں. آئین و قانون کی بالادستی، شفاف و غیرجانبدارانہ انتخابات اور مقتدر طبقہ اپنے آپ کو آئین و قانون اور ضابطوں کا پابند بنائے گا تو ملک خوشحال اور مستحکم ہوگا۔

ان کا کہنا تھاکہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں پی پی پی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم کے مقابلہ میں عوام نے جماعت اسلامی کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا ہے. کراچی کے عوام کا فیصلہ قبول کیا جائے، ن. اعت اسلامی کے مینڈیٹ کو زور زبردستی اور دھاندلی سے بدلنا 2023 کے عام انتخابات کے لیے تباہ کن ہوگا. حافظ نعیم الرحمن کراچی کی حقیقی قیادت اور میئرشپ کے حقدار ہیں. پی پی پی نے 15 سال سے اقتدار میں رہ کر کراچی میں سب کچھ بگاڑ دیا، جماعت اسلامی ہی کراچی کو مسائل اور مافیا سے نجات دلانے گی۔