خواتین کےلئے تشدد سے پاک معاشرے کا قیام

183

ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام کانفرنس

مغرب نے اپنے پیدا کردہ تشدد کے خاتمے کی کوشش کے لیے خواتین کے تحفظ کے نام پر مختلف سرگرمیاں ترتیب دی ہیں۔ اس میں ایک دن خواتین پر تشدد کے خلاف آگہی دینے کے لیے بھی منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ خواتین بھی معاشرے میں عزت و احترام کی مستحق ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی، ظلم و زیادتی کرنا درست نہیں۔ ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اس حوالے سے آگہی بڑھانے کی غرض سے مقامی ہوٹل میں ایک خواتین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کا عنوان ”خواتین کے لیے تشدد سے پاک معاشرے کا قیام“ تھا۔ کانفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین مہمانان نے شرکت کی جن میں آدم جی گروپ سے انجم آدمجی، نزہت شیریں، اکرم خاتون، رفیعہ تاج، ملکہ خان، درشہوار، حمیرہ اطہر و دیگر شامل تھیں۔ کانفرنس کی نظامت ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کی نائب صدر حمیرا قریشی نے انجام دی۔

کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی صوبہ سندھ کی وزیر برائے ترقی نسواں شہلا رضا نے خصوصی شرکت کی اور ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کے کاموں کو سراہتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا ایسا تاثر نہیں بننا چاہیے کہ جہاں خواتین پر کوئی تشدد ہوتا ہے، کسی مذہب میں خواتین پر تشدد کی اجازت نہیں۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ خواتین کے حقوق، تحفظ اور مقام کے لیے کوشاں رہی ہے، اب تک 24 سے زائد قوانین بنائے گئے ہیں، ہم خواتین کی معاشی خودانحصاری کو فوکس کیے ہوئے ہیں، خاتون کو مفتوحہ نہ سمجھا جائے، اس کے لیے خواتین کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا۔ سندھ حکومت پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام کے تحت 20 لاکھ خاندانوں کی بلاسود قرضوں سے مدد کررہی ہے۔

ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کی مرکزی رکن رومیصہ زاہدی نے موضوع سے متعلق کئی یورپی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس موضوع پر ہمیں مستقل آگہی دینے کی ضرورت ہے، خواتین کے اسلام میں، خاندان میں، معاشرے میں مقام کو جاننے کی ضرورت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کو گڈریے کی مانند قرار دیا اور خاتون کو گھر کی سپروائزر کہا جس پر اس سے جواب دہی ہوگی۔ خیر خواہی کو عورت کی فطرت میں رکھا گیا ہے، جو اپنے گھر اور بچوں کا نقصان برداشت نہیں کرسکتی۔ اسلام کی تعلیمات کی غلط تعبیرات پیش کرنے سے مسائل بڑھتے ہیں۔

نجمہ اعوان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ قانون کی بالادستی ایک وسیع موضوع ہے، ملکی قوانین سب کو معلوم ہیں، ان پر عمل کون کرے گا؟ اس کا تعین مشکل ہوچکا ہے۔ ادارے خود قوانین پر عمل سے بھاگتے ہیں۔ دنیا میں کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے تو اندھے نہیں ہوتے۔ پاکستان میں قانون کی جگہ طاقت و سرمائے کی حکمرانی نظر آتی ہے، تشدد کے خاتمے کے لیے قوانین کے نفاذ پر کام کرنا ہوگا۔ کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ کئی مسائل ہوتے ہیں جن کے لیے کمیٹی نہیں بنائی جاتی۔ ذہنی و جسمانی ہراسمنٹ کا ہر سطح پر سدباب کرنے کے لیے قوائد پر عمل کرنا ہوگا۔

