بٹ خیلہ، ٹوٹئی میں مجوزہ تحصیل ہیڈ کوارٹر کا قیام مسترد

165
۔18 دیہات کے مشران نے ٹوٹئی میں مجوزہ تحصیل ہیڈ کوارٹر کے قیام مسترد کردیا

بٹ خیلہ:اگرہ کے 18 دیہات کے مشران نے ٹوٹئی میں مجوزہ تحصیل ہیڈ کوارٹر کے قیام مسترد کردیا، مجوزہ مقام پر تحصیل ہیڈ کوارٹر کے قیام سے عوام کو سہولت کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا، صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ فیصلہ پر نظر ثانی کریں ورنہ اس سے علاقہ میں خونریزی شروع ہوگی جس کی تمام تر ذمہ د اری متعلقہ حکام پر ہوگی تحصیل ہیڈ کوارٹر بٹ خیلہ میں قائم کی جائے ۔

ان خیالات کا اظہار اگرہ کے 18 قصبات کے مشران نور حسن خان، نصیب گل، امروز خان، اسماعیل، وزیر رحمان، سید با علی خان، شیر ملا خان، وکیل خان، نیک زمین ، مقبولا خان، حاجی نواب ، بخت شیروان اور ساذملا خان نے دیگر عمائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوںنے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوںنے اتمان خیل کے لیے الگ تحصیل کا اعلان کردیا ، مگر اب بعض افراد نے جھوٹے کاغذات تیار کرکے تحصیل ہیڈ کوارٹر ٹوٹئی میں قائم کرنے کی سازش کررہے ہیں جہاں ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی نہیں ، ڈومیسائل کی تصدیق کے لیے بھی سائلین کو تین چار ہزار روپے پرٹیکسی گاڑی لے کر جانا پڑیگا، جو لوگ ٹوٹئی میں اسے قائم کررہے ہیں وہ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے جھوٹے دستاوزیات کا سہارالے رہے ہیں۔

اس لئے صوبائی حکومت ضلعی انتظامیہ اور مقامی ایم این اے ، ایم پی اے حقائق کو دیکہ کر اس فیصلہ پر نظر ثانی کریں اور تحصیل ہیڈ کوارٹر کو بٹ خیلہ میں قائم کیا جائے بصورت دیگر اگرہ کے عوام اس کے خلاف شدید احتجاج کریں گے جس سے علاقہ میں خونریز تصادم کا خدشہ ہے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائید ہوگی ۔