مفت تعلیم کااعلان

290

خیبر پختون خوا کی حکومت کا بی ایس تک تعلیم مفت کرنے جبکہ تیسرے مرحلہ میں یونیفارم اور کتب کی فراہمی کا اعلان ہر لحاظ سے ایک خوش آئند اقدام ہے۔ صوبے کے سرکاری کالجوں بشمول کامرس کالجوں میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ وطالبات کو مفت تعلیم دینے کا اعلان صوبائی حکومت کا ایک ایسا انقلابی فیصلہ ہے جس کے تحت سیلاب زدہ علاقوں سمیت پورے صوبے کے طلبہ طالبات کو داخلہ اور ٹیوشن فیسیں معاف کر دی گئی ہیں۔ اس اعلان کے تحت 320 کالج کے طلبہ کو ایک سال تک فیس میں چھوٹ دی جارہی ہے جس پر حکومت کے ایک ارب روپے خرچ ہوں گے، بی ایس طلبہ کو دو سمسٹرز میں فیس کی چھوٹ حاصل ہوگی۔ جب کہ تیسرے مرحلہ میں یونیفارم اور کتب میں بھی ریلیف فراہم کر نے کی سے اندازاً دولاکھ 60 ہزار طلبہ مستفید ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے شعبہ تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طلبہ و طالبات کی تعلیم تک یکساں رسائی یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جن کے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں۔ رواں تعلیمی سال کے لیے ایجوکیشن کارڈ کا اجرا بھی انہیں کاوشوں کا تسلسل ہے جس کے تحت سرکاری کالجوں کے طلبہ وطالبات کی فیس معاف کی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے ایک ارب روپے کی خطیر رقم کا مختص کیا جانا حکومت کی تعلیم دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد طلبہ اور طالبات مستفید ہوں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ ایجوکیشن کارڈ صوبائی حکومت کا ایک منفرد اور تعلیم دوست منصوبہ ہے جو صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں حوصلہ افزا اقدام ثابت ہوگا۔ صوبائی حکومت نے محدود مالی وسائل کے باوجود معیاری اور یکساں تعلیم کی فراہمی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں تعلیمی اصلاحات کے جس انقلابی ایجنڈے پر عمل درآمد شروع کررکھا ہے توقع ہے کہ اس کے انتہائی حوصلہ افزاء نتائج جہاں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ معاشرے کی صورت میں سامنے آئیں گے وہاں اس سے ان بہت سارے غریب خاندانوں کا بھی بھلا ہوگا جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم تو دلوانا چاہتے ہیں لیکن مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ان آرزوئوں کو عملی جامہ پہنانے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر کے سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بلند کرنے اور طلبہ کو سہولتوں کی فراہمی کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات و اقدامات کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کی وجہ سے بھی اگر ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے تودوسری جانب ہماری نئی نسل کو زیادہ خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے وسیع مواقع بھی دستیاب ہورہے ہیں۔ فیسوں میں معافی کے حالیہ فیصلے سے صوبے میں موجودہ تعلیمی اداروں کا معیار بلند کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد نئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔ واضح رہے کہ صوبے میں گزشتہ چار سال کے دوران 76 کالجوں کی اپ گریڈیشن، 37 نئے کالجوں کا قیام، مختلف اضلاع میں یونیورسٹی کیمپس اور نئی یونیورسٹیوں کا قیام صوبائی حکومت کے ایسے مستحسن اقدامات ہیں جو معیاری تعلیم وتحقیق کے فروغ میں یقینا سنگ میل ثابت ہوں گے۔
یہ بات باعث اطمینان ہے کہ رواں سال اے ڈی پی کے تحت شعبہ اعلیٰ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں پر 8 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے جو موجودہ حکومت کی تعلیم دوستی کا عملی ثبوت ہے۔ حکومت کے موجودہ فراخدلانہ فیصلے کے بعد خیبر پختون خوا کے عوام اور بالخصوص نوجوان موجودہ حکومت سے بجاطور پر یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ اسکول اور کالج کی سطح پر تعلیم کو مفت کرنے کے ساتھ ساتھ اب اگلے مراحلے میں ایک ایسے تعلیمی نظام کے نفاذ پر بھی کام کا آغاز کیا جائے گا جس میں طلبہ وطالبات کی پوشیدہ فنی اور تکنیکی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کی ان صلاحیتوں کو روزگار کے لیے بروئے کار لانے جیسے اقدامات اٹھانے کوترجیح دی جائے گی۔