سفاک رنگ بازیاں

438

پاکستان کو زبردستی کے جس ہائبرڈ سسٹم سے گزارا گیا اس کے نتائج کسی کے لیے بھی خوش کن نہیں نکلے۔ اس نظام کے تخلیق کار، منصوبہ ساز اور کردار سب نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ آج سب مضمحل ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل باجوہ کی آرزئوں اور سازشوں کی وہ خود اور یہ ملک اور اس کے عوام بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ عدالتوں کے عظیم محافظین، ہمارے معزز جج صاحبان اس انجینئرنگ میں اسٹیبلشمنٹ کے ہم قدم تھے۔ جسٹس شوکت صدیقی اور جج ارشد ملک کے بیانات اس بانجھ تجربے کے واضح ثبوت ہیں۔ اب تو عمران خان بھی اعتراف کرتے ہیں کہ نیب پر ان کا اختیار نہیں تھا وہ عسکری قیادت کی گرفت میں تھی۔ عسکری اداروں اور ان کی منتخب سیاسی حکومت کی ناکام خود کشی کا یہ وہ عمل تھا جس میں سب سے گہرے گھائو ملک کو لگے۔ معیشت زمین چاٹنے لگی، روپے کی قدر میں تباہ کن گراوٹ آئی، دوست ممالک سے تعلقات نقطہ ٔ انجماد کو چھونے لگے اور مہنگائی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
ایک پیج کی تکرار نے جن بدنامیوں اور رسوائیوں کو جنم دیا جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید ان میں ہر جگہ موجود تھے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ یہی دو افراد اسمبلیوں اور قانون ساز اداروں اور خود حکومت کو چلارہے تھے۔ ان کوششوں کو کہیں اور کسی بھی مرحلے میں چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی جس کا نقصان فوج کو بحیثیت ادارہ ہوا۔ جس بدنامی کی بھاری قیمت وہ چکا رہی ہے۔ ہمارے جنرل کبھی اس طرح بے عزت نہیں ہوئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے عمران خان اتنا بڑا بوجھ ثابت ہوا جسے کمر سے اتار پھینکنا بھی ادارے کو ہلاکر رکھ گیا۔ ان کی انا، نااہلی اور بے حدوحساب کرپشن نے اس ہائبرڈ نظام کو تو زمین بوس کیا ہی کیا، اس کے تخلیق کاروں کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا۔
مستقبل میں فوج کی سول حکومت کے معاملات میں عدم مداخلت اور اپنی سرگرمیاں ادارے کی حدود کے اندر رکھنا ایک بہتر حکمت عملی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز نے فوج کو اس فیصلے تک پہنچانے کی شروعات کی تھیں جنہوں نے نام لے کر چند جنرلوں پر کھل کر تنقید کی تھی بعد میں عمران خان اس تحریک کو میر جعفر، میر صادق، نیوٹرل، جانور، غدار اور غیر ملکی ایجنٹ کی سطح تک لے گئے۔ پچھلے برس فروری سے بہت سوچ بچار کے بعد کیا گیا یہ فیصلہ وقتی مصلحت اور عارضی پسپائی ہے یا پھر مستقل اصول! یہ کہنا بہت مشکل ہے۔ فوج صرف سیاسی معاملات تک نہیں معاشی، داخلی اور خارجہ معاملات میں بھی مداخلت اپنا غیر محدود حق سمجھتی آئی ہے۔ کیا وہ ان معاملات سے بھی دستبردار ہو جائے گی؟ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اگر سویلین حکو مت دیگر اداروں کی طرح فوجی بجٹ میں کٹوتی کرنا چاہے گی تو کیا اسے اس کی اجازت ہوگی؟ کیا دفاعی بجٹ کی تفصیلات بھی پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی؟ کیا سول حکومت کو بلوچستان میں جاری آپریشنز میں مداخلت کا حق دیا جائے گا؟ کیا لاپتا افراد کے بارے میں سول حکومت کو اعتماد میں لیا جائے گا؟ بھارت اور امریکا سے تعلقات کیا سول حکومت کی صوابدید پر چھوڑے جا سکیں گے؟
