تہران اور دمشق سے منی لانڈرنگ کیلئے عراق بطور پناہ گاہ استعمال ہوا، امریکا

160
money laundering

واشنگٹن :  امریکی حکام نے کہا ہے کہ عراق کو تہران اور دمشق کے لیے منی لانڈرنگ کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی اور عراقی حکام نے کہا ہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک نے نومبر 2022 میں عراقی کمرشل بینکوں کے ذریعے بین الاقوامی ڈالر کے لین دین پر سخت کنٹرول نافذ کرنا شروع کیا۔ اس اقدام کا مقصد منی لانڈرنگ کو روکنا اور ایران اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے لیے غیر قانونی طور پر ڈالر کی ضبطی کوروکنا اور پابندیوں کی خلاف ورزی کے خلاف سخت سزاں کا نفاذ تھا۔ اس اقدام سے عراقی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد تک گر گئی کیونکہ ڈالر میں بین الاقوامی لین دین پر کنٹرول لاگو کیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے امریکی اخبار سے گفتگومیں مزید کہا کہ عراق کو تہران اور دمشق کے لیے منی لانڈرنگ کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا کیونکہ عراق سے باہر جعلی رسیدوں کی بنیاد پر ڈالروں میں رقم نامعلوم افراد کو منتقل کی گئی۔ بینکاروں نے تصدیق کی کہ عراق میں داخل نہ ہونے والی اشیا کے لیے ڈالر میں رسیدیں تیار کی گئی ہیں۔

امریکی حکام کا مقصد بد نیتی پر مبنی جماعتوں کو عراقی بینکوں کو استعمال کرنے سے روکنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق عراق میں نقدی کی منتقلی کے کنٹرول کا مقصد تہران کو سمگلنگ کو روکنا ہے۔