قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

234

دونوں بول اٹھے، ’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘۔ فرمایا، ’’اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے‘‘۔ اور فرمایا، ’’وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا‘‘۔ اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں۔ (سورۃ الاعراف:23تا26)

آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص نے کہ سعد ؓ پانچ باتوں کا حکم دیتے تھے اور انہیں نبی کریم ؐ کے حوالہ سے ذکر کرتے تھے کہ نبی کریم ؐ ان سے پناہ مانگنے کا حکم کرتے تھے کہ: اللہم انی اعوذ بک من البخل، واعوذ بک من الجبن، واعوذ بک الی ارذل العمر، واعوذ بک من فتنۃ الدنیا یعنی فتنۃ الدجال واعوذ بک من عذاب القبر ’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوںبخل سے، اس سے کہ بدترین بڑھاپا مجھ پر آ جائے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ سے، اس سے مراد دجال کا فتنہ ہے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔ ‘‘ .(بخاری)