کشمیریوں کے گھروں پر قبضہ

622

سری نگر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی جائداد اور زمینوں کی ضبطی کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی حکومت نے انسداد تجاوزات مہم کے نام پر مسلمانوں کی زمینیں اور جائدادیں چھیننا شروع کردی ہیں۔ ریونیو حکام اور ڈپٹی کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ایسی تمام اراضی کو واگزار کروائیں۔ اس اقدام کا اصل مقصد مقامی لوگوں سے زمین چھین کر غیر کشمیریوں اور غیر مسلموں کو دینا ہے تا کہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جائے۔ یہ وہ حربہ ہے جو برطانیہ نے فلسطین اور عرب علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد یہودیوں پر مشتمل ریاست اسرائیل کے ذریعے عالم اسلام کے قلب میں خنجر گھونپ کر استعمال کیا تھا۔ کشمیر کا مسئلہ بھی برطانیہ کا پیدا کردہ ہے، جس نے تقسیم ہند کے فارمولے کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے اُکسایا، گورنر جنرل کی حیثیت سے قائداعظم نے برطانیہ کی وارث پاکستانی فوج کے انگریز کمانڈر کو کشمیر میں فوجی کارروائی کا حکم دیا جس کی فوج کی قیادت نے حکم عدولی کی۔ جس کے بعد مقبوضہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ اسی مسئلے نے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ اس عرصے میں بھارتی حکومت کشمیریوں کے دل و دماغ کو فتح کرنے میں تو ناکام ہوئی لیکن جبروظلم کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس کی تماشائی عالمی برادری بنی رہی۔ اب بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے گھروں پر بھی قبضہ کرکے جبر و ظلم کی انتہا کردی ہے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی و سفارتی اور فوجی ذرائع استعمال کریں لیکن بھارت سے دوستی کے نام پر کشمیر کو نظر انداز کرنے کی خبریں سامنے آہی جاتی ہیں۔ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا غیر قانونی عمل کیا اس پر نمائشی احتجاج کیا گیا جبکہ اسی عرصے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کشمیری مسلمانوں کو کچلنے کے مشن کے ذمے دار اجیت دوول سے دبئی میں مذاکرات کرتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں کو پاکستان فروخت کرنے کی آزادی حاصل ہے؟