سیلاب کے بعد بحالی اور تعمیر نو کیلیے مزید عالمی امداد کی ضرورت ہے، وزیر خزانہ

147
no money

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے کہاہے کہ پاکستان تباہ کن سیلاب کے تناظر میں اقوام متحدہ کی جانب سے یکجہتی کا بھرپور اعتراف کرتا ہے،  تاہم پاکستان کو سیلاب کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے مزید بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز وزارت خزانہ میں ملاقات کے لیے آئی ہوئی اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل،ای ایس سی اے پی کی ایگزیکٹو سیکرٹری ارمینڈا سلسیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ، اسپیشل سیکرٹری خزانہ اور فنانس ڈویژن کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

وزیر خزانہ نے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل/ ای ایس سی اے پی کی ایگزیکٹو سیکرٹری ارمینڈا سلسیا کا خیرمقدم کیا اور اقوام متحدہ کے معاون کردار کو سراہا۔  وزیر خزانہ نے مشکل وقت میں دوست ممالک کے تعاون کی بھی تعریف کی۔ ای ایس سی اے پی کی ایگزیکٹیو سیکرٹری نے وزیر خزانہ کو فریم ورک کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر اشتراک کیا گیا کہ ایشیا پیسفک خطے میں سب سے زیادہ جامع بین الحکومتی پلیٹ فارم ہونے کے ناطے، ای ایس سی اے پی کا مقصد پائیدار ترقی کے چیلنجز کے حل کے لیے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

وزیر خزانہ کو ان شعبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جن میں ای ایس سی اے پی اس وقت پاکستان میں کام کر رہا ہے جن میں تعلیم، توانائی، سماجی ترقی وغیرہ شامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی پر خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ انہوں نے ملک کے مجموعی معاشی منظرنامے اور موجودہ حکومت کی جانب سے معاشرے کے غریب طبقے کی بہتری کے لیے کی جانے والی سماجی و اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں بتایا۔ ای ایس سی اے پی کی ایگزیکٹو سیکرٹری نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کو مکمل معاونت اور تعاون کی پیشکش کی۔