قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

142

موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا اْنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اْنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے۔ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا او ر اْنہوں نے دیکھ لیا کہ در حقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ ’’اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے‘‘۔ (سورۃ الاعراف:148تا149)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص کسی مریض کی عیادت شام کو کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہوئے نکلتے ہیں، یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور اس کو جنت میں ایک نیا باغ ملے گا اور جو شخص کسی مریض کے پاس صبح کو آتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہوئے نکلتے ہیں، یہاں تک کہ شام ہوجائے اور اس کو جنت میں ایک نیا باغ ملے گا۔ (ابو داؤد)