بلدیاتی انتخابات سے فرار کے نتائج

239

کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے سندھ حکومت کے مسلسل فرار کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت سندھ صوبے کے بلدیاتی اداروں پر کنٹرول تو رکھتی ہے لیکن جن لوگوں کے ہاتھ میں معاملات ہیں وہ یا تو اس کے اہل نہیں یا ایماندار نہیں جس کی وجہ سے کام مسلسل خراب ہورہے ہیں۔ چند روز قبل روزنامہ جسارت نے خبر شائع کی تھی کہ بے ہنگم ترقیاتی کاموں کی وجہ سے پورا شہر ادھڑا پڑا ہے کہیں متبادل راستہ نہیں دیا گیا جس کے بعد حکومت نے کچھ علاقوں میں متبادل سڑکوں پر کارپیٹنگ کردی لیکن باقی سارے کام اسی طرح ہورہے ہیں۔ انتہائی مصروف شاہراہ کو دن اور شام کے اوقات میں اچانک بند کرکے اوورہیڈ برج کے لیے بیم بنائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔ ٹریفک کو ٹوٹی پھوٹی سڑک پر منتقل کردیا جاتا ہے پیر ہی کے روز اخبار جنگ کی خبر ہے کہ بارش سے تباہ سڑکوں کی مرمت چھ ماہ گزرنے کے باوجود نہیں ہوسکی۔ ستمبر میں جن سڑکوں کی کٹنگ کی گئی تھی ان کی مرمت بھی اب تک نہ ہوسکی جبکہ دو ٹائونز کو ملانے والی سڑکوں کی مرمت کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آسکا۔ شہریوں کے مقدر میں دھول مٹی گڑھوں میں گاڑیوں کا گرنا اور موٹر سائیکل سواروں میں کمر کی ہڈیوں کی بیماریاں ہی رہ گئی ہیں۔ صوبائی حکومت بلدیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ صحت اور امن و امان کے مسائل بھی پیدا کررہی ہے اسے جرائم پیشہ افراد اور گروہوں کے لیے سہولت کار سمجھا جائے یا صرف نااہلی۔ صوبائی حکومت سے اگر معاملات نہیں سنبھل رہے تو زبردستی چمٹے رہنے کے بجائے بلدیاتی انتخابات کروائے اور منتخب قیادت کے حوالے اختیارات کردے۔