سعید غنی کا  سیلاب کے بعد 80  فیصد علاقوں سے پانی نکالنے کا دعویٰ

169
سعید غنی کا  سیلاب کے بعد 80  فیصد علاقوں سے پانی نکالنے کا دعویٰ

کراچی:وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم وزیر بعد میں ہیں، انسان پہلے ہیں۔ سندھ میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے بعد 80  فیصد علاقوں سے پانی نکال دیا گیا ہے، صوبے کے ہر شخص جتنا کام کر سکتے تھے کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا مجھ سمیت تمام وزرا، پارٹی کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور عہدیداران سڑکوں پر عوام کے ساتھ تھے۔ یہاں یو این کا سیکرٹری جنرل آگیا ۔

لیکن عمران خان نہیں آیا، ٹیلی تھون کے پیسے آپ نے سندھ کے لوگوں کو کہاں دئیے ہیں، آج تک کوئی ایک روپے کا حساب نہیں آیا ہے۔

یہ پراپرٹی کھا گئے ہیں، گھڑیاں کھا گئے ہیں، جو آدمی تحفے کا خیال نہ کرسکتا ہو وہ سندھ اور اس ملک کا کیا خیال رکھ سکتا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سندھ اسمبلی اجلاس تحریک التوا پر بحث پر اپنے خطاب کے دوران کیا۔

سعید غنی نے کہا کہ یہ تحریک التوا سیلاب متاثرین کے حوالے سے لائی گئی لیکن افسوس کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سیلاب متاثرین کے حوالے سے باتیں نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ باتیں مان جاتے ہیں یہ قدرتی آفت تھی، پھر آپ کی بے تکی باتوں کا کوئی جواز نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ذمہ داری دی گئی کہ میرپور خاص جائیں، اسی طرح تمام وزرا،  پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں اور پارٹی کے عہدیداروں کو بھی پارٹی چیئرمین کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ذمہ داریاں دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں جب سیلابی ریلا آرہا تھا، اس کے راستے میں بڑی بڑی عمارتیں زمین بوس ہوئی، ہم نے نہیں کہا اس ذمہ داری عمران خان پر ہے یا اس صوبے کی حکومت کی ذمہ دار ہے، اگر اس پر ہمیں قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے تو ہم گناہ گار ہیں تو وہ بھی گناہ گار ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم پر تنقید کریں ہمیں بتائیں کیا کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مانتے ہیں اتنے گھر کبھی نہیں ٹوٹے ہیں، 14 لاکھ مکانات ٹوٹے ہیں۔ 6 لاکھ مکان متاثر ہوئے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ لوگوں کی توقع ہوتی ہے اور ہم اس کو پورا کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں، سعید غنی نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت مسائل حل نہیں کرسکتے ہیں ، آپ کو ہمیں سراہنا چاہیے۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں یو این کا سیکرٹری جنرل تو آگیا لیکن عمران خان نہیں آیا ، آپ مختلف شہروں جاتے ،عمران خان کسی شہر نہیں گیا ہے۔ صوبہ تمام سڑکوں پر لوگ بیٹھے ہوئے تھے، آپ کہتے ہیں کیا کچھ نہیں ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ 80 فیصد علاقوں سے پانی نکال دیا ہے، صوبے کے ہر شخص جتنا کام کر سکتے تھے کیا، ہمارے ساتھ الخدمت، جے ڈی سی اور دیگر این جی اوز نے کام کیا ہے، آپ نے جہاں جہاں کام کیا اس کو بھی مانتے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم وزیر بعد میں ہیں، انسان پہلے ہیں ، انہوں نے خود کچھ نہیں کیا ، سعید غنی نے سوال کیا کہ ٹیلی تھون کے پیسے آپ نے سندھ کے لوگوں کو کہاں دئیے ہیں ، آج تک کوئی ایک روپے کا حساب نہیں آیا ہے۔

یہ پراپرٹی کھا گئے ہیں، گھڑیاں کھا گئے ہیں، جو آدمی تحفے کا خیال نہ کرسکتا ہو وہ متاثرین کا کیا خیال کر سکتا ہے۔