سینئر خاتون صحافی شہربانو نے قوانین کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی ایسا عمل جو آپ کو عدم تحفظ کا احساس بھی دے تو وہ ورک پلیس ہراسمنٹ کہلاتا ہے۔اس کے بدلے خواتین کو ذہنی، مالی، پیشہ ورانہ تناظر میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ ابھی تک 2010ء کے قانون پر ہی عمل درآمد نہیں ہوسکا، 2022ء میں مزید ترمیم ہوئی۔ ترمیم پڑھنے میں بہت اچھی ہے، مگر عمل کی کوئی صورت کہیں نظر نہیں آتی۔ 2022ء میں ہراسمنٹ کی تعریف کو وسیع کرایا گیا، یہاں تک کہ ورک پلیس کی بھی سادہ تعریف کرکے ہر جگہ کو ورک پلیس قرار دے دیا گیا، یہی نہیں بلکہ اگر وہ جگہ جہاں سہولیات آپ کے مطابق نہ ہوں تو بھی آپ اس پر احتجاج کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ’ہراسر‘کی تعریف میں ٹرانس جینڈر کو بھی شامل کرلیا گیا، اس کے بعد محتسب کی کئی کمیٹیاں بنیں مگر کوئی اجلاس نہیں ہوسکا۔

جامعہ کراچی کے شعبہ جینڈر اسٹڈیز کی چیئرپرسن ڈاکٹر اسماء منظور نے فیصلہ سازی میں خواتین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہاکہ اسلام نے مرد کو قوّام بنایا، جس کا مطلب مددگار اور تحفظ دینے والا ہے، مگر خواتین کو مشورے سے باہر نکال دینے کا نہیں کہتا۔ خواتین کے تحفظ کا بھی مرد ہی ذمہ دار ہے، مگر ایسا نظر نہیں آتا۔ نبی کریم ﷺ بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ مشورے فرماتے تھے، پھر خلیفہ اول بھی اپنی بیٹی سے معاملات میں مشورہ فرماتے تھے۔ ہمیں گھر سے لے کر اداروں تک قانون سازی سے زیادہ تربیت سازی کی ضرورت ہے، بڑوں کا ادب اور ان کا تربیتی مقام بحال کرنے سے ہی یہ کام شروع ہوگا۔ ہمیں بیٹی کو بھی ایک دائرے میں فیصلہ سازی کا اختیار دینا ہوگا تاکہ ذمہ داری کا احساس پیدا ہوسکے۔ لڑکی کو تعلیم مکمل کرنے کے مواقع دیئے جانے چاہئیں، کونسلنگ کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم بیٹھ کر مسائل کا حل نکال سکیں۔ ویمن اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ کا مقصد یہی تھا کہ ذہنی تربیت کی جائے اور ایک خاتون کے مسئلے کو بھی حل کرکے اس کو ماڈل بناکر معاشرے کو راہ دکھائی جائے۔

ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کی صدر طلعت فخر نے اختتامی خطاب میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ خواتین اس موضوع پر سنجیدہ فکر رکھتی ہیں اور اصلاح احوال چاہتی ہیں، اس کام کے لیے ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ مستقل کام کررہا ہے۔ پاکستان میں لوئر مڈل کلاس کی لڑکیوں نے وی لاگنگ کے ذریعے پیسہ کمانے کی جانب جو قدم بڑھایا ہے وہ اب ان کو مینٹل ڈس آرڈر کی جانب لے جارہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کام کی جانب ان کے والدین نے ہی انہیں دھکیلا۔ والدین کی تربیت کی کمی ہی آج معاشرے میں غالب مسئلے کے طور پر نظر آتی ہے۔ کانفرنس کے مقاصد یہی تھے کہ ہم اپنے دین اور اقدار کی روشنی میں اپنی اولاد کی تربیت کریں تاکہ پورے معاشرے میں اعلیٰ تہذیبی اثرات مرتب کرسکیں اور ایسا نمایاں فرق دنیا کے سامنے لا سکیں کہ عورت کا حقیقی تحفظ اور مقام صرف دین اسلام یعنی اپنے خالق کے احکامات کو اپنانے میں ہی ہے۔