آنکھ ،کان اور ناک

330

صرف پاکستان ہی نہیں، ریاست کی سلامتی کے امور نبھانے کے لیے دنیا بھر کے ہر ملک میں خفیہ ادارے کام کرتے ہیں، یہ سب ادارے قانون کے تابع ہیں، پاکستان کی تاریخ 1947 سے 1956 تک کی کہانی ایک ایسا باب ہے جسے ہم اگل سکتے ہیں نہ نگل سکتے ہیں، اس کے بعد اکتوبر 1958 آجاتا ہے جسے ہمارا ذہن تسلیم کرتا ہے اور نہ ہم اسے اپنی تاریخ سے باہر نکال سکتے ہیں، ایواب خان جاتے ہیں تو یحییٰ خان آجاتے ہیں، ٹائیفائیڈ بخار کی ایک نشانی ہوتی ہے جاتا ہے تو جسم میں کوئی نہ کوئی کمزوری اور خامی پیدا کرکے جاتا ہے لہٰذا یحییٰ خان گئے تو ہم مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 1947 سے 1971 تک بھی ہمارے پاس ہماری آنکھ، ناک اور کان کا درجہ رکھنے والے ادارے تھے، تاہم نہ جانے وہ کیا حالات تھے کہ ہم ریت کی مانند اپنے ہاتھ سے پھسلتے ہوئے مشرقی پاکستان کی نبض نہ سمجھ سکے، یحییٰ خان کے بعد ملک بھٹو صاحب کے حوالے ہوا، جنہوں نے ایک قومی سلامتی کے ادارے میں سیاسی ونگ کی بنیاد رکھی، عدالت عظمیٰ میں اصغر خان کیس کی سماعت ہوئی تو عدلیہ نے بہت زور لگایا کہ اس کا نوٹیفکیشن پیش کیا جائے، تب آصف علی زرداری، بھٹو صاحب کے داماد، ایوان صدر میں تھے، یہ نوٹیفکیشن نہ ملا۔
1948 سے 1950 تک کرنل سید شاہد حامد ہماری آنکھ ناک اور ناک تھے، انہی کے دور میں بانی پاکستان کی وفات ہوئی، ایمبولینس کہاں خراب ہوئی، کیوں خراب ہوئی، خراب ہوئی یا نہیں، یہ حقائق سامنے نہیں آئے، ان کے بعد 1950 سے 1959 تک بریگیڈئر رابرٹ کیٹتھوم نے یہ محاذ سنبھالا، ان کے دور میں ایوب خان اقتدار میں آئے۔ 1959 سے 1966 تک بریگیڈئر ریاض حسین آئے، یہ ایک سابق وزیر اعظم کے سسر ہیں، 1966 سے دسمبر 1971 تک میجر جنرل محمد اکبر خان آئے، راولپنڈی سازش کیس ہمارے ملک کی تاریخ کا بہت مشہور کیس ہے، انہیں اس کیس سے الگ کرکے دیکھا جاسکتا ہے اور نہ سمجھا جاسکتا ہے۔ 1971 سے 1978 تک جناب غلام جیلانی اس منصب پر آئے اور نواز شریف انہی کی دریافت ہیں، 1978 سے 1979 میں محمد ریاض خان آئے اور ان کے بعد 1979 سے 1987 تک جنرل اخترعبد الرحمن آئے، جہاد افغانستان ان کی پہچان بنا، 1987 سے 1989 تک جنرل حمید گل آتے ہیں ان کے دور میں ضیاء الحق کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا، اور جلال آباد کا محاصرہ ناکام ہوا۔ 1989 سے1990 تک شمس الرحمن کل آئے، انہیں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اس منصب پر لائیں، 1990 سے 1992 میں جنرل اسد درانی آئے، 1992 سے 1993 تک جنرل جاوید ناصر آتے ہیں، افغان جہادی راہنمائوں کے باہمی معاہدوں کے یہ عینی شاہد ہیں۔ 1993 سے1995 تک جنرل جاوید اشرف قاضی آئے، یہ دور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین سخت کشمکش کا دور تھا، 1995 سے 1998 تک جنرل نسیم رانا اس منصب پر آئے۔ یہ دور کارگل جنگ کا تھا، 1998 سے1999 تک جنرل ضیاء الدین بٹ آئے یہ دور نواز شریف اور پرویز مشرف کے مابین ملاکھڑے کا دور تھا۔ 1999 سے 2001 تک جنرل محمود آئے، نائن الیون کے بعد انہیں ہٹادیا گیا، 2001 سے 2004 تک جنرل احسان الحق، اب بہتر یہی ہے کہ عمران خان اپنی کتاب لکھیں اور ہمیں بتائیں کہ جنرل احسان الحق کے ذریعے حکومت میں ہٹائے جانے کے بعد ایوان صدر میں کس سے رابطہ ہوا؟
2004 سے 2007 تک جنرل اشفاق کیانی آئے انہی کے دور میں بے نظیر بھٹو کا جنرل مشرف سے رابطہ ہوا، 2007 سے 2008 تک جنرل ندیم تاج آئے اسی دور میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی ہوئی اور لیاقت باغ میں ان کے قتل کا المناک حادثہ ہوا، 2008 سے 2012 تک جنرل احمد شجاع پاشا اس منصب پر رہے، 2012 سے2014 تک جنرل ظہیر السلام ہماری آنکھ کان ناک بنے، 2014 سے 2016 تک جنرل رضوان اختر آتے ہیں، 2016 سے 2018 تک جنرل نوید مختار آتے ہیں، یہ نواز شریف کے دور پار کے عزیز بھی تھے، 2018 سے 2019 تک جنرل عاصم منیر آئے، 2019 سے 2021 تک جنرل فیض حمد دوسری بار ہماری ریاست کی آنکھ کان اور ناک بن کر آتے ہیں، اور ان کے بعد ندیم احمد انجم ہیں، یہ پورا ایک نظام ہے، یہاں آنے والا ہر کردار ہماری ریاست کی آنکھ کان اور ناک ہے۔
جنرل فیض حمید اب فوج سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، دو سال تک خاموش رہنے کے پابند ہیں، ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ کوئی کتاب لکھیں، انہیں افغانستان میں چائے پیتے ہوئے یاد رکھا جائے گا، تحریک لبیک کا دھرنا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اس دھرنے پر فیصلہ، اس کے بعد صدر عارف علوی کی منظوری سے قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر ، سینیٹ انتخابات، صادق سنجرانی کا انتخاب، اپوزیشن کے 64 ارکان کا اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ہاں کہنا اور رائے شمارے کے وقت میں پردے میں 14 کا ناں کہنا، سینیٹ انتخاب میں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینا اور ایک پیج کی کہانی، اس کتاب کے اہم باب ہوسکتے ہیں۔