سعید غنی نے اپنے خطاب میں مزید کیا کہ عمران خان اگر کسی مرنے والے کے گھر پر گیا ہے تو وہ جرنلسٹ خاتون کے گھر پر گیا، جبکہ نعیم الحق کے جنازے پر نہیں گئے بلکہ اس کے بچوں کو وزیر اعظم ہاس بلا کر تعزیت کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم چور راستوں سے نہیں آتے، آپ کے راستے بند ہورہے ہیں،اس لیے آپ کی چیخیں نکل رہی ہیں ، آپ لوگوں نے نیوٹرل لفظ کو گالی بنا دیا۔ اس لیے وہ ان کو سہولت دینے کے لیے تیار نہیں ۔

سعید غنی نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب ان کو بتائیں استعفی دینے کا طریقہ کیا ہے ،ان کو اب یہ نشستیں ملنے والی نہیں ہیں، کراچی میں جو ضمنی الیکشن ہوا ہے، اس کے نتائج سے یہ بخوبی واقف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے چیمہ اچھا تھا ، چیمہ نے 70 ہزار ووٹ لیے، عمران خان نے 50 ہزار ووٹ لیے ۔

سعید غنی نے کہا کہ کسی بھی شخص کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر نہیں ہونی چاہیے، اعظم سواتی ہو یا کوئی اور ہو ، لیکن یہ بھی تو بتایا جائے کہ محسن بیگ کے خلاف کس نے کیا بنایا ۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم نے ہر وقت انسانی حقوق کی بات کی ہے، اس ملک کے کسی آزاد صحافی کو انہوں نے نہیں بخشا ہے، آپ چاہتے تھے کہ الیکشن کمیشن ، عدلیہ اور میڈیا میری خواہش پر چلے ، یہودی ، بھارتی پیسے آپ کو دیں، انہوں نے فنڈنگ کس کو دی ہے ۔

یہ بھی عوام کو بتائیں کہ عمران خان نے کس کے لیے کمپئن چلائی، اس کا بینیفشری کون تھا، سعید غنی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ عمران نازی اس ملک کے لئے سیکورٹی تھریڈ ہے، عمران نازی چاہتا ہے پاکستان نہ چلے ، اس نے جو زہر نوجوانوں میں گھولا ہے وہ بھی سب کے سامنے عیاں ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ہمیں سیاسی نظام اور معیشت کو ان سے بچانا ہے، یہ کہتے ہیں کہ اس ملک پر ایٹم بم مار دیں ، ہم لعنت بھیجتے ہیں ایٹم بم مارنے والے پر، یہ کہتے تھے ملک کے ٹکرے ہو جائیں گے، انشااللہ ان کے ٹکرے ہو جائیں گے, اس ملک کو کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا ہے، جس نے کہا اس ملک کے تین ٹکرے ہوں گے، اس پر لعنت ہو۔

  سعید غنی نے کہا کہ پہلے وہ کہتے تھے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئے گی، پھر کہا کہ میں نے شکرانہ ادا کیا اور جب یہ تحریک کامیاب ہوئی تو پھر کہتے ہیں امریکہ کی سازش ہے، اس شخص نے جس آدمی پر الزام لگایا اس کو امریکی سفارت خانے میں تقریب میں مدعو کیا جاتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ جب یہ حکومت ختم ہورہی تھی اور عمران نازی کو یقین ہوچکا کہ وہ اب جانے والا ہے تو اس عمران نازی نے بارودی سرنگ بچھا آکر گیا، انہوں نے آئی ایم ایف کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے پاکستان کی معیشت کے خلاف سازش کی، پاکستانی معیشت کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھائیں گئی، یہ لوگ پاکستان کو ڈبونا چاہتے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ اب عمران نازی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ماضی بن چکا ہے، یہ جو سارے لوگ یہاں اسمبلی میں بیٹھیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا یہ دوسروں کے دروازے کھٹکھٹائے گے لیکن ان کو کوئی لینے والا نہیں ہوگا، سعید غنی نے کہا کہ جو آدمی گھر نہیں چلا سکتا ہے وہ ملک نہیں چلا سکتا ہے۔