جماعت اسلامی کا جلسہ اظہار تشکر: شہر قائد کی رونقیں بحال کرنے کا عزم

213

کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے تحت بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد جلسہ اظہار تشکر کا انعقاد کیا گیا، جس میں رہنماؤں اور کارکنوں نے شہر قائد کی رونقیں بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ماضی میں قائد کے شہر کی خوبصورتی کو عصبیت کا گرہن لگا دیا گیا تھا، تاہم ہم عروس البلاد کی رونقیں بحال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تعصب پر مبنی نعروں کے پیچھے چھپی سازش نے کراچی کو برباد کردیا، تعلیمی اداروں میں اسلحہ لانے کا الزام جمعیت پر لگایا گیا، بتائیں آج تک ہم نے کس گولی کا جواب گولی سے دیا ہے؟ ہم نے ہمیشہ نفرت کا جواب محبت سے دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمیں اس شہر کی رونقیں بحال کرنی ہیں، ہم بلدیاتی انتخابات میں اپنی کامیابیوں کو شہدا کے نام کرتے ہیں، ہم شہر قائد کو وڈیروں کی جاگیر نہیں بننے دیں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی کی طلبہ وطالبات کیلیے 10ہزار اسکالر شپ دینے کا اعلان کرتا ہوں، شہرکو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنائے گے، خوبصورت نعروں کے پیچھے چھپی سازش نے کراچی کو برباد کردیا۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ مستقل اور طویل جدوجہد کے نتیجے میں آج اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے، جماعت اسلامی کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، سید ابولا اعلی مودودی کا لگایا ہوا پودا آج تن آور درخت بن کر ابھرگیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کراچی شہر کی شناخت تعلیم،  کھیل، چمکتی سڑکیں ، بہترین ٹرانسپورٹ کا نظام تھا،  کراچی شہر تمام صوبوں کی ماں تھی جس نے سب کو اپنے اندر سمویا ہوا تھا، طالع آزماوں نے کراچی کو انصاف فراہم نہیں کیا جس کے نتیجے میں محرومیاں پیدا ہوئیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ شہر کراچی نے آج تاریخی کروٹ لی ہے، ، نوے کی دہائی میں فوجی آپریشن میں لوگوں کی تضحیک کی جاتی تھی،  پروفیسر عبدالغفور مرحوم نے جو لوگ مجرم نہیں تھے بلا رنگ و نسل سب کی ترجمانی کی اور سب کا ساتھ دیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ  بوری بند لاشیں اور دہشت گردی کا کلچر عام ہوا تو شہر کی تمام بڑی پارٹیاں بوریاں بستر لے کر بھاگ گئیں، ، بڑی بڑی جماعتیں شہر میں پارٹی جھنڈا لگانے سے بھی خوف زدہ ہوتی تھی اس وقت جماعت اسلامی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

انہوں نے مزید کہاکہ  جماعت اسلامی کی لڑائی، ظلم، فسطائیت، شہر کی روشنیاں ماند کرنے والوں کے خلاف تھی،  جب کے الیکٹرک کو پرائیویٹائزیش کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم نے بھرپور احتجاج کیا،  جماعت اسلامی کی جدوجہد میں گولیاں چلائی گئیں، گرفتاریاں کی گئیں، بحریہ ٹاون کے خلاف بھی کوئی پارٹی آواز نہیں اٹھاتی تھی۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ  کورونا میں بھی جماعت اسلامی گھروں سے نکل کر خدمت خلق میں مصروف رہی ہے،  سیلاب آیا تو اس وقت بھی جماعت اسلامی پیش پیش رہی اور عوام کی خدمت کرتی رہی، جماعت اسلامی عوام کی خدمت کے نتیجے میں شہریوں نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیاہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ  جماعت اسلامی نے لاکھوں بچوں اور بچیوں کی فری آئی ٹی کورسز کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے، جماعت اسلامی اور الخدمت 10 ہزار بچوں کے بیج کا آغاز کرنے جارہے ہیں، جماعت اسلامی کے کاموں کے نتیجے میں سوشل میڈیا میں زبردست تحریک چلائی گئی جسے الیکٹرونک میڈیا نے خوب سراہا۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ  جماعت اسلامی نے حقوق کراچی تحریک کا سنگ میل عبور کرلیا ہے، جماعت اسلامی کا مئیر آئے گا تو شہریوں کو ان کے حقوق دلائے گا، جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی جماعت ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہاکہ  تعمیر و ترقی کا سفر کراچی سے کشمور تک جاری ہوگا، عوامی جدوجہد کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات کروائے گئے ہیں، ہم جانتے تھے کہ حلقہ بندیاں درست نہیں،  مردم شماری غلط ہے اس کے باوجود انتخابات کروانے کی جدوجہد کی،، اگر ہم حلقہ بندیوں کی درستی کرواتے تو اگلے دس سال تک انتخابات نہیں کروائے جاتے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ  کسی کو بھی  کراچی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے، جو نشستیں الیکشن کمیشن کے پاس ہیں وہ ہم حاصل کریں گے اور ری کاونٹنگ کرکے مزید نشستیں بھی حاصل کریں گے، شہر کراچی کا مئیر جماعت اسلامی کا ہوگا۔