کڑے وقت میں سعودی امداد مگر ہمارا حال؟

331

تاریخ شاہد ہے کہ سعودی عرب روز اول سے ہر طرح کے حالات میں پاکستان سے سچی دوستی کا حق ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ آج جب پاکستان ایک بار پھر سابقہ ناقص معاشی اور خارجہ پالیسیوں اور حالیہ سیلاب سے ہونے والے شدید نقصانات کے سبب سنگین چیلنجوں سے دوچار ہے تو سعودی حکومت پھر پاکستان کی پشت پر کھڑی ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب سے واپسی کے بعد قوم کو یہ خوش خبری سنائی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جلد پاکستان کا دورہ کریں گے اور 12ارب ڈالر کی آئل ریفائنری کا منصوبہ ساتھ لائیں گے۔ جمعے کو پولیس سروس آف پاکستان کے 48 ویں ایس ٹی پی بیج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ وضاحت بھی کی کہ یہ وہی منصوبہ ہے جس کی پیشکش سعودی عرب نے تین سال پہلے کی تھی لیکن اس وقت کی انتظامیہ اس پر کوئی پیش رفت نہ کرسکی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ رویہ اسی ایک معاملے میں نہیں پاکستان کے لیے سعودی عرب کے پیش کیے ہوئے متعدد منصوبوں میں روا رکھا گیا۔ اس کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے انکشاف کیا کہ چند دن پہلے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کا وفد پاکستان آیا تھا اور ملاقات پر اس نے پچھلے دور کے خلاف شکایات کا پلندہ کھول دیاکہ یہ منصوبہ ہم نے 8 سال پہلے دیا تھا۔ یہ 6سال پہلے دیا تھا، ان میں ایک منصوبہ اسپتال کا بھی تھا جو بطور تحفہ دیا تھا لیکن اس پر جوں تک نہ رینگی، باقی منصوبے بہت ہی نرم شرائط پر تھے لیکن وہ سب الماری میں پڑے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی وفد کو بہت اچھے طریقے سے سمجھایا، اپنی ٹیم کے سامنے سعودی وفد سے معافی مانگی اور ان سے دو روز کی مہلت لی، وہ رکے اور دو دن بعد دوبارہ آئے تو رکے ہوئے منصوبوں کی ہر چیز مکمل تھی۔ کئی سال کا پلندہ جو گرد آلود تھا صرف 48 گھنٹے میں اس کی منظوری ہوگئی۔ موجودہ حکومت کی اس تیز رفتار کارکردگی سے وزیر اعظم کے مطابق سعودی ٹیم بھی بے حد متاثر ہوئی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی عرب کے حالیہ دورے میں بھی اس معاملے پر بات ہوئی، جس پر میں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی معافی مانگی۔ سعودی ولی عہد نے سابقہ ناقص کارکردگی کو کشادہ دلی سے نظر انداز کرتے ہوئے حالیہ ملاقات میں پاکستانی قوم کے لیے وزیر اعظم کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں جو کرسکتے ہیں۔ سعودی حکومت کے تعاون پر ماضی میں اپنائے گئے رویوں سے واضح ہے کہ ہماری موجودہ زبوں حالی میں درست معاشی حکمت عملی کے فقدان ہی کا نہیں خارجہ محاذ پر کی گئی سنگین غلطیوں کا بھی بڑا حصہ ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اسی حوالے سے کہا کہ چین اور سعودی عرب ہمارے دیرینہ دوست ہیں اور انہوں نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ہے، امریکا سے تعلقات بگاڑنے کی کیا ضرورت تھی، ہم کو دنیا میں بسنا ہے، آ بیل مجھے مار، کہاں کی پاکستانیت اور خدمت ہے۔ وزیراعظم نے کہا اگر وژن، عزم، امانت اور دیانت ہو تو ریت بھی سونا بن جاتی ہے لیکن ہم 75سال سے ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ صورت حال پوری پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکر ہے۔ قومی ترقی کے لیے ایسی سیاسی قیادت کا تسلسل ضروری ہے جو اہلیت، دیانت، عزم اور بصیرت کے ہتھیاروں سے لیس ہو، جس کی ماضی کی کارکردگی ثابت کرتی ہو کہ وہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی پوری طرح اہل ہے جبکہ یہ پاکستانی قوم کا امتحان ہے کہ وہ ایسی قیادت کو پہچانے اور ملک چلانے کے لیے اس کا انتخاب کرے۔
تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں مانگی ہوئی مچھلی پہ گزارہ کرنے کے بجائے مچھلی پکڑنا سیکھ لینا چاہیے۔ مگر ہمارے حالات تو یہ ہیں کہ ہماری قومی معیشت پچھلے کئی برسوں سے مختلف مقامی اور بین الاقوامی اسباب کی بنا پر جس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اس کے باعث مہنگائی و بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن صورت حال میں جلد بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ان اسباب میں کورونا کے بعد روس اور یوکرین کی جنگ، پٹرول اور گیس کا بحران اور پھر پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب نیز سیاسی افراتفری خاص طور پر اہم ہیں۔ مروجہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں شرح سود کو معاشی کنٹرول کا آلہ تصور کیا جاتا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہو تو شرح سود بڑھا کر مہنگائی میں کمی کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس سے معاشی سرگرمی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے جس سے قومی پیداوار گھٹتی اور کساد بازاری و بے روزگاری بڑھتی ہے۔ حالات نے ہماری قومی معیشت کو اسی کیفیت سے دوچار کررکھا ہے۔ بینک دولت پاکستان نے گزشتہ روز معاشی حلقوں کے مطابق بہت غیر متوقع طور پر شرح سود 15سے بڑھا کر 16 فی صد کردی ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کا دبائو توقع سے زیادہ رہا جو اگلے سال بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
امسال درآمدات 20.6 برآمدات 9.8 جبکہ ترسیلات زر 9.9 ارب ڈالر رہیں رواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں میں جاری کھاتے کا خسارہ کم ہو کر 2.8 ارب ڈالر پر آ گیا رواں مالی سال شرح نمو 2فی صد جبکہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 3فی صد رہنے کی توقع ہے۔ اوسط مہنگائی 21 سے 23فی صد رہنے کا امکان ہے بیرونی کھاتے کی دشواریاں برقرار ہیں بجلی کی پیداوار میں مسلسل پانچویں مہینے کمی ہوئی اور یہ 5.2فی صد تک گر گئی توانائی اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں بالترتیب 35.2 اور 35.7فی صد اضافہ ہوا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7فی صد سے بڑھ کر ایک فی صد ہو گیا۔ اعلامیے کے مطابق شرح سود بڑھانے کا مقصد مہنگائی کے رجحان کو روکنا، مالی استحکام کو درپیش خطرات پر قابو پانا اور زیادہ پائیدار بنیاد پر بلند نمو کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اور یہ کہ معاشی سست روی کے دور میں مہنگائی کو مسلسل عالمی اور رسدی دھچکوں کے سبب تحریک مل رہی ہے جس سے لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھل رہے، گیس اور بجلی کی قلت سے کارخانے بند ہورہے ہیں، زیادہ پیداواری لاگت کی وجہ سے ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں ہیں، ان حالات میں شرح سود میں مزید اضافہ معیشت کو بالکل ہی زمیں بوس کردے گا۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت کا یہ موقف حقائق کے عین مطابق ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لائق بنانے کے لیے صنعتی وکاروباری حلقوں اور ملک کے ممتاز اقتصادی ماہرین کی مشاورت سے ایسے غیرمعمولی اقدامات عمل میں لائے جائیں جو قومی معیشت کو مزید زبوں حالی سے بچاتے ہوئے استحکام کی راہ پر گامزن کرسکیں اور وزیر خزانہ کو اس مقصد کے لیے فوری پیش رفت کرنی چاہیے۔