چین میں احتجاج کی لہریں

396

ہمارے پہلو میں عوامی جمہوریہ چین میں حکومت کی زیرو کوویڈ پالیسی کے خلاف ردعمل میں احتجاج پھوٹ پڑا ہے جو چین کی حکومت اور انتظامیہ کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ یہ مظاہرے کئی بڑے شہروں تک پھیل گئے ہیں۔ ان مظاہروں کو غیر معمولی نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہروں کو چینی صدر شی چن پنگ کی پالیسیوں کے خلاف ردعمل قرار دیا جارہا ہے۔ شی چن پنگ کچھ ہی روز قبل نئی میعاد کے لیے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں صدر شی چن پنگ کے حوالے سے کئی متضاد خبریں آتی رہیں جن میں ان کی نظر بندی کی افواہیں بھی شامل ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ چین میں ان خبروں اور افواہوں کو ہوا دیتے رہے۔ ان خبروں کی تردید کے لیے صدر شی چن پنگ کو کئی روز بعد منظر عام پر آنا پڑا۔ اس کے بعد کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے احتجاجی مظاہروں کے لیے ایندھن کا کام دیا۔ حکومت مخالف کئی مظاہروں میں صدر شی اور کمیونسٹ پارٹی سے اقتدار سے الگ ہونے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ اس وقت بیجنگ، شنگھائی اور ووہان جیسے بڑے شہروں میں عوام کا احتجاج زوروں پر ہے۔ یہ چینی حکومت کو گزشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والا سب سے بڑا احتجاج ہے۔
ماضی میں جب سوویت یونین کا انہدام ہورہا تھا تو مشرقی یورپ میں ہونے والا احتجاج چین کی حدود میں بھی داخل ہوگیا تھا اور یوں چینی حکومت کو مظاہرین کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے محابا استعمال کرنا پڑا تھا۔ حکومت نے بیجنگ کے ریڈ اسکوائر میں نوجوانوں پر ٹینک چڑھا دیے تھے۔ اس وقت بھی کہا جارہا تھا کہ علاقے میں پیدا ہونے والے حالات کی طرح چینی مظاہرین کو بھی مغربی ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس بار تو چینی حکام نے ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا مگر امریکا سمیت کئی مغربی ممالک چین میں مظاہرین کی حمایت میں رطب اللسان ہیں۔ چین نے اس رویے کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا ہے۔ چین کی حکومت تاحال ان مظاہروں کو کنٹرول نہیں کر سکی۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ طلبہ کو گھروں کو بھیج کر مظاہروں کی شدت کم کرنا چاہتی ہیں اور حکومت گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کے روایتی طریقوں کا استعمال کر رہی ہے۔
چین میں کوویڈ ایک بار پھر زوروں پر ہے اور صدر شی چن پنگ نے کووویڈ کی روک تھام کے لیے سخت پالیسی اپنا رکھی ہے۔ اس کے لیے لاک ڈائون سے کام لیا جا رہا ہے اور مسلسل لاک ڈائون سے لوگوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ چین میں پہلے ہی نوجوانوں میں بے روزگاری کا گراف بڑھ رہا ہے اور لاک ڈائون سے کئی نئے معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں بالخصوص کاروباری طبقات کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین میں 1949 سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے اور اس پارٹی پر مظاہروں کو روکنے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ حالیہ احتجاج کا آغاز دنیا کی سب سے بڑی آئی فون فیکٹری سے ہوا جہاں انتظامیہ نے تشدد سے کام لیا۔ اس احتجاج کو کوویڈ کے خلاف سخت پالیسی کے دوران کئی بے تدبیریوں سے ہوا ملتی جا رہی ہے جن میں چند دن قبل سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں ایک عمارت کے اپارٹمنٹ میں آتش زدگی کا واقعہ بھی شامل ہے۔ اس واقعے میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے اور انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو گھروں میں بند رکھنے کی وجہ سے جانیں نہ بچائی جا سکیں اور اس حادثے سے عوام بپھر کر سڑکوں پر نکل آئے۔ سنسر شپ کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سے واقعات کی تفصیلات پھیل رہی ہیں۔ عوام بھی اپنا غصہ سوشل میڈیا کیے ذریعے ظاہر کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ چینگڈو کے علاقے میں آنے والا زلزلہ ہے۔ اس زلزلے کے دوران لوگوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا گیا۔ اس دوران ساٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چین کوویڈ پابندیوں کے حوالے سے 2020 سے باہر آنے کو تیار نہیں جبکہ دنیا نے کوویڈ پر قابو پا نے کے بعد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ چین میں جاری پابندیاں عوام کی گھٹن میں اضافہ کر رہی ہیں عوام چینی ویکسین کے غیر موثر ہونے کا گلہ بھی کر رہے ہیں۔ صفر کوویڈ کی پالیسی کا اثر منڈیوں پر بھی پڑا ہے۔ اس بے چینی نے احتجاج کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔
چین ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور اس کی ترقی کئی عالمی اور علاقائی قوتوں کو گوار ا نہیں۔ چینی حکومت کو اس نازک صورت حال کا مقابلہ حکمت اور تدبر سے کرنا چاہیے اور ایشیا کی صدی کے خواب کی تعبیر میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا کام آسان بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ چین ایران پاکستان اور افغانستان میں ایک بے چینی اور ہیجان ایک لمحہ ٔ فکر بھی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ ان ملکوں کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتا ہے۔