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پچھلے سال فروری سے سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کے دعوے کو مونس الٰہی کے اس انکشاف سے بہت دھچکا پہنچتا محسوس ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ نے ق لیگ کو پنجاب میں عمران خان کی حمایت کرنے کا کہا تھا۔ ایک طرف باجوہ صاحب کا سیاست سے علٰیحدہ رہنے کا بیان اور دوسری طرف چودھری پرویزالٰہی کو پی ٹی آئی کی مدد کرنے پر راغب کرنا اگر یہ سچ ہے تو عدم مداخلت کی پالیسی پہلے مرحلے میں ہی فراڈ ثابت ہوجاتی ہے لیکن ایسا ہے نہیں۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے یہ جنرل باجوہ نہیں جنرل فیض حمید تھے جنہوں نے کسی سے ٹیلی فون کال کے ذریعے یہ پیغام چودھری پرویز الٰہی تک پہنچایا تھا۔ اگر باجوہ صاحب ایسی کوئی کوشش کرتے تو وہ ایم کیو ایم اور باپ پارٹی کو بھی اس سمت اشارہ کرتے۔ مونس الٰہی کا یہ بیان دراصل مستقبل میں باجوہ صاحب کو پی ٹی آئی کے تندو تیز حملوں اور گالم گلوچ سے بچانے کی کوشش ہے جس کا آغاز ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع کو یوم نجات اور یوم تشکرسے منسوب کرکے اور اگلے ہی دن مسرت چیمہ نے لاہور میں جنرل باجوہ کے کردار پر انتہائی قابل اعتراض جملے کس کر کیا تھا۔
مونس الٰہی کے انٹرویو کو اسمبلیاں توڑنے کے عمران خان کے دعوے کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے جس میں وہ پی ٹی آئی پر شدید تنقید کرتے اور اس سے فاصلہ اختیار کرتے نظر آرہے ہیں۔ احتجاجی سیاست میں ناکامی اور لانگ مارچ کے فلاپ ہوجانے کے بعد عمران خان کو لوگوں کی توجہ اپنی ناکامیوں کی طرف سے ہٹانے کے لیے کسی دوسرے ایشو کی ضرورت تھی۔ یہ خان صاحب کی ایشو اور چلتا ہوا بیانیہ تخلیق کرنے کی عظیم مہارت تھی جس نے انہیں پنجاب اور پختون خوا اسمبلیاں توڑنے کی راہ دکھا ئی ورنہ ہر طرف حقیقی آزادی مارچ کی ناکامی کے تجزیے اور نوحے گونج رہے ہوتے۔ اسمبلیوں سے استعفے دیے گئے اور نہ سمری بھیجی گئی بس ایک پٹاخہ چھوڑ دیا گیا۔ اگر خان صاحب کو واقعتا ایسا کرنا ہوتا تو پہلے اپنے وزرائے اعلیٰ کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 112 کے تحت گورنر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری بھیجتے اور پھر اعلان کرتے۔ یہ ایک ایسا ہی ڈراما تھا جیسے ڈرامے تخلیق کرنے کے خان صاحب ماسٹر ہیں۔ اس اعلان سے خان صاحب کو توقع یہ تھی کہ ملک میں مزید عدم استحکام آئے گا اور حکومت جلدازجلد اگلے انتخابات کا اعلان کرے گی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا البتہ دو دن بعد خان صاحب نے ہی اپنے اس اعلان سے پسپائی اختیار کرلی۔
عمران خان جلدازجلد اگلے انتخابات چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں جتنی زیادہ تاخیر ہوگی اتنا ہی کھیل ان کے ہاتھ سے نکلتا چلا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے چوروں اور ڈاکوئوں سے مذاکرات کا عندیہ بھی دیا ہے جو ان کے تمام یوٹرنز کی ماں باپ ہے۔ جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے وہ عمران خان پر کسی بھی طرح کا ترس کھانے اور انہیں فیس سیونگ دینے کے لیے تیار نہیں۔ اگلے دنوں میں پی ٹی آئی کے رہنمائوں اور خود عمران خان کے خلاف مقدمات میں تیزی آئے گی۔ اور پیارے قارئین اس تمام جمہوری کھیل تماشے میں آپ کے لیے کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ان رنگ بازیوں سے معیشت کو جو نقصان پہنچے گا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی اور مہنگائی کا بوجھ آپ کو اٹھانا ہے۔