مغربی ممالک کے ہتھیار چاندی سے نہیں بنے، نیٹو کمانڈر

201
Weapons

برسلز: نیٹو کے سینئر کمانڈر نے کہا ہے کہ یوکرین کے لیے مغربی ملکوں کا اسلحہ چاندی کی گولیاں نہیں ہیں۔مغربی ملکوں کا یوکرین کو فراہم کیا گیا اسلحہ روسی اسلحے سے زیادہ موثر ہے۔ مغربی ٹیکنالوجی روس سے جدید تر ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق نیٹو کے ایک سینئر کمانڈر جنرل کرسٹوفر کیوائل نے اس امر کا اظہار ایک نیٹو اجلاس میں اس وقت کیا جب ایک ممبر ملک کی طرف سے کہا گیا کہ جرمنی پر دباو ہے کہ جرمنی اسے لیپرڈٹوقسم کے ٹینک دے تاکہ وہ روس کو پیچھے دھکیل سکے۔

جنرل کرسٹوفر یورپ میں نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر کے طور پر تعینات ہیں۔ ان کا کہنا تھا ‘مغربی ٹیکنالوجی روسی اسلحے سے بہتر ہے۔نیٹو ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل راب باور نے کہا کہ اگر روسی ٹینکوں سے لڑ رہے ہیں تو یوکرین کو بھی ٹینکوں کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ اپنی زمین واپس لے سکنے کی خواہش کے مطابق روسی ٹینکوں کو پیچھے دھکیل سکیں۔

ایڈمرل راب باور نے مزید کہاکہ روس کی طرف سے ممکنہ طور پر یوکرین کے خلاف موسم بہار میں بڑے حملے کی تیاری جاری ہے۔ کیونکہ یوکرین کیبارے میں روسی مقاصد تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ نیٹو اتحادی یوکرین کی مدد کے لیے یہ اس کی ضرورت کے مطابق مدد کرنے کے لیے تیاری کرتے ہیں۔